Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حضرت اُم حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا

حضرت اُم حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا
اصلی نام رَمْلہ اور کنیت اُم حبیبہ تھی۔آپ حضرت ابوسفیان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی دختر بلند اختر اور حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکی بہن تھیں ۔ پہلے عبیداللّٰہ بن جحش کے نکاح میں تھیں ۔ دونوں نے اسلام لاکر حبشہ کی طرف ہجرت ثانیہ کی۔ وہیں ان کی لڑکی حبیبہ پیدا ہوئی۔ عبیداللّٰہ عیسائی ہو کر حبشہ ہی میں مر گیا۔ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم نے ام حبیبہ کی حالت وغربت کو مدنظر رکھتے ہوئے نجاشی کی معرفت نکاح کا پیغام دیا جسے انہوں نے بخوشی قبول کیا۔ چنانچہ نجاشی نے ۷ ھمیں ان کا نکاح حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے کردیا۔ جیسا کہ اس کتاب میں پہلے آچکا ہے۔ جب نکاح کے تمام رسوم ادا ہوگئے تو نجاشی نے ان کو شرحبیل بن حسنہ کے ساتھ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں روانہ کردیا۔
حضرت اُم حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی روایت سے کتب متداولہ میں 65 حدیثیں مروی ہیں جن میں سے دو پر بخاری و مسلم کا اتفاق ہے اور ایک کے ساتھ امام مسلم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ منفرد ہیں ۔ باقی دیگر کتب میں ہیں ۔ آپ کا وصال مدینہ منورہ میں ۴۴ھ میں ہوا اور وہیں دفن ہوئیں ۔ (۱ )
________________________________
1 – شرح الزرقانی مع المواہب اللدنیۃ، المقصد الثانی ۔۔۔إلخ، الفصل الثالث فی ذکر ازواجہ الطاہرات ۔۔۔إلخ، ج۴، ص ۴۰۳-۴۰۹۔علمیہ

error: Content is protected !!