حساب کا بیان

حساب حق ہے۔بندوں کے اعمال کا حساب ہوگا۔ میزان قائم کی جائے گی عمل تولے جائیں گے نیک بھی بد بھی، قول بھی فعل بھی، کافروں کے بھی مومنوں کے بھی۔ اور بعضے اللہ کے بندے ایسے بھی ہوں گے جو بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے۔ ہر شخص کو اس کا نامہ اعمال دیا جائے گا جو فرشتوں نے لکھا تھا نیکوں کے نامہ ہائے اعمال داہنے ہاتھ میں ہوں گے اور بدوں کے بائیں میں۔

صراط

جہنم کے اوپر ایک پُل ہے اس کو” صراط” کہتے ہیں۔ وہ بال سے زیادہ باریک تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ سب کو اس پر گزرنا ہے جنّت کا یہی رستہ ہے ۔اس پُل پر گزرنے میں لوگوں کی حالت جداگانہ ہوگی جس درجہ کا شخص ہوگا اس کیلئے ایسی ہی آسانی یا دشواری ہوگی بعضے تو یوں گزر جائیں گے جیسے بجلی کوند گئی (۱)۔ ابھی ادھر تھے ، ابھی ادھر پہنچے ۔ بعضے ہوا کی طرح، بعضے تیز گھوڑے کی طرح ، بعضے آہستہ آہستہ ، بعضے گرتے پڑتے لرزتے لنگڑاتے اور بعضے جہنم میں گر جائیں گے ۔ کفّار کے لئے بڑی حسرت کا وقت ہوگا جب وہ پُل سے گزر نہ سکیں گے اور جہنم میں گر پڑیں گے اور ایمانداروں کو دیکھیں گے کہ وہ اسی پُل پر بجلی کی طرح گزر گئے یا تیز ہوا کی طرح اُڑ گئے یا سریع السیر (۲) گھوڑے کی طرح دوڑ گئے۔

حوضِ کوثر

یہ ایک حوض ہے جس کی تہ مُشک کی ہے یاقوت اور موتیوں پر جاری ہے دونوں کنارے سونے کے ہیں اور ان پر موتیوں کے قُبّے (۳) نصب ہیں اس کے برتن (کوزے) آسمان کے ستاروں سے زیادہ ہیں اس کا پانی دودھ سے زیادہ سفید ،شہد سے زیادہ شیریں(۴)،مُشک سے زیادہ خوشبودار ہے۔ جو ایک مرتبہ پئے گا پھر کبھی پیاسا نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ حوض اپنے حبیب اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ آلہ وسلم کو عطافرمایا ہے ۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم اس سے اپنی امت کو سیراب فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی نصیب فرمائے۔ آمین ۔

سوالات

سوال: حساب کے بعد آدمی کہاں جائیں گے؟
جواب: مسلمان جنّت میں اور کافر دوزخ میں۔
سوال: کیا سب مسلمان جنّت میں جائیں گے اور سب کافر دوزخ میں؟ اور یہ دونوں جنّت اوردوزخ میں کتنا عرصہ رہیں گے؟
جواب: نیک مسلما ن اور وہ گناہگار مسلمان جن کے گناہ اللہ تعالیٰ اپنے کرم اور اپنے محبوب صلی اللہ تعالیٰ علیہ آلہ وسلم کی شفاعت سے بخش دے وہ سب کے سب جنّت میں رہیں گے اور بعض گنہگار مسلمان جو دوخ میں جائیں گے وہ بھی جتنا عرصہ خدا تعالیٰ چاہے دوزخ کے عذاب میں مبتلا رہ کر آخر کار نجات پائیں گے اور کافر سب کے سب جہنم میں جائیں گے اور ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔
سوال: کیا جنّت اور دوزخ پیدا ہو چکی ہیں یا پیدا کی جائیں گی؟
جواب: جنت اور دوزخ پیدا ہوچکی ہیں اور ہزاروں برس سے موجود ہیں۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) بجلی کی چمک (۲) تیز رفتار (۳) گنبد ، برج (۲) میٹھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *