درِخیبرکا وزن

درِخیبرکا وزن

جنگ خیبر میں جب گھمسان کی جنگ ہونے لگی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ڈھال کٹ کر گرپڑی تو آپ نے جوش جہاد میں آگے بڑھ کر قلعہ خیبر کا پھاٹک اکھاڑ ڈالا اوراس کے ایک کواڑکو ڈھال بنا کراس پر دشمنوں کی تلواروں کو روکتے تھے ۔ یہ کواڑ اتنا بھاری اوروزنی تھا کہ جنگ کے خاتمہ کے بعد چالیس آدمی ملکر بھی اس کو نہ اٹھا سکے۔ (2)
(زرقانی ج۲،ص۲۳۰)

تبصرہ

کیا فاتح خیبرکے اس کارنامہ کو انسانی طاقت کی کارگزاری کہا جاسکتاہے؟ ہرگزہرگز نہیں۔یہ انسانی طاقت کا کارنامہ نہیں ہے بلکہ یہ روحانی طاقت کا ایک شاہکار ہے جو فقط اللہ والوں ہی کا حصہ ہے جس کو عرف عام میں کرامت کہا جاتاہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *