خود کو ہلاک کرنے کی صورتیں :

خود کو ہلاک کرنے کی صورتیں :

Advertisement

خود کو ہلاک کرنے کی مختلف صورتیں ہیں ، اور ان میں سے 4 صورتیں درج ذیل ہیں :
(1)…مسلمانوں کا ایک دوسرے کو قتل کرنا خود کو ہلاک کرنا ہے کیونکہ احادیث میں مسلمانوں کو ایک جسم کی مانند فرمایا گیا ہے ، جیسا کہ حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’تم مسلمانوں کو دیکھو گے کہ وہ ایک دوسرے پر رحم کرنے ، دوستی رکھنے اور شفقت کا مظاہرہ کرنے میں ایک جسم کی مانند ہوں گے چنانچہ جسم کے جب کسی بھی حصہ کو تکلیف پہنچتی ہے تو سارا جسم جاگنے اور بخار وغیرہ میں اس کا شریک ہوتا ہے ۔ (بخاری، کتاب الادب، باب رحمة الناس والبهائم، ۴ / ۱۰۳، الحدیث : ۶۰۱۱)
حضرت نعمان بن بشیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ہی روایت ہے ، رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ مسلمان (باہم) ایک شخص کی طرح ہیں ، اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو ا س کے سارے جسم کو تکلیف ہوتی ہے اور اگر اس کے سر میں تکلیف ہو تو اس کے سارے جسم کو

تکلیف ہوتی ہے ۔ (مسلم، کتاب البر والصلة والاٰداب، باب تراحم المؤمنین وتعاطفهم وتعاضدهم، ص۱۳۹۶، الحدیث : ۶۷(۲۵۸۶))
جب مسلمان ایک جسم کی طرح ہیں تو ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان کو قتل کرنا ایساہی ہے جیسے ا س نے خود کو قتل کیا ۔
(2)…ایسا کام کرنا جس کی سز امیں اسے قتل کر دیا جائے جیسے کسی مسلمان کو قتل کرنا، شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرنا یامُرْتَدْہونا بھی خود کو ہلاک کرنے کی صورتیں ہیں ۔ یاد رہے کہ زنا کرنا اور کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنا کبیرہ گنا ہ ہے ، زنا کے بارے میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :
وَ لَا تَقْرَبُوا الزِّنٰۤى اِنَّهٗ كَانَ فَاحِشَةًؕ-وَ سَآءَ سَبِیْلًا(۳۲) (بنی اسرائیل : ۳۲)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اور بدکاری کے پاس نہ جاؤ بیشک وہ بے حیائی ہے اور بہت ہی برا راستہ ہے ۔
اور کسی مسلمان کو ناحق قتل کرنے والے کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَنْ یَّقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآؤُهٗ جَهَنَّمُ خٰلِدًا فِیْهَا وَ غَضِبَ اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ لَعَنَهٗ وَ اَعَدَّ لَهٗ عَذَابًا عَظِیْمًا(۹۳) (النساء : ۹۳)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اور جو کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کا بدلہ جہنم ہے عرصہ دراز تک اس میں رہے گااور اللہ نے اس پر غضب کیا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لئے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
اورمُرْتَدْ ہونے والوں کے بارے میں ارشاد فرماتا ہے :
وَ مَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهٖ فَیَمُتْ وَ هُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِۚ-وَ اُولٰٓىٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ-هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ(۲۱۷) (بقرہ : ۲۱۷)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اور تم میں جو کوئی اپنے دین سے مرتد ہوجائے پھر کافر ہی مرجائے تو ان لوگوں کے تمام اعمال دنیا و آخرت میں برباد ہوگئے اور وہ دوزخ والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے ۔
(3)… خود کو ہلاک کرنے کی تیسری صورت خود کشی کرنا ہے ۔ خود کشی بھی حرام ہے ۔ حدیث شریف میں ہے : حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے ، سرکارِ دو عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’ جس نے اپنا گلا گھونٹا تو وہ جہنم کی آگ میں اپنا گلا گھونٹتا رہے گا اور جس نے خود کو نیزہ مارا وہ جہنم کی آگ میں خود کو نیزہ مارتا رہے گا ۔ (بخاری، کتاب الجنائز، باب ما جاء فی قاتل النفس، ۱ / ۴۶۰، الحدیث : ۱۳۶۵)
ان ہی سے روایت ہے ، سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : ’’جو پہاڑ سے گر کر خود کشی کرے گا وہ نارِ دوزخ میں ہمیشہ گرتا رہے گا اور جو شخص زہر کھا کر خود کشی کرے گا وہ جہنم کی آگ میں ہمیشہ زہر کھاتا رہے گا ۔ جس نے لوہے کے ہتھیار سے خود کشی کی تو دوزخ کی آگ میں وہ ہتھیار اس کے ہاتھ میں ہو گا اور وہ اس سے اپنے آپ کو ہمیشہ زخمی کرتا رہے گا ۔ (بخاری، کتاب الطب، باب شرب السمّ والدواء بہ… الخ، ۴ / ۴۳، الحدیث : ۵۷۷۸)
(4)…ایسا کام کرناجس کے نتیجے میں کام کرنے والا دنیا یا آخرت میں ہلاکت میں پڑجائے جیسے بھوک ہڑتال کرنا یا باطل طریقے سے مال کھانا وغیرہ ۔ چنانچہ حضرت عمرو بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ مجھے غزوۂ ذاتُ السلاسل کے وقت ایک سرد رات میں احتلام ہو گیا، مجھے غسل کرنے کی صورت میں ( سردی سے ) ہلاک ہونے کا خوف لاحق ہوا تو میں نے تیمم کر لیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ فجر کی نماز پڑھ لی ۔ انہوں نے نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے اس کا ذکر کیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ اے عمرو! رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ، تم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ ا س

حال میں نماز پڑھ لی کہ تم جنبی تھے ۔ میں نے غسل نہ کرنے کا عذر بیان کیا اور عرض کی : میں نے اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان سنا ہے :
وَ لَا تَقْتُلُوْۤا اَنْفُسَكُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ كَانَ بِكُمْ رَحِیْمًا(۲۹) (النساء : ۲۹)
ترجمۂ کنزُالعِرفان : اور اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بیشک اللہ تم پر مہربان ہے ۔
یہ سن کر حضورِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسکرا دئیے اور کچھ نہ فرمایا ۔ (ابو داؤد، کتاب الطهارة، باب اذا خاف الجنب البرد… الخ، ۱ / ۱۵۳، الحدیث : ۳۳۴)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!