زکوٰۃ کی ادائیگی کی حکمتیں

زکوٰۃ کی ادائیگی کی حکمتیں

(1)سخاوت انسان کاکمال ہے اور بخل عیب۔اسلام نے زکوٰۃ کی ادائیگی جیسا پیارا عمل مسلمانوں کو عطا فرمایاتاکہ انسان میں سخاوت جیساکمال پیدا ہواور بخل جیساقبیح عیب اس کی ذات سے ختم ہو۔
(2)جیسے ایک ملکی نظام ہوتاہے کہ ہماری کمائی میں حکومت کابھی حصہ ہوتاہے جسے وہ ٹیکس کے طور پر وصول کرتی ہے اور پھر وہی ٹیکس ہمارے ہی مفاد میں یعنی ملکی انتظا م پر خرچ ہوتاہے بلا تشبیہ ہمیں مال ودولت اور دیگرتمام نعمتوں سے نوازنے والی ہمارے ربّ عَزَّوَجَلَّ ہی کی پیاری ذات پاک ہےاور زکوٰۃ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا حق ہے ، جو ہمارے ہی غرباء پر خرچ کیا جاتاہے۔
(3) ربّ عَزَّوَجَلَّچاہتاتو سب کو مال ودولت عطا فرماکر غنی کردیتا لیکن اس کی مشیت ہے کہ اس نے اپنے ہی بندوں میں بعضوں کو امیر اور دولت مندکیا اور بعضوں کو غریب رکھااور امیروں یعنی صاحبِ نصاب پر زکوٰۃ کی ادائیگی لازم کردی تاکہ اس سے امیروں اور غریبوں میں محبت وانسیّت اور باہمی امداد کا جذبہ پیدا ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کو سب مل بانٹ کر کھائیں اور اس کا شکرادا کریں۔
(4)شریعت نے زکوٰۃ فرض کرکے کوئی انہونی چیز فرض نہیں کی بلکہ اگر ہم اپنے اطراف میں غوروفکر کریں تو زکوٰۃ کی حقیقت ہر جگہ موجود ہے۔ جیسے کہ پھلوں کا گودا انسان کے لیے ہے مگر چھلکا جانوروں کا حق ہے۔گندم میں پھل ہمارا حصہ مگر
بھوسہ جانوروں کا ، گندم میں بھی آٹا ہمارا ہے تو بھوسی جانوروں کی۔ہمارے جسم میں بال اور ناخن وغیرہ کا حدِّ شرعی سے بڑھنے کی صورت میں علیحدہ کرنا ضروری ہے کہ یہ سب جسم کی زکوٰۃ یعنی اضافی چیزمَیل ہیں۔بیماری تندرستی کی زکوٰۃ، مصیبت راحت کی زکوٰۃ ، نمازیں دنیاوی کاروبار کی گویا زکوٰۃ ہیں۔
(5) اگر ہر وہ شخص جس پر زکوٰۃ فرض ہے زکوٰۃ کی ادائیگی کا التزام کرلے تو مسلمان کبھی دوسروں کے محتاج نہ ہوں گے۔ مسلمانوں کی ضرورتیں مسلمانوں سے ہی پوری ہوجائیں گی اور کسی کو بھیک مانگنے کی بھی حاجت نہ ہوگی۔(1)
بہر حال دولت کو تجوریوں میں بند کرنے کے بجائے زکوٰۃ و صدقات کی صورت میں راہِ خدا میں خرچ کریں ورنہ یقین کیجئے کہ زکوٰۃ ادا نہ کرنا آخرت کے دردناک عذاب اور دنیا میں معاشی بدحالی کا سبب بن سکتا ہے۔آیئے ہم سب مل کراِرتکازِ دولت (Concentration of wealth)کے اس سلسلے کو ختم کرنے اور دل کھول کر راہِ خدا اورنیکی کے کاموں میں مال خرچ کرنے کی نیت کریں پھر دیکھئے گا معیشت بھی ترقّی کرے گی، لوگوں کی قوّتِ خریدبھی بڑھے گی اور معاشی نظام میں بھی خوشحالی آئے گی۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *