جو نکاح پر قدرت رکھتا ہو پھر بھی نہ کرے وہ ہم سے نہیں

جو نکاح پر قدرت رکھتا ہو پھر بھی نہ کرے وہ ہم سے نہیں

Advertisement

خاتَمُ الْمُرْسَلین،رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عبرت نشان ہے:مَنْ قَدَرَعَلٰی اَنْ یَنْکِحَ فَلَمْ یَنْکِحْ فَلَیْسَ مِنَّا یعنی جو نکاح پر قدرت ہونے کے باوجود نکاح نہ کرے وہ ہم سے نہیں۔(دارمی،کتاب النکاح،باب الحث علی النکاح،۲/۱۷۷،حدیث:۲۱۶۴)

نکاح کے فوائد

نکاح کے فوائد بے شمارہیں۔ ان میں سے نیک اولاد کا ہونا ، شہوت کا ختم ہونا، گھرکی دیکھ بھال اور قبیلے کا بڑھنا بھی ہے اور ان کے نان ونفقہ کا بندو بست کر کے ان کے ساتھ رہنے میں مجاہدے کاثواب حاصل ہوتاہے، اگربیٹا(اولاد) نیک ہو تو اس کی دعا سے برکت حاصل ہوگی اور اگر فو ت ہوجائے تو (بروزِقیامت تیرا)شفیع ہوگا۔
(احیاء علوم الدین،کتاب آداب النکاح،فوائد النکاح،۲/۳۲ ملخصاً)

میرا طریقہ نکاح ہے

خاتَمُ الْمُرْسَلین،رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمینصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشادفرمایا :مَنِ اسْتَنَّ بِسُنَّتِیْ فَہُوَمِنِّیْ وَمِنْ سُنَّتِی النِّکَاحُ یعنی جس نے میری سنت کو اختیارکیا وہ مجھ سے ہے اور میری سنت میں نکاح بھی ہے۔
(مصنف عبدالرزاق، کتاب النکاح،باب وجوب النکاح وفضلہ،۶/ ۱۳۵، حدیث:۱۰۴۱۹)

نکاح کرنا کب سنّت ہے ؟

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اگر مہر، نان و نَفْقہ دینے اورازدواجی حقوق پورے کرنے پر قادر ہواور شہوت کا بہت زیادہ غلبہ نہ ہو تو نکاح کرنا سنت ِ مؤکدہ ہے۔ ایسی حالت میںنکاح نہ کرنے پر اَڑے رہنا گناہ ہے ۔اگر حرام سے بچنا۔۔ یا۔۔اِتباعِ سنّت ۔۔یا۔۔ اولاد کا حصول پیش ِ نظر ہو توثواب بھی پائے گااور اگر محض حصول ِ لذت یا قضائے شہوت مقصود ہو تو ثواب نہیں ملے گا ،نکاح بہر حال ہوجائے گا ۔(ماخوذ از بہارشریعت،۲/۴)

نکاح کرنا فرض بھی ہے اور حرام بھی!

نکاح کبھی فرض،کبھی واجب ، کبھی مکروہ اوربعض اوقات تو حرام بھی ہوتا ہے۔چنانچہ اگر یہ یقین ہو کہ نکاح نہ کرنے کی صورت میں زناء میں مبتلا ہوجائے گا تو نکاح کرنا فرض ہے۔ایسی صورت میں نکاح نہ کرنے پر گناہ گار ہوگا۔ اگر مہرونفقہ دینے پر قدرت ہو اور غلبۂ شہوت کے سبب زنا یابدنگاہی یامشت زَنی میں مبتلاء ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں نکاح واجب ہے اگر نہیں کرے گا توگناہ گار ہوگا۔ اگریہ اندیشہ ہو کہنکاح کرنے کی صورت میں نان ونفقہ یا دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نکاح کرنا مکروہ ہے۔ اگر یہ یقین ہو کہ نکاح کرنے کی صورت میں نان و نَفْقہ یا دیگر ضروری باتوں کو پورا نہ کر سکے گا تو اب نکاح کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے(ایسی صورت میں شہوت توڑنے کے لئے

روزے رکھنے کی ترکیب بنائے)۔ (ماخوذ از بہارشریعت،۲/۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!