حفاظت ِدین میں محدثین پر مصائب

حفاظت ِدین میں محدثین پر مصائب

اب ہم بطور نمونہ چند اکابر دین کے حالات لکھتے ہیں جن سے اہل انصاف پر منکشف ہوجائیگا کہ یہ حضرات فقط حفاظتِ دین ہی کے لئے پیدا ہوئے تھے اور جس دین میں ایسے حضرات کا وجود ہو اُس کا قیامت تک محفوظ رہنا دور از قیاس نہیں ۔

مسئلہ ٔ خلقِ قرآن

تاج الدین سبکیؒ نے طبقات شافعیہ میں اور امام سیوطی اور ابن اثیرؒ نے تاریخ الخلفاء اور تاریخ کامل میں مسئلہ خلق قرآن میں جو واقعات پیش آئے ان کو تفصیل سے لکھا ہے ،جس سے ثابت ہے کہ محدثین رحمہم اللہ نے کیسی کیسی جانفشانیوں سے اسلامی عقائد کو محفوظ کر دیا ۔ خلاصہ اُس کا یہ ہے کہ قاضی احمد ابن دوّاد (جو نہایت فصیح اور علم کلام میں متبحر اور معتزلہ کا صحبت یافتہ شخص تھا اور خلیفۂ مامون کے دل میں اُس کی بڑی وقعت تھی)اُس نے مامون کو سمجھایا کہ کلام اللہ مخلوق ہے، کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ’’ انا جعلناہ قراٰناً عربیاً‘‘ اور جعل کے معنی پیدا کرنے کے ہیں جیسے’’ و جعل الظلمات والنور‘‘ سے ظاہر ہے لیکن بعضے جہال اُس کو غیر مخلوق کہہ کر خالق کے برابر بنا دیتے ہیں اور باوجود اس شرک کے اپنے آپ کو اہل حق اور اہل سنت قرار دے کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں ، بادشاہ اسلام کا فرض ہے کہ ایسے لوگوں کی

تادیب کر کے دین کی حفاظت کرے ، چنانچہ یہ بات بادشاہ کے سمجھ میں آگئی اور اسحاق ابن ابراہیم حاکم بغداد کے نام حکم جاری کیا کہ تمام فقہا ء اور محدثین کو بلا کر اُن کا عقیدہ دریافت کرو، اگروہ علانیہ اقرار کریں کہ قرآن مخلوق ہے، تو بہتر ورنہ اُن کے اظہار قلمبند کر کے پیشگاہ میں روانہ کریں، چنانچہ حاکم نے اکابر علما ء کو جمع کر کے حکم شاہی سنا دیا ،اُن میں اکثر تو یہ کہہ کر ٹال گئے کہ ہم اتنا ہی جانتے ہیں کہ قرآن کلام الٰہی ہے اور اس مسئلہ میں ہم کسی سے بحث نہ کریں گے اور بعضوں نے بالکل سکوت کیا اور بعضوں نے کہا کہ قرآن مجعول ہے ، مگر چونکہ خدائے تعالیٰ نے اُس کو مخلوق نہیں کہا اِس لئے ہم مخلوق نہیں کہہ سکتے ، بادشاہ نے اُن اقوال کو دیکھ کر حکم بھیجا کہ جو لوگ قرآن کو صاف طور پر مخلوق نہ کہیں اُن کو فتویٰ دینے اور روایت حدیث کرنے سے روک دیا جائے ۔

امام احمد پر سختی

اور چند نامی گرامی محدثین کے نام لکھے کہ اگر وہ اقرار نہ کریں، تو اُن کے گردنیں مار کے اُن کے سر دربار شاہی میں روانہ کئے جائیں ،جب یہ حکم سنایا گیا تو اکثر نے جان بچانے کی غرض سے کہہ دیا کہ قرآن مخلوق ہے ،مگر امام احمد بن حنبل اور محمد ابن نوح رضی اللہ عنہما نے اُس سے صاف انکار کیا ، حاکم نے اُن کو مقید کر کے بادشاہ کے پاس روانہ کر دیا ، بادشاہ سے کسی نے یہ کہہ دیا کہ جن لوگوں نے اقرار کیا ہے وہ جان بچانے کی غرض سے صرف زبانی اقرار ہے ، اُس پر حکم شاہی نافذ ہوا کہ سناگیا کہ بعضوں نے عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کے باب میں جو آیت نازل ہوئی ’’ الاَّمَنْ اُکْرِہَ وَ قَلْبُہ‘ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِیْمَانِ ‘‘ اس میں تاویل کر کے زبانی اقرار کرلیا ہے، حالانکہ وہ غلط ہے ،بہرحال اُن کو بھی دربار شاہی میں بھیج دیا جائے ،چنانچہ وہ سب محدثین روانہ کئے گئے ،مگر حُسن اتفاق سے راستہ ہی میں یہ خبر پہونچی کہ خلیفۂ مامون کا انتقال ہوگیا ،جس سے سب کی رہائی ہوئی لیکن ،مامون نے

مرتے وقت وصیت نامہ لکھا کہ میرے بعد جو خلیفہ ہو ،اُس کو چاہئے کہ محدثین کو مجبور کر کے قرآن کے مخلوق ہونے کا اقرار کرائے ، چنانچہ اُس کے جانشین معتصم باللہ نے بھی وہی کاراوئی شروع کی ، اور چونکہ امام احمدؒ اپنے انکار پر مصر تھے ، اُن پر سختی شروع کی گئی ، چنانچہ متعدد قید خانوں میں قید کئے گئے ،کبھی اصطبل میں ، کبھی عام قید خانوں میں ، کبھی نہایت تنگ و تاریک مکان میں اور اُس اثنا میں اکثر مناظرے بھی ہوئے ،مگر آپ کے مقابلہ میں جو آتا ، اُس کو ساکت کر دیتے ۔ آخر بادشاہ نے دو شخصوں کو مناظرے کے لئے بھیجا ،آپ نے اُن سے پوچھا کہ تم خدائے تعالیٰ کے علم کو مخلوق کہتے ہو یا غیر مخلوق؟ اُنہوں نے کہا کہ مخلوق آپ نے فرمایا اس قول سے تم کافر ہوگئے ،کسی نے کہا آپ یہ کیا کرتے ہو ، یہ بادشاہ کے بھیجے ہوئے ہیں ، فرمایا:ہاں! یہی بھیجے ہوئے کافر ہوگئے ،وہ دونوں تین روزتک مناظرہ کے لئے ،آیا کئے ہر روز بے نیل مرام جاتے وقت ایک بیڑی امام احمد ؒ کے پاؤں میں اضافہ کر دیتے ،چنانچہ اب چار بیڑیاں آپ کے پاؤں میں ہوگئیں ۔ چوتھے روز بادشاہ نے خود اپنے روبرو حاضر کرنے کا حکم دیا ، حاکم بغداد نے آپ کو بلوا کر کہا کہ اگر آپ اقرار نہ کرو گے تو بادشاہ نے قسم کھائی ہے کہ ہر روز آپ کو کوڑے لگوائے جائیں گے ، یہاں تک کہ آپ یا اقرار کریں یا اسی عذاب سے مرجائیں اور آپ کے قید کے لئے ایک نہایت تنگ و تاریک مکان تجویز کیا گیا ہے پھر اُن سے کہا: بھلا یہ تو خیال کرو کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ’’انا جعلناہ قراناً عربیا‘‘ یہ کیونکر صحیح ہوسکے کہ قرآن مجعول ہو اور مخلوق نہ ہو آپ نے فرمایا حق تعالیٰ نے ’’فجعلھم کعصف ماکول‘‘ بھی فرمایا ہے ،کیا یہاں تخلیق کا معنی صادق آتے ہیں ؟ مطلب یہ کہ جعل اور خلق مرادف نہیں، اِس کا کچھ جواب اُس سے نہ ہوسکا اور بادشاہ کے روبرو لیجانے کا حکم دیا چونکہ آپ کے ہر پاؤں میں چار چار بھاری بیڑیاں تھیں ، قدم قدم پر آپ گرتے تھے آخر کسی جانور پر سوار کئے گئے
اور معتصم کے گھر پہنچے اور ایک نہایت تنگ و تاریک حجرہ میں آپ کو داخل کر کے باہر سے قفل لگا دیا گیا ،آپ فرماتے ہیں جب رات کو میں تہجد کا ارادہ کیا اور چراغ تو تھا ہی نہیں ،تیمم کے لئے مٹی مل جاتی مٹی کے تلاش میں میں نے ادھر اُدھر ہاتھ دوڑائے، یکایک میرا ہاتھ آفتابہ پر پڑا جو پانی سے بھرا ہوا طشت کے ساتھ رکھا تھا، میں نے وضو کر کے نماز پڑھ لی ،صبح کو بادشاہ نے مجھے بلوایا ،چار بیڑیوں کو سنبھال کر چلنا مشکل تھا اور کوئی چیز نہ تھی جس سے اُن کو باندھ لیتا ،اس لئے پائجامہ سے ازار بند نکال کر اُن کو اکٹھے کیا اور پائجامہ کو گرہ دے کر افتاں و خیزاں چلا ، جب بادشاہ کے روبرو پہونچا تو خلق کا ہجوم تھا ،جس میں ابن دواد اور اُس کے طرفدار بکثرت تھے ، بادشاہ نے اپنے روبرو مجھے جگہ دی، تھوڑی دیر بیڑیوں کی مشقت سے دم لیکر بادشاہ سے پوچھا کہ مجھے کچھ کہنے کی اجازت ہے؟ بادشاہ نے اجازت دی ،میں نے کہا :خدائے تعالیٰ بندوں کو کس چیز کی طرف بلاتا ہے بادشاہ نے کہا :لا الہ الا اللہ کی شہادت کی طرف میں نے کہا کہ میں لا الہ الا اللہ کی شہادت دیتا ہوں اور یہ روایت آپ کے دادا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ہے کہ جب وفد عبد قیس حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ،آپ نے پوچھا تم جانتے ہو کہ ایمان کیا ہے؟ اُنہوں نے کہا: اللہ و رسول اعلم ہیں حضرت نے فرمایا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی شہادت اور اقامت صلوۃ اور ایتاء زکوٰۃ اور غنیمت کا پانچواں حصہ دینا ،یہ سنکر بادشاہ نے کہا کہ اگر اپنے سے پہلے بادشاہ کے قید میں ، میںتمہیں نہ پاتا تو تم سے تعرض نہ کرتا، پھر عبدالرحمن ابن اسحاق سے کہا کیا میں تجھ سے نہیں کہا تھا کہ ان سے سختی کو اٹھا دے، اُس نے کہا کہ اِن کی تعذیب مسلمانوں کی آسائش کا باعث ہے ، بادشاہ نے کہا :کہ خیر اب مناظرہ کرو ! اُس نے مجھ سے پوچھا قرآن کو تم مخلوق کہتے ہو یا غیر مخلوق ؟ میں نے کہا: خدائے تعالیٰ کے علم کو تم مخلوق کہتے ہو یا غیر مخلوق ؟ وہ کچھ جواب نہ دے سکا ،مگر ہر طرف
سے دلائل اور اعتراضات ہونے لگے اور میں سب کو جواب دیتا گیا ، یہاںتک کہ سب ساکت ہوگئے، اُس وقت ابن دواد نے بادشاہ سے کہا: خدا کی قسم !یہ شخص گمراہ اور گمراہ کرنے والا بدعتی ہے ، بادشاہ نے کہااور مناظرہ کرلو ،چنانچہ اس بار کے مناظرہ میں بھی میں ہی غالب آیا ،اسی طرح دو روز تک مناظرہ ہوتا رہا ،اس اثنا ء میں اکثر بادشاہ مجھ سے اقرار کرلینے کی فرمائش کرتا اور میں یہی کہتا تھا کہ کوئی آیت یا حدیث اِس باب میں پیش کی جائے تو مجھے اُس کے قبول کرنے میں کچھ عذر نہیں ۔ تیسرے روز ایک نہایت شاندار دربار کیا گیا جس میں مسلح فوج ایک طرف اور کوڑے لئے ہوئے بہت سے لوگ ایک طرف کھڑے کئے گئے تھے اور میں بلایا گیا ،جب میں آیا تو حضار دربار سے خاص خاص لوگوں کو مجھ سے مناظرہ کرنے اور سمجھا نے کا حکم دیا ،چنانچہ بہت دیر تک مناظرہ ہوا جب کوئی نتیجہ نہ نکلا تو بادشاہ نے مجھے ہٹا کر اُن لوگوں سے تخلیہ کیا ،اُس کے بعد اُن کو ہٹا کر مجھ سے تخلیہ کیا اور کہا :اے احمد !تم اقرار کر لو تو میں ابھی تمہیں رہا کر دیتا ہوں، میں نے وہی کہا کہ بغیر قرآن و حدیث کے میں کوئی بات نہیں مان سکتا ،یہ سنکر بادشاہ نے نہایت غصہ سے کہا :اب اس کو کھینچو اور اس کا لباس اُتار لو ،جب قمیص اُتارا گیا تو اُس کی آستیں میں کچھ بندھا ہوا تھا، پوچھا یہ کیا ہے ،میں نے کہا کہ اُس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا موئے مبارک ہے ،پھر بادشاہ اپنے مقام سے اُٹھ کر کرسی پر بیٹھا اور کوڑے والوں کو بلوایا اور اُن کے کوڑے دیکھ کر کہا کہ دوسرے کوڑے لاؤ ،جب دوسرے کوڑے پسند آئے تو جلاّدوں کو حکم دیا کہ خوب زور سے اِس کو مارو ،چنانچہ ایک شخص آگے بڑھا اور زور سے دو کوڑے مار کر ہٹ گیا ،پھر دوسرے نے دو مارے اسی طرح جلاّد نوبت بنوبت آتے اور اپنی پوری طاقت سے دو دو کوڑے مارتے ،جب اُنیس کوڑے مارے گئے بادشاہ کو شاید کچھ رحم آگیا اور اتر کر میرے پاس آیا اور کہنے لگا :اے احمد !تم کیوں اپنے نفس کو قتل کرتے ہو
؟خدا کی قسم !مجھے تم پر شفقت ہے ، کوئی تو ایسی بات کہو کہ مجھے تمہارے چھوڑنے کے لئے حیلہ ہوجائے، میں نے اُس وقت بھی یہی کہا کہ اے امیر المومنین کوئی بات مجھے کتاب اللہ سے معلوم کرائی جائے تو میں ابھی قائل ہوجاتا ہوں ‘ اِس کے ساتھ ہی ہر طرف سے سختیاں شروع ہوئیں ۔ کوئی تلوار کے قبضہ سے مار کر کہتا تھا ،کیا تو اتنے لوگوں پر غالب آجائیگا؟ کوئی کہتا کہ امیر المومنین کی بات کو تو نہیں مانتا ، کوئی کہتا تھا کہ تیرے رفقاء سے کسی نے ایسا نہیں کیا جو تو کر رہا ہے بادشاہ کو غصہ میں لانے کیلئے کہا کہ امیر المومنین آپ روزہ ہو اور دھوپ میں اِس کے لئے کھڑے ہو اِس کو قتل کر ڈالئے اور اس کا خون میری گردن پر ہے ۔ بادشاہ نے کہا: اے احمد! کچھ تو کہو ، میں پھر وہی کہا کہ کوئی آیت یا حدیث مجھے بتلا دو تو میں قبول کرلیتا ہوں ،بادشاہ نے پھر کرسی پر جا بیٹھا ،اور جلاّدوں کو زیادہ سختی کرنے کا حکم دیا۔ لکھا ہے کہ جب امام ؒ پر پہلا کوڑا پڑا آپ نے بسم اللہ کہا اور دوسرے کوڑے پر لا حول ولا قوۃ الا باللہ اور تیسرے پر فرمایا قرآن ، اللہ تعالیٰ کا کلام غیر مخلوق ہے اور چوتھے کوڑے پر ’’لن یصیبنا الا ما کتب اللہ لنا‘‘ علی ہذا القیاس موقع موقع کی آیتیں پیش نظر ہوتی تھیں ۔ اِس اثناء میں ازار بند ٹوٹ گیا اور پائجامہ ناف تک اترآ یا، آپ نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا :الٰہی اگر تو جانتا ہے کہ میں حق پر ہوں، تو میری بے ستری نہ ہو ۔ لکھا ہے کہ پائجامہ وہیں رک گیا اور تھوڑی دیر کے بعد آپ بیہوش ہوگئے اور وہاں سے اٹھا کر کسی مکان میں آپ کو لٹا دیا ۔ آپ فرماتے ہیں کہ جب سختی سے کوڑے پڑنے لگے تو میں بیہوش ہوگیا اور مجھے کچھ خبر نہیں کہ اُس کے بعد کیا ہوا ،جب ہوش آیا تو دیکھا کہ بیڑیاں پیروں سے نکلی ہوئی ہیں ،لوگوں نے کہا کہ جب آپ بیہوش ہو کر گر گئے تو لوگوں نے آپ کو پیروں سے خوب روندا، آپ نے کہا مجھے اِس کی کچھ خبر نہیں ۔ غرض کہ کامل اٹھائیس مہینے آپ پر اقسام کی مصیبتیں ڈالی گئیں ،آخر بمجبوری رہا کئے گئے ۔ لکھا ہے کہ ہوش آنے
کے بعد کسی نے ستو پیش کیا ،آپ نے فرمایا کہ میں روزہ نہ توڑں گا ،پھر نماز ظہر ایسی حالت میں پڑھی کہ زخموں سے خون جاری تھا ،کسی نے کہا یہ نمازکیسی ؟ خون آپ کے کپڑوں میں جاری ہے ، فرمایا :عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ایک بار ایسی ہی حالت میں نماز پڑھی ہے ، اُس کے بعد آپ رہا کئے گئے،امامؒ کے فرزند صالح کہتے ہیں کہ یہ واقعہ رمضان میں ہوا ،کئی روز آپ پر ایسے گذرے کے بغیر سحر اور افطار کے روزے رکھا کئے اور کسی کو موقع نہ ملا کہ کھانا یاپانی آپ کو پہنچا سکیں اور روزانہ مار پڑتی تھی ،ایک روز کمال تشنگی کی حالت میں بے اختیار آپ نے سقا سے پانی مانگا ، اُس نے برف پڑا ہوا پانی دیا ،آپ نے پیالہ لے لیا اور تھوڑی دیر تک پانی کو دیکھتے رہے، آخر خوف الٰہی غالب ہوا اور پانی نہ پی سکے ۔ لکھا ہے جب تک آپ کو ہوش تھا ہر کوڑے پر آپ معتصم باللہ کے ذمہ کو بری کرتے اور اُس کی خطا معاف کرتے تھے ۔ کسی نے اُس کی وجہ دریافت کی آپ نے فرمایا :میں مکروہ سمجھتا ہوں کہ قیامت میں یہ کہا جائے کہ یہ شخص نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کی اولاد اور اہل بیت کا دعویدار ہے ۔
حیوۃ الحیوان میں علامہ دمیریؒ نے لکھا ہے کہ امام شافعیؒ نے مصر میں خواب دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم برآمد ہیں اور فرماتے ہیں کہ احمد بن حنبل کو جنت کی خوشخبری دو کہ وہ اُن مصیبتوں کے معاوضہ میں دی گئی ،جو قرآن کو مخلوق کہلوانے کی غرض سے اُن پر ڈالی جائیں گی اور اُن سے کہدو کہ وہ ہرگز اُس کے قائل نہ ہو ،بلکہ صاف کہدیں کہ قرآن غیر مخلوق نازل کیا گیا ہے ۔ امام شافعیؒ نے اُسی روز یہ واقعہ لکھ کر ایک خاص شخص کے ہاتھ میں خط دیا کہ امام احمد ابن حنبل کو بغداد میں پہونچا دے ،آپ نے اُس خط کو دیکھ کر ماشاء اللہ لا قوۃ الا باللہ پڑھا اور اُس نامہ بر کو بطور انعام اپنا خاص قمیص دیا ،جو جسم کے ساتھ متصل تھا، ۔ امام شافعیؒ کو جب قمیص کا حال معلوم ہوا تو اُس شخص پر فرمائش کی اُس کا دھووَن ہمیں
لادو ، چنانچہ اُس متبرک قمیص کا دھووَن اپنے تمام جسم پر سے آپ نے بہایا ، اور اُس میں لکھا ہے کہ محمد ابن خزیمہ کہتے ہیں کہ جب امام احمد رضی اللہ عنہ کی وفات کی خبر پہونچی تو مجھے نہایت غم ہوا، اُسی رات خواب میں دیکھا کہ امام ؒ نہایت فاخرہ لباس پہنے متکبرانہ رفتار سے چلے آ رہے ہیں میں نے پوچھا :حضرت یہ تبختر کیسا ؟ فرمایا دارالسلام میں خدام کی رفتار کا انداز یہی ہوتا ہے ،میں نے پوچھا حق تعالیٰ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ فرمایا مغفرت کی اور تاج اور فاخرہ لباس پہنا کر فرمایا کہ یہ اُس کا بدلہ ہے جو تم نے کہا تھا کہ قرآن میرا کلام غیر مخلوق ہے ۔ ابن خلکان نے وفیات الاعیان میں ابو الفرج ابن جوزی کا قول نقل کیا ہے کہ ابراہیم ابن حربیؒ نے ایک رات بشرحافیؒ کو خواب میں دیکھا کہ مسجد رصافہ کے قریب تشریف فرما ہیںاور آپ کی آستین میں کوئی چیز حرکت کر رہی ہے ،پوچھا یہ کیا ہے ؟فرمایا :شب گذشتہ احمد ابن حنبلؒ کی روح جب ہمارے یہاں آئی تو اُس پر موتی اور یاقوت نثار کئے گئے یہ اُسی میں سے ہیں، جن کو میں نے چنُ لیا ہے ۔ طبقات شافعیہ وغیرہ میں لکھا ہے کہ مسئلہ خلق قرآن کی ابتدا مامون نے ۲۱۲؁ھ میں کی اور ۲۱۸؁ ھ میں اُس پر زور دیا اور ۲۳۴؁ھ کی آخر تک اِس کا سلسلہ جاری رہا ۔ اگرچہ واثق کے زمانہ میں اس فتنہ کا زور ٹوٹا ،مگر جعفر متوکل نے اُس سے دست بردار ہو کر احکام جاری کئے کہ موافق سنت کے اس مسئلہ میں اعتقاد رکھا جائے، اِس مدت میں بہت سے محدثین شہید کئے گئے ۔
طبقات شافعیہ اور حیوۃ الحیوان میں لکھا ہے کہ ایک بزرگ کو قید کر کے واثق کے دربار میں لایا گیا ، ابن ابی دوّاد نے حسب عادت اُن سے پوچھا کہ تم قرآن کو مخلوق کہتے ہو یا غیر مخلوق ؟انہوں نے کہا میں تم سے ایک بات پوچھتا ہوں کہا وہ کیا ؟کہا کہ قرآن کے مخلوق ہونے کا حال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابوبکر اور عمر اور عثمان اور علی رضی اللہ عنہم بھی جانتے تھے یا نہیں ؟ کہا جانتے تھے ،کہا جس طرح تم لوگوں کو اُس کی طرف بُلاتے ہو کیا وہ
بھی بلاتے تھے یا انہوں نے سکوت کیا تھا ؟ کہا سکوت کیا تھا ۔ کہا پھر تم کیوں سکوت نہیں کرتے ،اِس کا جواب اُس سے کچھ نہ ہوسکا اور بادشاہ کے سمجھ میں وہ بات آگئی اور اُن کو چھوڑ دینے کا حکم دیا ۔

لطیفہ

طبقات شافعیہ میں ایک لطیفہ لکھا ہے کہ ایک مسخرہ جس کا لقب عبادہ مخنث تھا ، ایک روز واثق باللہ کے پاس آ کر کہا ’ ’اعظم اللہ اجرک فی القرآن یا امیر المومنین‘‘ عرب کا دستور ہے کہ جب کوئی مرجاتا ہے تو اُس کی تعزیت میں اعظم اللہ اجرک کہتے ہیں، بادشاہ نے کہا :کہ اے کمبخت کیا قرآن بھی مرتا ہے ؟ کہا اے امیرالمومنین قرآن آخر مخلوق ہے اور مخلوق کا مرنا ضرور ہے ، پھر پوچھا اے امیر المومنین اگر قرآن مرجائے تو تراویح کون پڑھائے گا ؟ بادشاہ نے کہا کمبخت چپ رہ ۔
اب ہم چند امور یہاں بیان کرتے ہیں جو اِس واقعہ سے مستنبط ہوتے ہیں ،ہر چند مقصود کتاب سے اُن کو چنداں تعلق نہیں مگر مناسب مقام ہیں ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *