حضرت ابو قرصافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت ابو قرصافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Advertisement

ان کا اصلی نام جندرہ بن خیشنہ ہے مگر یہ اپنی کنیت ”ابوقرصافہ”سے زیادہ مشہور ہیں۔ یہ قریشی نسل سے ہیں ۔ یہ ابتدائے اسلام ہی میں یتیم بچے تھے اوران کی والدہ اورخالہ دونوں نے ان کی پرورش کی ۔ یہ بچپن میں بکریاں چرانے جایا کرتے تھے اوران کی والدہ اورخالہ ان کو سخت تاکید کیا کرتی تھیں کہ خبر دار! تم مکہ میں کبھی ان کی صحبت میں نہ بیٹھنا جنہوں نے نبوت کا دعوی کیا ہے مگر یہ بکریاں چراگاہ میں چھوڑکر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں ہر روز چلے جایا کرتے اوربکریوں کے چرانے پر زیادہ دھیان نہیں دیتے تھے ۔ رفتہ رفتہ بکریاں لاغر ہوگئیں اور ان کے تھن خشک ہوگئے۔
ان کی والدہ اورخالہ نے جب اس معاملہ کے بارے میں ا ن سے سخت باز پرس کی تو انہوں نے حضور اکرم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے اس کا تذکرہ کیا تو آپ نے
ان بکریوں کے خشک تھنوں پر اپنا دست مبارک لگادیا توسب بکریوں کے خشک تھن دودھ سے بھر گئے جب ان کی والدہ اورخالہ نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے دست مبارک لگادینے کا واقعہ اورحضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی مقدس تعلیم اورمعجزات کا تذکرہ کردیا۔
یہ سن کر ان کی والدہ اورخالہ نے کہا: اے میرے پیارے بیٹے ! تم ہم کو بھی ان کے دربار میں لے چلو۔چنانچہ ان کی والدہ اورخالہ خدمت اقدس میں حاضر ہوگئیں اورجمال نبوت دیکھتے ہی کلمہ پڑھ کر اسلام کی دولت سے مالا مال ہوگئیں اور اپنے گھر پہنچ کر ان دونوں نے یہ کہا کہ ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جب حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کلام فرماتے تھے تو ان کے دہن مبارک سے ایک نور نکلتا تھا اورہم نے حسن اخلاق اورجمال صورت وکمال سیرت کے اعتبار سے کسی انسان کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے بہتراور خوشتر نہیں دیکھا۔
یہ آخری عمر میں ملک شام کے شہر فلسطین میں مقیم ہوگئے تھے اورشاہی محدثین انکے حلقہ درس میں شامل ہوا کرتے تھے۔
امام طبرانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ان کو نسبت کے اعتبار سے ”لیثی” تحریر فرمایا ہے اوران کو ”بنی لیث بن بکر”کا آزاد کردہ غلام لکھا ہے ۔ (1)(واللہ تعالیٰ اعلم)
(کنزالعمال،ج۱۶،ص۲۲۹،مطبوعہ حیدر آبادواسدالغابہ،ج۱،ص۳۰۷)

سینکڑوں میل دور آواز پہنچتی تھی

ان کی یہ کرامت تھی کہ رومی کفار نے ان کے ایک فرزند کو گرفتار کر کے جیل خانہ میں بند کردیا تھا۔ حضرت ابو قرصافہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب نما ز کا وقت آتا تو عسقلان کی چاردیواری پر چڑھتے اور بلند آواز سے پکار کر کہتے کہ اے میرے پیارے بیٹے! نماز کا وقت آگیا ہے اوران کی اس پکار کو ہمیشہ ان کے صاحبزادے سن لیا کرتے تھے حالانکہ وہ سینکڑوں میل کی دور ی پر رومیوں کے قید خانہ میں قید تھے ۔ (1)(طبرانی)

تبصرہ

یہ کرامت امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اوردوسرے بزرگوں سے بھی منقول ہے اوریہ کرامت بھی اس امر کی دلیل ہے کہ محبوبان خدا ہوا پر بھی حکومت فرمایا کرتے ہیں کیونکہ آواز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانا ہواؤں کے تموج ہی کا کام ہے جس پر پہلے صفحات میں بھی ہم روشنی ڈال چکے ہیں ۔
اس قسم کی کرامتوں سے پتہ چلتاہے کہ خداوند قدوس نے اپنے اولیائے کرام کو عالم میں تصرفات کی ایسی حکمرانی وبادشاہی بلکہ شہنشاہی عطافرمائی ہے کہ وہ کائنات عالم کی ہر ہر چیز پر باذن اللہ حکومت کرتے ہیں ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!