جو مسلمان کاحق نہ جانے وہ ہم سے نہیں

جو مسلمان کاحق نہ جانے وہ ہم سے نہیں

رسولِ اکرم ،نُورِمُجَسَّم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ہے : لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیُوَقِّرْ کَبِیْرَنَا وَیَعْرِفْ لَنَا حَقَّنَا یعنی جو ہمارے

چھوٹوں پر رحم نہ کرے ، ہمارے بڑوں کی عزت نہ کرے اور مسلمان کاحق نہ جانے وہ ہم سے نہیں۔(المعجم الکبیر،۱۱/ ۳۵۵،حدیث:۱۲۲۷۶)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقینا مسلمان کے حقوق نہایت اہم ہیں، مسلمانوں سے ہمارے کئی طرح کے تعلقات ہوتے ہیں مثلاًباپ،بیٹا، بھائی،ماموں،چچا ، پڑوسی ، ملازم وغیرہا۔ہر ایک کے اعتبار سے ہمیں ان کے حقوق کو ادا کرناہے، جہاں شریعتِ مُطَہَّرہ نے مسلمانوں کی عزت و عظمت اورمقام و مرتبہ بیان کیا ہے وہیں ان کے حقوق کی ادائیگی کا حکم دیااور کچھ حقوق گنوائے ہیں ۔چنانچہ

مسلمانوں کے چھ حقوق

خاتَمُ الْمُرْسَلین،رَحمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے ارشاد فرمایا: مسلمان کے مسلمان پر چھ حقوق ہیں (۱)جب وہ بیمار ہو تو عیادت کرے (۲)جب وہ مرجائے تواس کے جنازہ پرحاضر ہو (۳)جب دعوت کرے تواس کی دعوت قبول کرے (۴)جب وہ ملاقات کرے تو اس کو سلام کرے (۵)جب وہ چھینکے تو جواب دے۔ ۱؎ (۶)اس کی غیر حاضری اور موجودگی دونوں صورتوں میں اس کی خیر خواہی کرے۔(ترمذی،کتاب الأدب،باب ما جاء فی تشمیت العاطس، ۴/۳۳۸،حدیث: ۲۷۴۶)

مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱ : چھینک کا جواب جب دیا جائے جب کہ وہ چھینکنے والا ’’ اَلْحَمْدُ ﷲِ‘‘ کہے ، تو سننے والا کہے : ’’یَرْحَمُکَ اللّٰہُ ‘‘، پھر چھینکنے والا کہے: ’’یَھْدِیْکُمُ اللّٰہُ وَیُصْلِحُ بَالَکُمْ‘‘۔
(مراٰۃ المناجیح ، ۶/ ۳۱۵)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *