درایت سے اغماض کرنا بھی فطرتی ہے

درایت سے اغماض کرنا بھی فطرتی ہے

Advertisement

یہاں یہ بات قابل توجہ ہے کہ آدمی درایت سے تو کام لیتا ہے، مگر بہت سے مواقع میں درایت سے اغماض کرنا بھی اُس کی طبیعت کا مقتضیٰ ہے ، چنانچہ لڑکے کو جب اُس کے ماں باپ کی خبر دی جاتی ہے تو یقیناً اُن کو اپنے ماں باپ سمجھ لیتا ہے ، اسی طرح دادا وغیرہ اہل خاندان کی قرابت کی تصدیق مجرد خبر سے کرلیتا ہے ، شاید بعضے لوگ ایسے بھی ہوں کہ ایک شخص کی گواہی کو کافی نہ سمجھ کر دل میں یہ خیال کرتے ہوں گے کہ بلا تحقیق اور ثبوت کافی کسی کو اپنا باپ کہنا ، ننگ و عار اور خلاف درایت ہے، مگر اُن کو بھی ایسے رکیک احتمالات سے اغماض ہی کرنا پڑتاہے ، اور اگر کوئی ایسے احتمالات

پیش کر کے اُن کے نسب میں کلام کرے تو اُس سے غالباً ناخوش ہوں گے، اس سے ظاہر ہے کہ بزرگوں کی بات کا یقین کرلینا آدمی کی فطرت میں داخل ہے، اب یہاں غور کیا جائے کہ کونسی چیز ہے کہ اس موقع میں احتمالات عقلیہ کو ہٹا کر مجرّد خبر کو قابل اعتماد بناتی ہے ، بات یہ ہے کہ بزرگوں کی محبت اور وقعت آدمی کے دل میں ایسی متمکن ہوتی ہے کہ اُس کی خبر کی مخالفت کا خیال تک دل میں نہیں آتا ، اسی طرح جس استاد اور پیر کی وقعت کسی کے دل میں ہوتی ہے، تو وہ جو کچھ کہتا ہے اُس کی تصدیق وہ کرلیتا ہے ، اس وجہ سے محدثین جن استادوں کو معتمد علیہ سمجھتے تھے اُن کی حدیثوں کی صحت کا یقین اُن کو ہوجاتا تھا اور نہایت جزم اور وثوق سے اُن کی روایتیں بیان کرتے تھے ، اگر یہ اعتماد اُن کو نہ ہوتا تو جس طرح غیرمعتبر اُستادوں کی روایتوں کو ترک کر دیتے تھے، اُن کی روایتوں کو بھی ترک کر دیتے، غرضکہ اپنے بزرگوں کی بات کا یقین کرلینا آدمی کی فطرتی بات ہے اور جس کو وہ اپنا بزرگ اور مقتدا نہیں سمجھتا ،اُس کی بات کو نہیں مانتا اور پہلے یہ دیکھ لیتا ہے کہ وہ بات درایت کے خلاف تو نہیں ، پھر درایت کے خلاف نہ بھی ہو تو اس شرط پر مانتا ہے کہ اپنے حق میں کسی طرح مضر نہ ہو اور اس ماننے میں بھی وہ جزم نہیں ہوتا جو معتمد علیہ کی خبر میں ہوتا ہے ۔ اس سے ثابت ہوا کہ قاعدہ ٔمذکورہ کہ روایت پر درایت مقدم ہے، اپنے بزرگوں کی خبر کی نسبت خلاف فطرت انسانی ہے ،البتہ اُس شخص کے حق میں یہ قاعدہ صحیح ہوگا جو بزرگان دین کو اپنے بزرگ نہیں سمجھتا، چنانچہ اسی وجہ سے یہود و نصاریٰ وغیر ہم ہمارے دین کی باتوں کو نہیں مانتے، گو کیسی ہی مطابق عقل و درایت ہوں اور اپنے دین کی باتوں کو خلاف عقل و درایت (۱ )ہی کیوں نہ ہوں مان لیتے ہیں ،چنانچہ بائبل
جس پر تمام یہود و نصاریٰ کا اعتقاد ہے اور جس کو کتاب آسمانی سمجھتے ہیں ، اُس میں عجیب عجیب باتیں ہیں ۔ اس سے ظاہر ہے کہ جو لوگ ہمارے دین کی باتوں کے مقابلہ میں یہ قاعدہ پیش کرتے ہیں ،وہ ہمارے دین سے اجنبی اور بیگانے ہیں، مسلمانوں کا یہ کام نہیں کہ بیگانوں کی باتوں کو سن کر خود بھی اپنے دین سے بیگانے بن جائیں، بلکہ یہ خیال کرنا چاہئے کہ
ایسے لوگوں کا وہی جواب ہوگا جو دوسرے دین والوں کا جواب ہوتا ہے اور اگر جواب نہ د ے سکیں تو اُس کا ملال نہ کریں ، اس لئے کہ ہر شخص کل مذاہب باطلہ کے جواب کہاں تک دے سکے اور یہ خیال کرلیں کہ تیرہ سو سال سے کروڑہا مسلمان جس طرح اپنے دین کی حفاظت کرتے آ رہے ہیں، ہمیں بھی اُسی طرح حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔

(۱) ملاحظہ ہو کتاب مقدس مطبوعہ امریکن مشن پریس ایم ڈائیلی منیجر مطبوعہ 1897؁ء میں (باب 23 ص7748) اور خداوند کا کلام مجھے پہونچا اور اُس نے کہا کہ (۲) اے آدم زادد و عورتیں ۱؎تھیں جو ایک ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئیں (۳) اُنہوں نے مصر میں زناکاری کی ۲؎ وہ اپنی جوانی میں ۳؎ یارباز ہوئیں ۔ وہاں اُن کی چھاتیاں ملی گئیں اور وہاں اُن کی بکر کی پستان چھوئے گئے (۴) اُن میں کی بڑی کا نام اہولہ اور اُس کی بہن اہولبہ اور وہ میری جورواں ہوئیں اور بیٹے بیٹیاں جنیں ۴؎ انکے یہ نام ۔۱۱ اہولہ سمرون ہے اور اہولبہ یروسلم (۵) اور اہولہ جن دنوں میں وہ میری تھی چھنالاکرنے لگی اور اپنے یاروں پر یعنی اسوریوں۵ پر جو ہمسایہ تھے عاشق ہوئی (۶) کہ وہ سر لشکر اور حاکمان تھے اور سب کے سب دل پسند جوانمرد اور سوار تھے جو گھوڑوں پرچڑھے تھے اور ارغوانی پوشاک پہنے ہوئے تھے (۷) اس طرح اُس نے اُن سب کے ساتھ جواسور کے برگزیدہ مرد تھے چھنالا کیا اور وہ اُن سب کے ساتھ جن سے وہ عشق بازی کرتی تھی اور اُن کے سارے بتوں سے ناپاک ہوگئی ۔ (۸) اس نے ہرگز اس زناکاری کو جو اُس نے مصر میں کی تھی نہ چھوڑا ۔ ۶؎ کیونکہ انہوں نے اس کے جوانی میں اس سے خلوت کی تھی ۔ انہوں نے اس کی بکر کی پستانوں کو ملا تھا اور اپنی زنا اس پر انڈیلی تھی (۹) اس لئے میں نے اُسے اُس کے یاروں کے ہاتھ میں و ہاں اسوریوں کے ہاتھ میں جن پر وہ مرتی تھی کر دیا (۱۰) انہوں نے اُس کو بے ستر کیا ۔ ۸؎اس کے بیٹے اور بیٹیوں کو چھین لیا اور اسے تلوار سے مار ڈالا ۔ سووہ عورتوں کے درمیان انگشت نما ہوئی کیونکہ انہوں نے اسے عدالت سے سزا دی (۱۱) اور اُس کی بہن اہولبہ نے یہ سب کچھ دیکھا ۹ پروہ شہوت پرستی میں اس سے بدتر ہوئی ۱۰ ؎اور اُس نے اپنی بہن کی زناکاری کی نسبت سے زیادہ زناکاری کی (۱۲) وہ بنی اسور ۱۱؎’’یعنی ان سر لشکروں اور حاکموں پر جو اُس کے ہمسایہ تھے جو بھڑکیلی پوشاک پہنتے تھے اور گھوڑوں پر چڑھتے تھے ۔ ۱۲؎ اور سب کے سب دل پسند جوانمرد تھے ۔ عاشق ہوئی اورمیں نے دیکھا کہ وہ بھی ناپاک ہوگئی ۔ اُن دونوں کی ایک ہی راہ و رسم تھی ۔( ۱۴ ) بلکہ اُس نے زناکاری زیادہ کی ۔ کیونکہ جب اس نے دیوار پر مردوں کی صورتیں دیکھیں کسدیون کی تصویریں جو شنگرف سے کھینچی ہوئی تھیں (۱۵) اور کہ اُن کے کمروں پر پٹکے کسے ہوئے تھے اور اُن کے سروں پر اچھے رنگین پگڑیاں تھیں اور کہ سب کے سب دیکھنے میں سر لشکر میں بابل کے بیٹوں سے مشابہ ، جن کا وطن کسرستان ہے ۔ (۱۶) تب دیکھتے ہی وہ اُن پر مرنے لگی ۱۳؎ اور قاصدوں کو کسدیونکے ملک میں اُن کے پاس بھیجا (۱۷) سوبابل کے بیٹے اس کے پاس آ کے عشق کے بستر پر چڑھے اور انہوں نے اس سے زنا کر کے اسے آَلودہ کیا اور جب وہ اُن سے ناپاک ہوئی تو اس کا جی اُن سے پھر گیا ۔ ۱۴؎ (۱۸) تب اُس کی زناکاری علانیہ ہوئی اور اُس کی برہنگی بے ستر ہوئی تب جیسا میراجی اُس کی بہن سے ہٹ گیا تھا ویسا میرا دل اُس سے بھی ہٹا ۱۵ (۱۹) تس پر بھی اس نے اپنے جوانی کے دنوں کو یاد کر کے جب وہ مصر کی سرزمین میں چھنالاکرتی تھی ۔ ۱۶؎ زناکاری پر زناکاری کی (۲۰) سووہ پھر اپنے اُن یاروں پر مرنے لگی جن کا بدن۱۷؎ گدھوں کا سابدن اور جن کا انزال گھوڑوں کاسا انزال تھا انتہی ۔ اب غور کیجئے کہ خدا اور اُس کے جو رواں اور یہ حالات نعوذ باللہ بھلا کس عقلمند کی درایت اس کو قبول کرسکتی ہے ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!