Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

زُہد

زُہد
یہ وصف بھی آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات مبارک میں کمال درجے کا تھا۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ ایک قوم کے پاس سے گزرے جن کے آگے بکری کا بھنا ہوا گوشت رکھا ہوا تھاانہوں نے آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو شریک طعام ہو نے کے لئے بلا یا مگر آپ نے یہ فرماکر اِنکار کر دیا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس دنیا سے تشریف لے گئے اور جو کی روٹی پیٹ بھر کر نہ کھائی۔ (1 )
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اہل بیت کبھی لگاتار دو روز جو کی روٹی سے سیر نہ ہو ئے یہاں تک کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس دنیا سے رحلت فرما گئے۔ (2 ) حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکا بیان ہے کہ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کبھی خوان پر (3 ) کھانا نہ کھایا (4 ) اور نہ بار یک روٹی تنا ول فرمائی۔ ( 5)
حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دولت خانہ میں بعض دفعہ دو دومہینے آگ روشن نہ ہوا کر تی تھی اور صرف پانی اور چھواروں پر گزارہ ہو تا تھا۔ (6 ) بعض وقت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھوک کی شدت سے پیٹ پر پتھر باندھ لیا کرتے تھے۔ چنانچہ حضرت ابو طلحہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہبیان فرماتے ہیں کہ ایک روزہم نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بھوک کی شکایت کی اور ہم میں سے ہر ایک نے اپنے اپنے پیٹ پر ایک ایک پتھر

بند ھا دکھایا۔ پس آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے پیٹ مبارک پر دوپتھر بند ھے دکھائے۔ (1 )
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کابیان ہے کہ جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال ہوا تو میرے گھر کے طاق میں سوائے آدھے پیمانۂ جو کے کچھ کھانے کو نہ تھا۔ ( 2) اور آپ کی زرہ ایک یہودی کے ہاں تیس صاع جو کے عوض گِرَو ( 3) تھی جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اہل وعیال کے نفقہ کے لئے لئے تھے۔ ( 4)
اِیلا ء کے زمانہ میں آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک مشربہ (بالاخانہ) میں تشریف رکھتے تھے جہاں کھانے پینے کا اسباب رکھا جاتا تھا۔ حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہکو جب اِیلا ء کی خبر ملی تو گھبر ائے ہوئے اس مشربہ میں حاضر خدمت اقدس ہوئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایک کُھرِّی چارپائی ( 5) پر لیٹے ہوئے ہیں جو برگِ خرما سے بنی ہوئی ہے اور جس پر کوئی توشک ( 6) وغیرہ نہیں ۔ بو ریا ئے خرما کے نشان آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پہلو ئے مبارک پر پڑ ے ہو ئے ہیں اور بدن مبارک پر ایک تہبند کے سوا کچھ نہیں ، سرہانے ایک تکیہ ہے جس میں خرما کی چھا ل بھر ی ہوئی ہے۔ فرمایا: میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خزانہ کو دیکھا۔ ایک کونے میں مٹھی بھر جَو رکھے ہوئے تھے پاؤں مبارک کے قریب درخت سُلَم کے کچھ پتے (جو دَباغت میں کام آتے ہیں ) پڑے ہوئے تھے اور سر مبارک کے پاس ایک کھونٹی پر تین کھالیں لٹک رہی تھیں ۔ یہ دیکھ کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پو چھا: ابن خطاب! کیوں روتے ہو؟ میں نے عرض کیا کہ کیوں نہ روؤں بوریا ئے خرما کے نشان آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پہلو ئے مبارک پر پڑے ہوئے ہیں یہ آپ کا خزانہ ہے اس میں جو کچھ ہے وہ نظر آرہاہے۔ قیصر وکسریٰ تو باغ وبہار کے مزے لو ٹیں اور خدا کے رسول و برگزیدہ کے خزانہ کا یہ حال

ہو۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ابن خطاب! کیا تم یہ پسند نہیں کر تے کہ آخرت ہمارے واسطے اور دنیا ان کے لئے ہو۔ (1 )
حضرت عبداللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ ایک روز رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بو ریا ئے خرماپر سوئے ہوئے تھے۔ اُٹھے تو اس کے نشان آپ کے پہلو ئے مبارک پر پڑے ہوئے تھے۔ہم نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم آپ کے لئے گدّا بنوا دیتے ہیں ۔ آپ نے فرمایا: ’’ مجھے دنیا سے کیا غرض دنیا میں میرا حال اس سوار کی مانند ہے جو ایک در خت کے سایہ میں بیٹھ جا تا ہے پھر اس کو چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے ‘‘ ۔ (2 )
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اہل وعیال کے لئے بھی زہد کی زندگی پسند فرماتے تھے۔ چنانچہ آپ کی ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے حجر ے کھجور کی شاخوں سے بنے ہوئے تھے جن کی چھت کہگل (3 ) کی ہوتی تھی اور وہ قدآدم سے کچھ ہی اونچے تھے جیسا کہ پہلے مذکور ہو چکا ہے۔ پہننے کے لئے ان میں سے ہر ایک کے پاس صرف ایک ایک جو ڑ اکپڑا تھا۔ (4 )
حضرت ثوبان کا بیان ہے کہ جب رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سفر کا قصد فرماتے تو اپنے اہل میں سے سب سے اَخیر حضرت فاطمہ زہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے مل کر جاتے اور واپس آکر سب سے پہلے حضرت فاطمہ زہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے ملتے۔ ایک دفعہ آپ کسی غز وہ سے تشریف لائے حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے اپنے دروازے پر پر دہ لٹکایا ہو اتھا اور امام حَسَن اور امام حُسَین کو چاندی کے کنگن پہنا ئے ہوئے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحسب معمول حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے یہاں آئے تو اندرداخل نہ ہو ئے اور تشریف لے

گئے۔حضرت فاطمہ زہر انے خیال کیا کہ زینت وزیورہی نے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اندر آنے سے روکا ہے۔اس لئے پر دے کو پھاڑ ڈالا اور بچوں کے ہاتھوں سے کنگن نکال دیئے۔ حضرت حسنین روتے ہوئے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں آئے۔حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کنگن ان سے لے لئے اور فرمایا: ’’ ثوبان! یہ زیور فلاں شخص کی آل کے ہاں لے جا کیونکہ یہ میرے اہل بیت ہیں میں پسند نہیں کر تا کہ یہ اپنی دنیوی زندگی میں لذائذسے حظ اُٹھائیں ۔ (1 ) ثوبان! فاطمہ کے لئے ایک عصب (2 ) کا ہار اور عاج (ہاتھی دانت) کے دو کنگن خرید لاؤ۔ (3 )
ایک روز رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی صاحبز ادی حضرت بی بی فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاکے گھر تشریف لے گئے مگر اندر داخل نہ ہوئے۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم آئے تو حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے ان سے یہ ذکر کر دیا۔انہوں نے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ذکر کیا تو آپ نے فرمایا کہ فاطمہ کے دروازے پر مُخَطَّطْ ( 4) پر دہ لٹک رہا تھا۔ پھر فرمایا کہ مجھے دنیا سے کیا غرض۔ جب حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے یہ بیان کیا تو وہ بولیں کہ حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس بارے میں جو چاہیں ارشاد فرمائیں ۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اسے فلاں حاجت مند اہل بیت کو دے دیں ۔ اسی طرح حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ مجھے نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک حلۂ سیر اء (مخطط یار یشمی) بطور ہدیہ عطا فرمایامیں نے اسے پہن لیا۔یہ دیکھ کر حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہر ۂ مبارک پر غضب کے آثار نمو دار ہوئے میں نے اسے پھاڑ کر اپنی عورتوں میں تقسیم کر دیا۔ (5 )

ایک دفعہ ایک شخص نے حضرت علی بن ابی طالب کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کی دعوت کی اور کھانا تیار کیا۔حضرت فاطمہ زہر اء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَانے کہا: کیا خوب ہواگر ہم رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو بھی شریک طعام کر لیں چنانچہ ہم نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو بلایا، آپ تشریف لا ئے، آپ نے دروازے کے بازوؤں پر اپنا ہاتھ مبارک رکھا اور گھر کے ایک طرف پردہ لٹکتا دیکھ کر واپس تشریف لے گئے۔حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے کہا کہ جائیے اور دیکھئے کہ آپ کس واسطے واپس ہوگئے۔حضرت علی نے آپ سے واپسی کا سبب دریافت کیا تو فرمایا کہ یہ پیغمبر کی شان کے خلاف ہے کہ زیب وزینت والے گھر میں داخل ہو۔ (1 )
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کسی غز وہ میں تشریف لے گئے تھے میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی واپسی کا انتظار کیاکر تی تھی ۔ہمارے ہاں ایک رنگین فرش تھامیں نے اسے چھت کے ایک شہتیر پر لپیٹ دیا۔جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لا ئے تو میں نے آگے بڑھ کر عرض کیا: ’’ اَ لسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ وَ بَرَکَا تُہسب ستائش خدا کے لئے ہے جس نے آپ کو شرف وبزرگی بخشی۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے گھر میں بساطِ رنگین (2 ) دیکھ کر میرے سلام کا جواب نہ دیا۔میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے چہرہ مبارک پر کراہت کے آثاردیکھے۔آپ نے اس فرش (3 ) کو پھاـڑ ڈالا اور فرمایا کہ خدا نے جو کچھ ہمیں دیا ہے اس کے بارے میں ہمیں یہ حکم نہیں دیا کہ اینٹ پتھر کو پہنا دیں ۔ بس میں نے اس کے دو تکیے بنالئے جن میں کھجور کی چھال بھر دی۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس پر اعتراض نہ فرمایا۔ (4 )
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ ہمارے ہاں ایک پر دہ تھاجس میں پرندوں کی تصویر یں تھیں ۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے عائشہ ! رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا اس کو بدل ڈالو کیونکہ جب
میں اسے دیکھتا ہوں تو دنیایا د آتی ہے۔ ( 1)
واضح رہے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ زہد اختیار ی تھا۔ خدا تعالٰی نے تو زمین (2 ) کے خزانوں کی کنجیاں آپ پر پیش کیں مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ہمت عالی نے عبودیت وزُہد کو پسند فرمایا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرماتے ہیں کہ میرے پر وردگار نے مجھ سے فرمایا کہ ’’ اگر تو چاہے تو تیرے واسطے وادیٔ مکہ کو سونا بنا دوں ۔ ‘‘ مگرمیں نے عرض کیا: ’’ اے میرے پروردگار! میں یہ نہیں چاہتابلکہ یوں چاہتا ہوں کہ ایک دن سیر ہو کر کھاؤں اور دوسرے روز بھوکا رہوں جب بھوکا رہوں تو تیرے آگے زاری و عاجزی کروں اور جب سیر ہو جاں تو تیری حمد اورتیرا شکر کروں ۔ ‘‘ (3 )
اس میں شک نہیں کہ حضور ِاَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو فتوحات بکثرت ہوئیں مگر جو کچھ آتا را ہ ِخدا میں اٹھا دیتے اور خود زہد کی زندگی بسر کر تے یہاں تک کہ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال شریف ہوا تو بدن مبارک پر صرف ایک کملی اور تہبند تھاکملی میں پیوند پر پیوند لگے ہو ئے تھے اور نمدہ ( 4) کی طرح ہو گئی تھی۔ تہبندکا کپڑا بھی پیو ندوں کی کثرت سے موٹا ہو گیا تھا۔ (5 ) اور آپ کی زِرَہ ذاتُ الفُضُوْل نام ابو الشحم یہودی کے پاس بیس صاع جو میں گِرَو (6 ) تھی جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اہل کے لئے ایک دینار کو لیے تھے۔ (ترمذی )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!