حضرت فاطمہ زہرا ء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا

حضرت فاطمہ زہرا ء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا

فاطمہ نام ، زہرا اور بتول لقب ہیں ، جمال و کمال کے سبب سے زہراء کہلاتی تھیں اور ماسوا سے انقطاع کی وجہ سے بتول تھیں ۔بعثت کے پہلے سال یا بعثت سے ایک سال پہلے یا پانچ سال پہلے بنا بر اختلافِ روایات پیدا ہوئیں ۔ ( ۳)
ہجرت کے دوسرے سال آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کا نکاح حضرت علی مرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجَہَہُ سے کردیا۔آپ نے حضرت علی سے پوچھا کہ ادائے مہر کے واسطے تمہارے پاس کچھ ہے؟ حضرت علی نے جواب

دیا کہ ایک گھوڑا اور زِرَہ ہے۔ فرمایا کہ گھوڑا جہاد کے لئے ضروری ہے زِرَہ کو فروخت کر ڈالو۔چنانچہ وہ زِرَہ حضرت عثمان غنی نے 480 درہم کو خریدی۔ حضرت علی نے قیمت لاکر حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے آگے ڈال دی۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس میں سے کچھ حضرت بلال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کو دیا کہ خوشبو خرید لائیں اور باقی جہیز وغیرہ کے لئے اُم سُلَیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے حوالہ کیا، اس طرح عقد ہوگیا۔جہیز میں یہ چیزیں تھیں : (۱ ) ایک لحاف، ایک چمڑے کا تکیہ جس میں درخت خرما (۲ ) کی چھال بھری ہوئی تھی، دو چکیاں ، ایک مشک، دو گھڑے۔ اسی سال ماہ ذوالحجہ میں رسم عروسی ادا کی گئی۔ حضرت علی مرتضی کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی َوجْہَہُ الْکَرِیْم نے ادائے رسم کے لئے مکان کرایہ پر لیا۔ پھر حضرت حارِثہ بن نعمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ نے دے دیا۔ ( ۳)
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اپنے اہل میں فاطمہ سب سے پیاری تھیں ۔ جب سفرپر جایا کرتے تو اخیر میں فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے مل کر جاتے جب واپس آتے تو سب سے پہلے فاطمہ سے ملتے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمایا کرتے تھے کہ فاطمہ میرا پارۂ گوشت ہے جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ فاطمہ ہی کی نسبت حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ارشاد ہے: خیر نساء ھذہ الامۃ۔ سیدۃ نساء العالمین۔ سیدۃ نساء اہل الجنۃ۔ سیدۃ نساء المومنین۔ افضل نساء الجنۃ۔ (۴ )
صاحبزادیوں میں صرف حضرت فاطمہ زہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاسے حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامکا سلسلہ نسب جاری ہے اور قیامت تک رہے گا۔
حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو گھر کا تمام کام کرنا پڑتا تھا۔ایک روز خبر لگی کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس لونڈی غلام آئے ہیں اس لئے وہ ایک خادمہ کی درخواست کرنے کے لئے حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دولت خانہ میں آئیں ۔ آخر کار بارگاہِ رسالت سے جو جواب ملااس کا ذکر پہلے آچکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں ۔
خانگی ( ۱) معاملات میں بعض دفعہ حضرت علی و فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا میں رنجش ہوجایا کرتی تھی تو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام دونوں میں مصالحت کروادیا کرتے تھے۔چنانچہ ایک روز کا ذکر ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت فاطمہ زہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے دولت خانہ میں تشریف لے گئے۔ حضرت علی کو وہاں نہ پایا آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت زہراء سے (محاورۂ عرب کے موافق) پوچھا کہ میرے چچا کا بیٹا کہاں ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم دونوں میں کچھ ان بن ہوگئی ہے وہ ناراض ہوکر نکل گئے اور میرے ہاں قیلولہ نہیں فرمایا۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک شخص سے فرمایا کہ دیکھو تو کہاں ہیں ؟ اس نے آکر عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہ مسجد میں سوئے ہوئے ہیں ۔ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد میں تشریف لے گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ وہ پہلو کے بل لیٹے ہوئے ہیں چادر پہلو سے گری ہوئی ہے اور خاک آلود ہورہے ہیں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم خاک جھاڑنے لگے اور فرمایا: اے ابو تراب! اٹھ بیٹھو۔ اس حدیث کے راوی حضرت سہل بن سعد بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی کو اس نام سے پیارا کوئی نام نہ تھا۔ (۲ ) (صحیحین)
فتح مکہ کے بعد حضرت علی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ابو جہل کی لڑکی سے نکاح کرنا چاہا۔حضرت زہرا رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے سنا تو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر کہنے لگیں : ’’ آپ کو قوم کہتی ہے کہ آپ اپنی صاحبزادیوں کے لئے ناراض نہیں ہوتے۔ یہ دیکھئے کہ علی ابو جہل کی لڑکی سے نکاح کرنے لگے ہیں ۔ ‘‘ یہ سن کر حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ اما بعد! میں نے ابو العاص سے اپنی صاحبزادی کا نکاح کردیا۔ اس نے مجھ سے بات کہی اور سچ کر دکھائی مجھ سے وعدہ کیا اور پورا کردیا۔ فاطمہ میرا گوشت پارہ ہے میں پسند نہیں کرتا کہ

اسے تکلیف پہنچے۔ اللّٰہ کی قسم! رسول خدا کی لڑکی اور دشمن خدا کی لڑکی ایک شخص کے ہاں جمع نہ ہوں گی۔ ‘‘ یہ سن کر حضرت علی کَرَّمَ اللّٰہُ وَجَہَہُ الْکَرِیْم نے خواستگاری (۱ ) چھوڑدی۔ ( ۲)
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال شریف کے بعد حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کبھی ہنستی نہ دیکھی گئیں اور وصال شریف کے چھ ماہ بعد ۳ رمضان ۱۱ ھ میں انتقال فرماگئیں ۔ حضرت عباس نے نماز جنازہ پڑھائی۔ بقیع میں رات کے وقت دفن ہوئیں ۔ حضرات علی و عباس و فضل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم نے قبر میں اتارا۔ (۳ )
حضرت زہراء رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی اولاد تین لڑکے اور تین لڑکیاں تھیں ۔ امام حسن وامام حسین جو اہل جنت کے جوانوں کے سردار ہیں ۔ محسن و رُقیہ جو بچپن میں انتقال کرگئے۔ ام کلثوم جن کی شادی حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ہوئی۔ زینب جن کا نکاح عبد اللّٰہ بن جعفر سے ہوا۔ ان میں سے سوائے حضرات حسنین رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے کسی سے نسل نہیں رہی۔ (۴ )

حضرت عبد اللّٰہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ

حضرت خدیجۃ الکبریٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی اولاد میں یہ سب سے چھوٹے ہیں ۔بعثت کے بعد پیدا ہوئے اور بچپن میں انتقال فرماگئے۔طیب و طاہر اِن ہی کے لقب ہیں ۔ (۵ )

حضرت ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ

آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سب سے آخری اولاد ہیں ۔ ذی الحجہ ۸ ھ میں مقام

عالیہ (۱ ) میں جہاں ان کی والدہ حضرت ماریہ قبطیہ رہا کرتی تھیں پیدا ہوئے۔ اسی سبب سے عالیہ کو مشربہ ام ابراہیم بھی کہنے لگے تھے۔ ابو رافع کی بیوی سلمیٰ نے جو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یا آپ کی پھوپھی صفیہ کی لونڈی تھیں دایہ گری کی خدمت انجام دی۔ جب ابو رافع نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ان کی ولادت کی بشارت دی تو حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابو رافع کو ایک غلام عطا فرمایا۔ ساتویں دن عقیقہ دیا اور سر کے بالوں کے برابر چاندی خیرات کی اور حضرت ابراہیم کے نام پر ابراہیم نام رکھا۔
دودھ پلانے کے لئے آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابراہیم کو ام سیف کے حوالہ کیا۔ام سیف کا شوہر ابو سیف لوہار تھا۔ حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّم ابراہیم کو دیکھنے کے لئے عوالی مدینہ میں تشریف لے جایا کرتے تھے ہم آپ کے ساتھ ہوا کرتے حضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ابراہیم کو گود میں لے کر چوما کرتے۔ گھر دھوئیں سے پُر ہوا کرتا، بعض دفعہ میں پیشتر پہنچ کر ابو سیف کو اطلاع کردیتا کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لا رہے ہیں دھواں نہ کرو۔یہ سن کر ابوسیف اپنا کام بند کردیتے۔
حضرت ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ام سیف ہی کے ہاں انتقال فرمایا۔ حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو خبر ہوئی کہ ابراہیم حالت نزع میں ہے۔ اس وقت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کے پاس تھے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کو ساتھ لے کر وہاں پہنچے دیکھا کہ نزع کی حالت ہے گود میں اٹھا لیا آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے۔ عبد الرحمن نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ ایسا کرتے ہیں ! فرمایا: ابن عوف! یہ رحمت و شفقت (میت پر) ہے۔ پھر فرمایا: ’’ ابراہیم! ہم تیری جدائی سے غمگین ہیں آنکھیں اشکبار ہیں دل غمگین ہے ہم وہی کہتے ہیں جس سے ہمارا رب راضی ہو۔ ‘‘
چھوٹی سی چارپائی پر جنازہ اٹھایا گیا۔بقیع میں آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے نماز جنازہ پڑھائی حضرت عثمان بن مظعون رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی قبر سے متصل دفن ہوئے۔ فضل و اسامہ نے قبر میں اتارا رسول اللّٰہ صَلَّی

اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قبر کے کنارے کھڑے تھے آپ کے ارشاد سے ایک انصاری پانی کی مشک لایا اور قبر پر چھڑک دیااور شناخت کے لئے ایک نشان قائم کیا گیاجیسا کہ حضرت عثمان کی قبر پر کیا گیاتھا۔ حضرت ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی عمر حسب روایت صحاح 17 یا 18 ماہ تھی۔
عرب جاہلیت کا اِعتقاد تھا کہ جب کوئی بڑا شخص مر جاتا یا کوئی حادثہ عظیم وقوع میں آتا ہے تو سورج یا چاند میں گہن لگ جاتا ہے۔اتفاق سے حضرت ابراہیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی وفات کے دن سورج میں گہن لگ گیا تھااس لئے لوگ کہنے لگے کہ یہ ابراہیم کی موت کے سبب سے ہے۔آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ سورج چاند خدا تعالٰی کے دو نشان ہیں کسی کی موت سے ان میں گہن نہیں لگتا۔ (۱ )
اعتراض: یہود و نصاریٰ اور ان کے کاسہ لیس (۲ ) آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کثرتِ اِزدواج پر طعن کرتے ہیں اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شان میں دَرِیدہ دَ ہنی (۳ ) کرتے ہیں ۔
جواب : اس اعتراض کا جواب اللّٰہ تعالٰی نے اپنے کلام پاک میں یوں دیا ہے:
وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلًا مِّنْ قَبْلِكَ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ اَزْوَاجًا وَّ ذُرِّیَّةًؕ- (رعد، ع۶)
اور البتہ بیشک ہم نے تجھ سے پہلے پیغمبر بھیجے اور ان کو عورتیں اور اولاد دی۔ ( ۴)
اس آیت میں اللّٰہ تعالٰی اپنے حبیب پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے خطاب فرماتا ہے کہ آپ سے پہلے جو پیغمبر گزرے ہیں ہم نے ان کو عورتیں دیں جیسا کہ تجھ کو دیں ۔اس کی تفصیل بائبل میں پائی جاتی ہے چنانچہ حضرت ابراہیم کے ہاں تین بیویاں تھیں ۔ (پیدائش، باب۱۱، آیہ۲۹، باب۱۶، آیہ۳، باب ۲۵، آیہ اول) حضرت یعقوب عَلَیْہِ السَّلام کی چار بیویاں تھیں ۔ (پیدائش، باب ۲۹، باب ۳۰، آیہ ۴، ۹) ان چار میں سے راحیل کی نسبت لکھا ہے: ’’ راحیل خوبصورت اور خوشنما تھی۔یعقوب (نکاح سے پہلے) راحیل پر عاشق تھا۔ ‘‘ (پیدائش، باب ۲۹، آیہ ۱۷، ۱۸)
حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کی دو بیویاں تھیں ۔ (خروج، باب ۲، آیہ ۲۱۔ اعداد، باب ۱۲، آیہ اول) حضرت جدعون نبی

کی بہت سی بیویاں تھیں جن سے ستر لڑکے پیدا ہوئے۔ (اقضاۃ، باب۸، آیہ ۳۰) حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلام کے ہاں بہت سی بیویاں تھیں ۔ (اول سموئیل، باب۱۸، آیہ ۲۷۔ باب ۲۵، آیہ ۴۲، ۴۳۔ دوم سموئیل، باب ۳، آیہ ۲تا۵۔ باب ۵، آیہ ۱۳) حضرت داؤد نے حالت پیری میں ابی ساج سونمی سے نکاح کیا تاکہ وہ گرم رہیں ۔ (اول سلاطین، باب اول) حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام کے ہاں بہت عورتیں تھیں ۔ چنانچہ اول سلاطین (باب ۱۱، آیہ ۳، ۴) میں یوں ہے:
’’ اس کی سات سو جورواں بیگمات تھیں اور تین سو حر میں (۱ ) اور اس کی جوروں نے اس کے دل کو پھیرا کیونکہ ایسا ہوا کہ جب سلیمان بوڑھا ہوا تو اس کی جوروں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کیا۔ ‘‘
پس ثابت ہوا کہ ’’ ایک سے زائد زوجہ کا ہونا ‘‘ نبوت کے منافی نہیں ۔بائبل میں جو پیغمبروں کی نسبت دَرِیدہ دَہنی (۲ ) کی گئی ہے ہم اسے غلط سمجھتے ہیں اور پیغمبروں کو معصوم جانتے ہیں ۔ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام۔
حدیث شریف میں وارد ہے کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: حُبِّبَ اِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النساء وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِی الصَّلٰوۃِ ۔ دنیا سے میرے لئے عورتیں اور خوشبو محبوب بنائی گئی اور میری آنکھ کی ٹھنڈک نماز میں بنائی گئی۔ ( ۳)
اس حدیث کے معنی میں دو قول بیان کیے جاتے ہیں : ایک یہ کہ حب اَزواج، زیادہ موجب ِابتلاء و تکلیف اور بَمُقْتَضائے بشریت ( ۴) آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ادائے رسالت سے غافل ہونے کا اندیشہ ہے مگر اس کے باوجود حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس سے کبھی بھی غافل نہ رہے تو اس سے معلوم ہوا کہ حب نسا میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے مشقت زیادہ اور اَجر اَعظم ہے۔
دوسرے یہ کہ حب نساء اس واسطے ہوا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے خلوات اپنی ازواج کے ساتھ ہوں اور مشرکین جو آپ کو ساحر و شاعر ہونے کی تہمت لگاتے تھے وہ جاتی رہے۔بس عورتوں کا محبوب بنایا جانا آپ کے

حق میں لطف ربانی ہے۔ غرض بہر صورت یہ حب آپ کے لئے باعث فضیلت ہے۔ (۱ )
اس حدیث کے اَخیر میں اس امر کی طرف اشارہ ہے کہ وہ محبت آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے اپنے پروردگار کے ساتھ کمالِ مناجات سے مانع نہیں بلکہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم باوجود اس محبت کے اللّٰہ تعالٰی کی طرف ایسے متوجہ ہیں کہ اس کی مناجات میں آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رہتی ہیں اور ماسوا میں آپ کے لیے ٹھنڈک نہیں ۔ پس حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی محبت حقیقت میں صرف اپنے خالق تبارک و تعالٰی کے لئے ہے اور حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ حب نساء جب حقوق عبودیت کے ادا میں مخل نہ ہوبلکہ اِنقطاع الی اللّٰہ (۲ ) کے لئے ہو تو وہ از قبیل کمال ہے ورنہ از قبیل نقصان ہے۔ (۳ )
شیخ تقی الدین سبکی فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو جو چار سے زیادہ ازواج کی اجازت دی گئی۔اس میں یہ بھید ہے کہ اللّٰہ تعالٰی نے چاہا کہ بواطن شریعت و ظواہر شریعت (۴ ) اور وہ امور جن کے ذکر سے حیا آتی ہے اور وہ جن کے ذکر سے شرم نہیں آتی۔ یہ سب بطریق نقل امت تک پہنچ جائیں چونکہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں میں سب سے زیادہ شرمیلے ( ۵) تھے اس لئے اللّٰہ تعالٰی نے آپ کے لئے چار سے زائد عورتیں جائز کردیں جو شرع میں سے نقل کریں حضرت کے افعال آنکھوں دیکھے اور اقوال کانوں سنے، جن کو حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مردوں کے سامنے بیان کرنے سے حیا کرتے تھے تاکہ اس طرح نقل شریعت کامل ہوجائے۔ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اَزواج کی تعداد کثیر ہوگئی تاکہ اس طرح کے اقوال و افعال کے نقل کرنے والے زیادہ ہوجائیں ۔ ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ ہی سے غسل و حیض و عدت وغیرہ کے مسائل معلوم ہوئے۔ یہ کثرت ازواج حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے معاذاللّٰہ شہوت کی غرض سے نہ تھی اور نہ آپ وطی کو العیاذ باللّٰہ لذت بشریہ کے لئے پسند فرماتے تھے۔ عورتیں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے صرف اس واسطے محبوب بنائی گئیں کہ وہ

آپ سے ایسے مسائل نقل کریں جن کے زبان پر لانے سے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم شرم و حیا کرتے تھے۔ پس آپ بدیں وجہ ازواج سے محبت رکھتے تھے کہ اس میں شریعت کے ایسے مسائل نقل کرنے پر اعانت تھی۔ ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ نے وہ مسائل نقل کیے جو کسی اور نے نہیں کیے۔ چنانچہ انہوں نے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے منام اور حالت خلوت میں جو نبوت کی آیات بینات دیکھیں اور عبادت میں آپ کا جو اجتہاد دیکھا اور وہ امور دیکھے کہ ہر عاقل شہادت دیتا ہے کہ وہ صرف پیغمبر میں ہوتے ہیں اور ازواج مطہرات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کے سوا کوئی اور ان کو نہ دیکھ سکتا تھا۔ یہ سب ازواج مطہرات سے مروی ہیں ۔اس طرح حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کثرت ازواج سے نفع عظیم حاصل ہوا۔ (
________________________________

3 – شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ ، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام ۔۔۔ إلخ ، ج۴،ص ۳۳۱۔۳۳۳۔علمیہ

1 – طبقات ابن سعد، جزء ثامن، ترجمہ زہراء۔ (الطبقا ت الکبری ،تسمیۃ النساء المسلمات والمھاجرات من قریش۔۔۔الخ، باب ما ذکر بنات رسول اللّٰہ ، ج۸ ص۱۹ شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد اوّل ۔۔۔إلخ، ذکر تزویج علی بفاطمۃ رضی اللّٰہ عنہا،ج ۲،ص ۳۵۷۔۳۶۰۔علمیہ)
2 – کھجور کے درخت۔
3 – وفاء الوفاء للسمہودی۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ ، کتاب النساء ، حرف الفاء ، فاطمۃ الزھراء : ۱۱۵۸۷ ، ج۸ ، ص۲۶۴۔علمیہ)
4 – شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی۔۔۔إلخ،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام،ج ۴،ص ۳۳۴۔۳۳۶۔علمیہ
1 – گھریلو۔
2 – صحیح البخاری ، کتاب: فضا ئل اصحاب النبی ، باب مناقب علی بن ابی طالب ۔۔۔ الخ،الحدیث :۳۷۰۳ ، ج۲، ص۵۳۵۔علمیہ

________________________________
1 – نکاح کا پیغام بھیجنا۔
2 – شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام،ج ۴، ص ۳۳۵۔علمیہ
3 – الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، کتاب النساء، حرف الفائ، فاطمۃ الزھراء :۱۱۵۸۷، ج ۸،ص۲۶۸۔علمیہ
4 – شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ، الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام، ج ۴، ص ۳۳۹ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، کتاب النساء، فیمن عرف بالکنیۃ من النساء،حرف الکاف،ام کلثوم بنت علی:۱۲۲۳۷، ج ۸،ص۴۶۵ الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ،کتاب النساء،حرف الزای المنقوطۃ، زینب بنت علی :۱۱۲۶۷، ج۸، ص۱۶۶ سبل الھدی والرشاد،فی بعض مناقب السیدۃ فاطمۃ۔۔۔إلخ،ج ۱۱، ص ۵۱۔علمیہ
5 – شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ،المقصد الثانی ۔۔۔إلخ،الفصل الثانی فی ذکر اولادہ الکرام،ج۴،ص۳۱۴۔علمیہ

________________________________
1 – مدینہ منورہ کے بالائی حصہ کی آبادی کو عالیہ یا عوالی مدینہ کہتے ہیں ۔

________________________________
1 – سبل الھدی والرشاد،فی الباب الخامس فی بعض مناقب سیدناابراہیم ۔۔۔إلخ،ج ۱۱، ص ۲۱۔۲۴۔علمیہ
2 – ان کے نقش قدم پر چلنے والے۔
3 – گستاخی۔
4 – ترجمۂکنزالایمان:اور بیشک ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے اور ان کے لیے بیبیاں اور بچے کئے۔ (پ۱۳،الرعد:۳۸)۔علمیہ

________________________________
1 – کنیزیں ۔
2 – گستاخی۔
3 – سنن نسائی،کتاب عشرۃ النساء،باب حب النساء،الحدیث:۳۹۴۵،ص۶۴۴۔علمیہ
4 – بشری تقاضے کے تحت۔

________________________________
1 – شرح النساء للسیوطی،کتاب عشرۃ النساء، باب حبّ النساء ،ج۴،الجز۷،ص۶۱۔۶۲۔علمیہ
2 – اللّٰہ سے خاص تعلق۔
3 – شرح النساء للسیوطی،کتاب عشرۃ النساء، باب حبّ النساء ،ج۴،الجز۷،ص۶۲۔۶۳۔علمیہ
4 – شریعت کے ظاہری اور باطنی اُمور۔
5 – شرم والے۔

________________________________
1 – زہر الربیع للسیوطی وحاشیہ سندی برنسائی۔ (شرح النساءی للسیوطی ،کتاب: عشرۃ النساء ، باب میل الرجل الی بعض نسائہ دون بعض، ج۴،جز ۷، ص۶۴۔علمیہ)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *