راہِ خدا میں مال خرچ کرکے آخرت کی تیاری کا حکم

راہِ خدا میں مال خرچ کرکے آخرت کی تیاری کا حکم

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لَّا بَیْعٌ فِیْهِ وَ لَا خُلَّةٌ وَّ لَا شَفَاعَةٌؕ-وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ(۲۵۴)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اے ایمان والو! ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ کی راہ میں اس دن کے آنے سے پہلے خرچ کرلو جس میں نہ کوئی خرید و فروخت ہوگی اور نہ کافروں کے لئے دوستی اور نہ شفاعت ہوگی اور کافر ہی ظالم ہیں ۔ (البقرۃ : ۲۵۴)
( اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰكُمْ: ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کرلو ۔ )فکر ِ آخرت دیتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ قیامت کے آنے سے پہلے پہلے راہِ خدا میں اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا مال خر چ کرلو ۔ قیامت کا دن بڑی ہیبت والا ہے ، اس دن مال کسی کو بھی فائدہ نہ دے گا اور دنیوی دوستیاں بھی بیکار ہوں گی بلکہ باپ بیٹے بھی ایک دوسرے سے جان چھڑا رہے ہوں گے اور کافروں کو کسی کی سفارش کام نہ دے گی اور نہ دنیوی انداز میں کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا ۔ صرف اِذنِ الٰہی سے اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے شفاعت کریں گے جیسا کہ اگلی آیت یعنی آیتُ الکرسی میں آرہا ہے اور مال کا فائدہ بھی آخرت میں اسی صورت میں ہے جب دنیا میں اسے نیک کاموں میں خرچ کیا ہو اور دوستیوں میں سے بھی نیک لوگوں کی دوستیاں کام آئیں گی جیسا کہ سورۂ زُخْرُف میں ہے :
اَلْاَخِلَّآءُ یَوْمَىٕذٍۭ بَعْضُهُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الْمُتَّقِیْنَؕ۠(۶۷) (زخرف : ۶۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : پرہیزگاروں کے علاوہ اس دن گہرے دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوجائیں گے ۔
( وَ الْكٰفِرُوْنَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ : اور کافر ہی ظالم ہیں ۔ )ظلم کے معنی ہیں کسی چیز کو غلط جگہ استعمال کرنا ۔ کافروں کا ایمان کی جگہ کفر اور طاعت کی جگہ معصیت اور شکر کی جگہ ناشکری کواختیار کرنا ان کا ظلم ہے اور چونکہ یہاں ظلم کا سب سے بدتر درجہ مراد ہے اسی لئے فرمایا کہ کافر ہی ظالم ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *