حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

یہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے غلام تھے لیکن آپ نے ان کو آزاد فرماکراپنا متبنی بنالیا تھا اوراپنی باندی حضرت ام ایمن رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے ان کا نکا ح فرمادیا تھا جن کے بطن سے ان کے صاحبزادے حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ پیدا ہوئے ان کی ایک بڑی خاص خصوصیت یہ ہے کہ ان کے سوا قرآن مجید میں دوسرے کسی صحابی کا نام مذکور نہیں ہے ۔ یہ بہت ہی بہادر مجاہد تھے ۔ غلاموں میں سب سے پہلے انہوں نے ہی اسلام قبول کیا۔ ”جنگ موتہ”کی مشہورلڑائی میں جب آپ تمام اسلامی افواج کے سپہ سالار تھے ۸ھ ؁میں کفار سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش فرمایا ۔ (2)
(اکمال،ص۵۹۵واسدالغابہ،ج۲،۲۲۴تا۲۲۷)

کرامت
ساتویں آسمان کا فرشتہ زمین پر

آپ کی ایک کرامت بہت زیادہ مشہور او رمستند ہے کہ ایک مرتبہ آپ نے سفر

کے لیے طائف میں ایک خچر کرایہ پر لیا، خچر والا ڈاکو تھا، وہ آپ کو سوار کر کے لے چلا اور ایک ویران وسنسان جگہ پر لے جاکر آپ کو خچر سے اتاردیا اور ایک خنجر لے کر آپ کی طرف حملہ کے ارادہ سے بڑھا آپ نے یہ دیکھا کہ وہاں ہر طرف لاشوں کے ڈھانچے بکھرے پڑے ہوئے ہیں،آپ نے اس سے فرمایا کہ اے شخص!تو مجھے قتل کرنا چاہتا ہے تو ٹھہر ! مجھے اتنی مہلت دے دے کہ میں دو رکعت نماز پڑھ لوں ۔ اس بدنصیب نے کہا کہ اچھا تو نماز پڑھ لے، تجھ سے پہلے بھی بہت سے مقتولوں نے نمازیں پڑھیں تھیں مگر ان کی نمازوں نے ان کی جان نہ بچائی۔
حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ جب میں نماز سے فارغ ہوگیا تو وہ مجھے قتل کرنے کے لیے میرے قریب آگیا تو میں نے دعا مانگی اور یَااَ رْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ کہا ۔غیب سے یہ آواز آئی کہ اے شخص!تو ان کو قتل مت کر ۔ یہ آواز سن کر وہ ڈاکو ڈر گیا اور ادھر ادھر دیکھنے لگا جب کوئی نظر نہیں آیا تو وہ پھر میرے قتل کے لیے آگے بڑھاتو میں نے پھر بلندآواز سے یَا اَ رْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ کہا اورغیبی آواز آئی۔ پھر تیسری مرتبہ جب میں نے یَا اَ رْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ کہا تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص گھوڑے پر سوار ہے اوراس کے ہاتھ میں نیزہ ہے اورنیزے کی نوک پر آگ کا ایک شعلہ ہے ۔ اس شخص نے آتے ہی ڈاکو کے سینے میں اس زور سے نیزہ مارا کہ نیزہ اس کے سینے کو چھیدتا ہوا اس کی پشت کے پارنکل گیا اور ڈاکو زمین پر گرکر مرگیا۔
پھر وہ سوار مجھ سے کہنے لگا کہ جب تم نے پہلی مرتبہ یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ کہاتو میں ساتویں آسمان پر تھا اور جب دوسری مرتبہ تم نے یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ کہا تو میں آسمان دنیا پر تھا اورجب تیسری مرتبہ تم نے یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْنَ کہا تو میں تمہارے

پاس امداد ونصرت کے لئے حاضر ہوگیا۔ (1) (استیعاب ،ج۱،ص۵۴۸)

تبصرہ

اس سے سبق ملتا ہے کہ خدا وند قدوس کے اسماء حسنی اور مؤمنین کی دعاؤں سے بڑی بڑی بلائیں ٹل جاتی ہیں اورایسی ایسی امداداورآسمانی نصرتوں کا ظہور ہوا کرتاہے جن کو خدا وند کریم کے فضل عظیم کے سوا کچھ بھی نہیں کہا جاسکتا مگر افسوس کہ آج کل کے مسلمان مصیبتوں کے ہجوم میں بھی مادی وسائل کی تلا ش میں بھاگے بھاگے پھرتے ہیں اور لیڈروں ، حاکموں اور دولت مندوں کے مکانوں کا چکر لگاتے رہتے ہیں مگر اَ رْحَمُ الرَّاحِمِیْن اوراَحْکَمُ الْحَاکِمِیْن کے دربار عظمت میں گڑگڑا کر اپنی دعاؤں کی عرضی نہیں پیش کرتے اورخلاق عالم جل جلالہ سے امدادونصرت کی بھیک نہیں مانگتے حالانکہ ایمان یہ ہے کہ بغیر فضل ربانی کے کوئی انسانی طاقت کسی کی بھی کوئی امداد ونصرت نہیں کرسکتی ۔ افسوس!سچ کہا ہے کسی حقیقت شناس نے ؎

اس طرف اٹھتے نہیں ہاتھ جہاں سب کچھ ہے
پاؤں چلتے ہیں ادھر کو کہ جہاں کچھ بھی نہیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *