حضرت رُقَیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا

حضرت رُقَیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا

 

حضرت رُقیہ اور ام کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا دونوں کی شادی ابو لہب کے بیٹوں سے ہوئی تھی جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تبلیغ کا کام شروع کیا تو ابو لہب لعین نے اپنے بیٹوں سے کہا: ’’ اگر تم محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی بیٹیوں سے علیحدگی اختیار نہیں کرتے تو تمہارے ساتھ میری نشست و برخاست حرام ہے۔ ‘‘ عُتْبَہ اور عُتَیْبَہ دونوں نے باپ کے حکم کی تعمیل کی۔آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے رقیہ کا نکاح حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے کردیا۔
نکاح کے بعد حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت رُقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے ساتھ حبشہ کی طرف ہجرت کی۔ان کے ہاں وہاں ایک لڑکا پیدا ہواجس کا نام عبد اللّٰہ تھا۔عبد اللّٰہ نے اپنی ماں کے بعد ۴ ھ میں چھ برس کی عمر میں وفات پائی۔
حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حبشہ سے مکہ میں آئے اور مکہ سے دونوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ایام بدر میں حضرت رقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بیمار تھیں اس لئے حضرت عثمان ان کی تیمارداری کے لئے غزوۂ بدر میں شامل نہ ہوئے۔ جس روز حضرت زید بن حارثہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فتح کی بشارت لے کر مدینہ میں آئے اسی روز حضرت رقیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے بیس سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غزوۂ بدر کے سبب جنازہ میں شریک نہ ہوسکے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *