سورۂ ناس سے متعلق چند ارشارات و مضامین

الحمد اللّٰہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علیٰ رسولہ وحبیبہ سیدنامحمد وعلیٰ آلہ واصحابہ اجمعین ۔
اما بعد سورۂ ناس سے متعلق چند ارشارات و مضامین ہدیہ ء طلبہ کئے جاتے ہیں۔ اگر غور وفکر سے ان کو دیکھیں تو غالباً اس امر کی صلاحیت پیدا ہوگی کہ تعمق نظر سے مضامین تحریر کر سکیں :
اعوذ باللّٰہ من الشیطان الرجیم
بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم
قل اعوذ برباب الناسO ملک الناسO الہ الناسO من شر الوسوا س الخناسO الذی یوسوس فی صدور الناس O من الجنۃ والناس O
قُلْ
علمائے صرف نے تصریح کی ہے کہ ’’قل ‘‘ اجوف ہے اور ’’اجوف ‘‘اور اجوف اسے کہتے ہیں جس کے جوف یعنی بیچ میں حرف علت ہو ۔ یہاں یہ پریشا نی ہو تی ہے کہ ’’قل ‘‘ کے کل دوحرف ہیں پہلا قاف اور دوسرا لام ، اس میں جوف ہی نہیں تو جوف میں حرف علت کیسا ہے ؟ اگر بدؤوں سے کہا جائے کہ’’ قل‘‘ کے اندر تیسرا حرف ہے بھی ہے اور وہ حرف علت ہے تو باوجود یکہ وہ عرب ہیں مگر بادیہ کی رہنے والے ہیں اس کو ہر گز قبول نہ کریں گے اور یہی کہیں گے کہ ہم اپنے آباواجداد سے ’’قل‘‘کے دوہی حرف سنتے آئے ہیں یہ تیسرا حرف کہاں سے آگیا ؟ اگر ان کے مقابل میں صرفی دلائل قائم کئے جائیں تو وہ سب کا ایک ہی جواب دیں گے کہ قدوجدنا آبائٔ نا علیٰ آثارہم مقتدون یعنی : ہم نے اپنے آباء د و اجداد کو اسی پر پایا ہے اور ہم ان ہی کی پیروی کریں گے، پھر اگر کچھ زیادہ کہا جائے تو چونکہ بادیہ کے رہنے والے یعنی جنگلی ہیں ضرور لڑائی ہو جائے گی ۔ غرض کہ وہ کبھی نہ مانیں گے کہ ’’قل ‘‘ کے باطن میں بھی کوئی حرف ہے ۔
بات یہ ہے کہ سنتے سنتے اور دیکھتے دیکھتے آدمی کی نظر محسوسات پر ایسی جم جاتی ہے کہ باطن پر پڑ تی ہی نہیں ،اگر آدمی کی موت نہ ہو تی تو کبھی خیال نہ آتا کہ جان بھی کوئی چیز ہے ۔جب آدمی دیکھتا ہے کہ باتیں کر تے کرتے یکبارگی ایسی حالت اس پر طاری ہو گئی کہ دیکھنا ،سننا ،چلنا ، پھرنا ، بات کرنا ، موقوف ہو گیا اور اس قابل ہوگیا کہ زمین میں چھپا دیا جائے تو اس وقت یہ سب خیال ہوتا ہے کہ کوئی چیز اس میں ایسی ضرور تھی جس کے نکل جانے سے یہ سب باتیں جا تی رہیں ۔ اورجب تک وہ چیز اس میں تھی یہ کارخا نہ انسانیت کا قائم تھا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس ظاہر ی انسانیت کا مدار ایک باطنی چیز پر تھا ۔ پھر اس باطنی چیز کا نا م کسی نے روح رکھاکسی نے جان و غیرہ ،ہر قوم کے عقلاء جن کی نظر آثار سے ترقی کر کے موثر تک پہونچی انہوں نے اس باطنی چیز تک نظر بڑاھا کر کچھ نہ کچھ اس کا نام رکھ ہی لیا ورنہ جو لوگ بہا ئم سیرت ہیں ان کو تو اس کی بھی خبر نہیں ہوتی کہ کسی چیز کے آنے سے آدمی زندہ اور اس کے جانے سے مردہ ہو جا تا ہے ، ان کو اس تشخیص کی مصیبت اٹھا نے سے کیا تعلق ان کو توجانوروں کی طرح کھانا پینا مل گیا تو عید ہوگیٔ اور نہ ملاتو اس کی تلاش کی فکر ہے ۔
غرض کہ لفظ ’’قل‘‘ کو اجوف کہنا اور اس کے اندر ایک حرف علت کا ماننا سمجھ میں نہیں آتا تھا مگر جو عقلاء تھے انہوں نے دیکھا کہ ’’قل ‘‘ کے معنی ’’کہہ‘‘کہ ہیں جو امر کا صیغہ ہے اس میں بھی قاف اور لام ہے اور قال یقول قائل وغیرہ میں بھی یہی ولام ہیں مگر ان کے ساتھ کوئی دوسرے حروف بھی ہیں تو ان کی عقل نے گواہی دی کہ ’’قل ‘‘ میں بھی کوئی حرف ضرور تھا جو کسی وجہ سے حذف ہو گیا۔ اب انہوں نے غور کیا کہ قال میں (الف ) ہے اور قیل میں (ی) اورقول میں (واو)ان میں سے کونسا حرف اس میں ہوگا ؟پہلے اصل کو تلاش کرنے کی ضرورت ہوئی ،دیکھا کہ ماضی کے معنی ’’کہا ‘‘ اور اسم فاعل کے معنی ’’کہنے والا ‘‘ اور اسی طرح ہر صیغہ کے معنی میں کہنے کے معنی ہیںوہی اصل ہے یعنی قول اسی کو مصدر اور سب کا اصل قرار دیا ۔ اس وجہ سے کہ ایک

ایک اعتبار سے اس کے نام بدلتے گئے وہی قول خاص وضع کے لحاظ سے ماضی ، مضارع ،امر ،نہی ،اسم فاعل ، اسم مفعول ، صفت مشبہ ، ظرف ، اسم تفضیل ،وغیرہ بنتا گیا جس سے معلوم ہوا کہ مصدر ایک ایسی چیز ہے جو کہ سب میں وائر وسائر ہے ۔ چونکہ مصدر میں واو تھا اس وجہ سے یقینی طورپر حکم لگا دیا کہ قال میں بظاہر الف ہے مگر دراصل وہ بھی واو تھا ، کسی وجہ سے وہ واواس مقام خاص میں بشکل الف نما یاں ہوا ، اور قیل میں اگر چہ(ی) ہے مگر وہ بھی واو رہی تھا جوکسی وجہ بشکل (ی ) نمایاں ہوا ۔ جاہل جہاں قال میں (الف )اور قیل میں (ی) دیکھتا ہے عالم وہاں قول کا واو خیال کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ ظاہر اً کچھ بھی ہو مگر باطن میں واو ہے۔
دریافت اصل :
ہر چیز کی اصل دریافت کرنی ایک مشکل کام ہے ۔ جب تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہدایت نہ ہوکوئی اصل تک نہیں پہونچ سکتا ۔دیکھئے عالَم کی اصل یعنی موجد مقرر کرنے میں کسیے کیسے عقلاء حیران ہیں !کوئی کہتا ہے کہ اصل کچھ بھی نہیں یہ سب یوں ہی بخت واتفاق سے کام چل رہا ہے ، کوئی کہتا ہے کہ مادہ اصل ہے جس کے انقلابات سے یہ صورتیں پیدا ہو تی جا تی ہیں ۔ مگر جن کو خداے تعالی نے ہدایت دی وہ جانتے ہیں کہ یہ سب مخلوق ہیں ، جب تک کوئی مستقل وجود نہ ہو جس میں تمام صفات کمالیہ موجود ہوں مثلاً علم قدر ت ارادہ وغیرہ کوئی چیز وجود میں نہیں آسکتی ۔
مصدر کو آپ جانتے ہیں کہ ظرف ہے یعنی جائے صدور افعال ، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مصدر یعنی ’’قول ‘‘ کے اندر کل مشتقات یعنی قال یقول وغیرہ بھرے ہوئے ہیں !بلکہ مطلب یہ کہ قول ہی سے ان تمام افعال کا صدور ہوا اور باوجود یکہ قال یقول قائل وغیرہ کے اشکال باہم ممتاز ہیں ان سب کا صدور مصدرسے ہے ، جیسے کل افعال کا صدور روح سے ہو تا ہے اگر روح نہ ہوتو چلنا ہو نہ پھرنا،نہ دیکھنا نہ سننا۔ اس سے ظاہر ہے کہ کل افعال کا مصدر روح ہے یعنی جتنے افعال کی شکلیں ہمارے اعضائے ظاہری سے دیکھی جا تی ہیں (مثلاًچلنے کے وقت ہمارے جسم میں ایک ایسی ھیٔت پیدا ہو تی ہے جو بیٹھنے کے وقت نہیں ہوتی ) ان سب کا مصدر وہی روح ہے ،پھر روح بھی آخر ایک مخلوق چیز ہے جب تک مصدر نہ ہو عالم شہادت میں اس کا ظہور ممکن نہیں ، کیونکہ بغیر مصدر کے کسی چیز کا صدور وظہور نہیں ہوسکتا ۔
غرضکہ جس طرح عقلاء لفظ قل سے اس کے مصدر تک پہونچ گئے اسی طرح مخلوقات کو دیکھ کر خالق تک پہونچ گئے ۔ اور جس طرح قل کے باطنی واو کو یقنی طور پر مان لیا یہاں تک کہ اگر اس کے وجود پر قسم کھانے کو کہا جائے تو تعجب نہیں کہ عالمِ قسم کھا کر کہے کہ بے شک حرف علت یعنی واو قل میں ضرور ہے اور قل معتل ہے ۔ اسی طرح عقلمند قسم کھارکر کہے گا کہ خداے تعالیٰ جس کو ایک اعتبار سے ’’علت العلل ‘‘ بھی بھی کہہ سکتے ہیں موجود ہے گو نظروں سے غائب ہے ۔
حدیث اَ نامن نور اللّٰہ :
اب یہ دیکھنا چاہئے کہ ’’قول ‘‘ سے قل کس طرح بنا؟سو پہلے یہ معلوم کرنا چاہئے کہ زمانہ ء ماضی بہ نسبت حال و استقبال کے مقدم ہے اور مصدر بھی تمام مشتقات پر مقدم ہے ، اس منا سبت سے لازمی تھا کہ فعل ماضی مصدر سے صادر اول ہو ۔ہر چند مصدر میں کوئی زمانہ نہیں بلکہ اس کو جو نسبت ماضی کے ساتھ ہے وہی حال استقبال کے ساتھ بھی ہے ،مگر اس میں شک نہیں کہ تقدم کی وجہ سے ماضی کو اس کے ساتھ نسبت ہے وہ مضارع کو نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کوجو خاص نسبت خالق عزوجل کے ساتھ ہے دوسرے کونہیں ہو سکتی ،کیونکہ آپ صادر اول ہیں جو اس حدیث شریف سے معلوم ہوتا ہے انا من نور اللّٰہ وکل شیء من نور ی
الحاصل مصدر سے پہلا صادر فعل ماضی ہے جس میں کچھ زیادتی ہو کر مضارع بنا ۔ غرضکہ قال سے مضارع یقول بنا اور مضارع سے قل امر ، اس لئے امر میں بھی وہی زمانہ حیال اور استقبال ہے ۔ شاید تدقیق نظر سے یہاں پر یہ خیال کیا جائے کہ جس زمانے میں حکم کیا جا تا ہے اس وقت فعل وجود میں

نہیں آسکتا بلکہ اس کے بعد مخاطب اس کام کو وجود میں لاتا ہے ،اس لئے امر میں زمانہ حال نہیں ہوسکتا ۔ سوا س کو یوں دفع کرنا چاہئے کہ یہ خارجی سبب ہے کیونکہ جب تک امر کا صیغہ ختم نہ ہو لے مخالف اتثال نہیں کرسکتا ،مگر اس کووضع میں کوئی دخل نہیں ، بسا وقت متکلم کو یہ منظور ہوتا ہے کہ فوراً وہ کام کیا جائے ، اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ قصد متکلم کے لحاظ سے وہ زمانہ حال ہی سمجھا جائے گا گویا متکلم اس کو یہ کہہ رہا ہے کہ یہ کام ابھی کر ۔
غرضکہ مضارع اور امر میں مناسبت ہونے کی وجہ سے امر مضارع سے بنا یا گیا اس طورپر کہ پہلے علامات مضارع حذف کی گئی کیونکہ اب وہ امر بننے والا ہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *