حلیہ نبی کریم ﷺ

قد مبارک

آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نہ بہت درازتھے نہ کو تا ہ قدبلکہ میانہ قد مائل بہ درازی تھے۔ حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہٗ الْکَرِیْم فرماتے ہیں کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہت درازقد نہ تھے اور مائل بہ درازی ہونے کے سبب اوسط قدسے زیادہ تھے مگر جب لوگوں کے ساتھ ہو تے تو سب سے بلند وسر فراز ہوتے۔ (2 ) حقیقت میں یہ آپ کا معجزہ تھاکہ جب علیحد ہ ہو تے تو میانہ قدمائل بہ درازی ہو تے اور جب اوروں کے ساتھ چلتے یا بیٹھتے تو سب سے بلند دکھائی دیتے۔ ( 3) تا کہ باطن کی طرح ظاہر وصورت میں بھی کوئی آپ سے بڑا معلوم نہ ہو۔
آپ کی قامت زیبا کا سایہ نہ تھا اس کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ آپ کے اسمائے مبارک میں سے ایک اسم شریف نور ہے۔ چنانچہ قرآن مجید میں سورۂ مائد ہ میں ہے:
قَدْ جَآءَكُمْ مِّنَ اللّٰهِ نُوْرٌ وَّ كِتٰبٌ مُّبِیْنٌۙ (۱۵)
البتہ تمہارے پاس اللّٰہ کی طرف سے ایک نوراور کتاب واضح آئی۔ (4 )
اور ظاہر ہے کہ نور کا سایہ نہیں ہو تا۔ حکیم ترمذی (متوفی ۲۵۵ ھ) نے نوادر الا صول میں بر وایت ذکو ان (تا بعی) نقل کیا ہے کہ دھوپ اور چاندنی میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سایہ نظر نہ آتا تھا۔ امام ابن سبع کا قول ہے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ
وَسَلَّم کے خصائص میں سے ہے کہ آپ کا سایہ زمین پر نہ پڑتا تھا اور آپ نور تھے۔ لہٰذا جب آپ دھوپ یا چا ند کی روشنی میں چلتے تو آپ کا سایہ نظر نہ آتا تھا۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی شاہد وہ حدیث ہے کہ جس میں مذکور ہے کہ جب آپ نے یہ دعامانگی کہ اللّٰہ میرے تمام اعضاء اور جہات میں نور کر دے تو دعا کو اس قول پر ختم فرمایا: (1 ) وَاجْعَلْنِی نُوْراً۔ (2 ) (اور مجھ کو نور بنا دے ) ۔ زر قانی (3 ) میں مذکور ہے کہ حدیث ذکوان مر سل ہے۔ مگر ابن مبارک وابن جوزی نے بروایت ابن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نقل کیا ہے کہ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا سایہ نہ تھا۔ جب آپ دھوپ میں کھڑے ہو تے تو آپ کی روشنی سورج کی روشنی پر غالب آتی اور جب چراغ کے سامنے کھڑے ہوتے تو چراغ کی روشنی پر غالب آتی۔بعض کا قول ہے کہ آپ کا سایہ نہ ہو نے میں یہ حکمت تھی کہ آپ کے سایہ کو کوئی کا فر پامال نہ کرے۔ ( 4) ؎
ماہ فروماند از جمال محمد سرو نروید باعتدال محمد

Advertisement

رنگ مبارک

 

رنگ مبارک گورا اور روشن وتاباں مگر اس میں کسی قدر سر خی ملی ہوئی تھی۔ بعض روایتوں میں جو آ پ کو ’’ اَسْمَرُاللَّوْن ‘‘ یعنی گند م گوں لکھا ہے اس سے بھی یہی مراد ہے۔

جلد مبارک و بو ئے خوش

 

آپ کی جلد مبارک نرم تھی۔ایک وصف ذاتی حضور میں یہ تھا کہ خوشبو لگائے بغیر آپ سے ایسی خوشبو آتی تھی کہ کوئی خوشبو اس کو نہ پہنچ سکتی تھی۔آپ کی والد ہ ماجد ہ فرماتی ہیں کہ جب آپ پیدا ہوئے تو میں نے غور سے آپ کی

طرف نگاہ کی کیا دیکھتی ہوں کہ آپ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہیں اور آپ سے تیز بو کستور ی کی طرح خوشبو (1 ) آرہی ہے۔ ( 2) حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں نے کسی کستور ی یا عبیر (3 ) کو بوئے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خوش تر نہ پایا۔ (4 )
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کر تے ہیں کہ ایک شخص رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت ِ اقدس میں آیا اور عرض کیاکہ یا رسول اللّٰہ میں نے اپنی بیٹی کا نکاح کر دیا ہے میں اسے اس کے خاوند کے گھر بھیجنا چاہتاہوں میرے پاس کوئی خوشبو نہیں آپ کچھ عنایت فرمائیں ۔ آپ نے فرمایا کہ میرے پاس موجود نہیں مگر کل صبح ایک چو ڑے منہ والی شیشی اور کسی درخت کی لکڑی میرے پاس لے آنا۔ دوسرے روز وہ شخص شیشی اور لکڑی لے کر حاضر خدمت ہوا۔ آپ نے اپنے دونوں بازوؤں سے اس میں اپنا پسینہ ڈالنا شروع کیایہاں تک کہ وہ بھرگئی پھر فرمایاکہ اسے لے جااپنی بیٹی سے کہہ دیناکہ اس لکڑی کو شیشی میں ترکر کے مل لیا کرے۔ پس جب وہ آپ کے پسینہ مبارک کو لگا تی تمام اہل مدینہ کو اس کی خوشبو پہنچتی یہاں تک کہ ان کے گھر کا نام بیت الْمُطَیِّبِیْن ( خوشبو والوں کا گھر ) ہوگیا۔ ( 5)
حضور کے خادم حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے ہاں تشریف لائے اور قیلولہ فرمایاحالت خواب میں آپ کو پسینہ آگیامیری ماں ام سلیم نے ایک شیشی لی اور آپ کا پسینہ مبارک اس میں ڈالنے لگی آپ جاگ اٹھے اور فرمانے لگے: ام سلیم! تو یہ کیاکرتی ہے؟ اس نے عرض کیا: ’’ یہ آپ کا پسینہ

ہے۔ (1 ) ہم اس کو اپنی خو شبو میں ڈالتے ہیں اور وہ سب خوشبو ؤں سے خو شبود ار بن جا تی ہے ‘‘ ۔ (2 ) دوسری روایت مسلم میں ہے کہ ام سلیم نے یوں عرض کیا: ’’ یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم اپنے بچوں کے لئے آپ کے عرق مبارک کی برکت کے امیدوار (3 ) ہیں ۔ ‘‘ آپ نے فرمایا: ’’ تو نے سچ کہا۔ ‘‘ (4 ) اس سے معلوم ہوا کہ حضور کے عرق مبارک کو بچوں کے چہرے اور بدن پر مل دیا کر تے تھے اور وہ تمام بلاؤں سے محفوظ رہا کرتے تھے۔
حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ (5) سے روایت ہے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مدینہ منورہ کے کسی کو چہ میں سے گز رتے تو گز رجا نے کے بعد بھی آنے جانے والوں کو اس کو چہ سے خوشبو آتی اور وہ سمجھ جاتے کہ اس کوچہ میں سے آپ کا گزر ہواہے۔ (6) باقی حال لعاب مبارک اور دست مبارک میں آچکا ۔ یہاں اس کے اِعادہ کی ضرورت نہیں ۔
اب بھی مدینہ منورہ کے درودیوار سے خوشبو ئیں آرہی ہیں جنہیں محبان وعاشقانِ جنابِ رسولِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شامَّۂ محبت سے محسوس کر تے ہیں ۔ ابن بَطَّا ل کا قول ہے (7) کہ جو شخص مدینہ منورہ میں رہتا ہے وہ اس کی خاک اور دیو اروں سے خوشبو محسوس کر تا ہے۔ اور اَشبِیلی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا ہے کہ خاکِ مدینہ میں ایک عجیب مہک ہے جو کسی خوشبو میں نہیں ۔ اور یا قوت نے کہا ہے کہ مِنجملہ خصائص مَدینہ اس کی ہو اکا خوشبو دار ہونا ہے اور وہاں کی بارش میں بو ئے خوش ہو تی ہے جو کسی اور جگہ کی بارش میں نہیں ہوتی۔ ابو عبد اللّٰہ عطا ر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کیا خوب کہا ہے۔ ؎
بِطِیْبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ طَابَ نَسِیْمُھَا
فَمَا الْمِسْکُ مَا الْکَافُوْرُ مَا الصَّنْدَلُ الرَّطْبُ (1)
رسول اللّٰہ کی خوشبوسے نسیم مدینہ خوشبو دار ہو گئی۔ پس کیا ہے کستور ی، کیا ہے کا فور، کیا ہے عطر صند ل تروتازہ۔ (2)
امام ابن سبع (3) نے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خصائص میں شمار کیا ہے کہ آپ کے کپڑوں پر مکھی نہ بیٹھتی اور آپ کو جوں ایذاء نہ دیتی۔ (4) یعنی آپ کے کپڑوں میں جوں نہ ہوتی کہ آپ کو ایذاء دے۔ کیونکہ جوں عُفُونت (5) اور پسینے سے پیدا ہو تی ہے اور حضور تو نور اور اَطیب الناس (6 تھے اور آپ کا پسینہ خوشبو دار ہو تا تھااسی طرح بو جہ لطافت آپ کے بدن مبارک پر کپڑا میلا نہ ہو تا تھا۔
علامہ دمیری نے اپنے منظو مہ فی الفقہ میں لکھا ہے کہ جن چو پا یوں پر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سوار ہو ئے، آپ کی سواری کی حالت میں انہوں نے کبھی پیشاب نہ کیا اور جس چو پا یہ پر آپ سوار ہوئے وہ آپ کی حیات میں کبھی بیمار نہ ہوا۔

 

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!