دورِ تابعین اورسیرت نگاری

دورِ تابعین اورسیرت نگاری

امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کے دور ِخلافت میں جب اَحادیث نبویہ کی کتابت کا عام طور پر چرچا ہوا تو دورِ تابعین میں ’’ محدثین ‘‘ کے ساتھ ساتھ سیرت نبویہ کے مصنفین کابھی ایک طبقہ پیداہوگیا۔اب تک مغازی و سیر کی طرف توجہ نہیں کی گئی تھی حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ نے اس فن کی طرف خاص توجہ دی اور حکم ارشاد فرمایا کہ غزواتِ نبوی کا خاص حلقہ درس قائم کیا جائے چنانچہ حضرت عاصم بن عمر بن قتادہ انصاری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہکو جو اس فن میں خاص کمال رکھتے تھے ، حکم دیا گیا کہ جامع مسجد دمشق میں لوگوں کو مغازی کا درس دیں ۔ اسی زمانے میں مشہور تابعی بزرگ امام زہری رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ بھی تھے جوحدیث و فقہ میں کمال مہارت رکھتے تھے ان کا شمار امام بخاری کے شیوخ میں ہوتا ہے ، انہوں نے حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ کی ہدایت پر کتاب المغازی لکھی ، جس کی وجہ سے سیرت و مغازی کا عام ذوق پیدا ہوا۔ ان کے تلامذہ بھی سیرت نگاری کی طرف مائل ہوئے اورسیرت نگاری کا سلسلہ شروع ہوا ۔اس طرح اس فن کی بدولت حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اخلاق وعادات جو حدیث کی کتب میں موتیوں کی طرح بکھرے ہوئے تھے اور ان میں کوئی تاریخی ترتیب نہیں تھی وہ ایک خاص ترتیب کے تحت ایک جگہ جمع ہوگئے ۔ (ماخوذ از: اردو دائرۂ معارف اسلامیہ، ج۱۱ ، ص۵۰۶)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *