جو برائی سے منع نہ کرے وہ ہم سے نہیں

 جو برائی سے منع نہ کرے وہ ہم سے نہیں

رسولِ بے مثال، بی بی آمِنہ کے لال صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان ِعالیشان ہے:لَیْسَ مِنَّا مَنْ لَّمْ یَرْحَمْ صَغِیْرَنَا وَیُوَقِّرْکَبِیْرَنَا وَیَأْمُرْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْہَ عَنِ الْمُنْکَریعنی جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ،ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے ، اچھی باتوں کا حکم نہ کرے اور بری باتوں سے منع نہ کرے وہ ہم سے نہیں۔
(ترمذی،کتاب البروالصلۃ،باب ما جاء فی رحمۃ الصبیان،۳/۳۶۹، حدیث: ۱۹۲۸)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان حدیث ِپاک کے اِس حصے (جو ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کرے ،ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے )کے تحت فرماتے ہیں: یعنی اپنے سے چھوٹوں پر رحم نہ کرے،اپنے سے بڑوں کا ادب نہ کرے،چھوٹائی بڑائی خواہ عمر کی ہو خواہ علم کی خواہ درجہ کی !یہ فرمان بہت عام ہے۔خیال رہے صَغِیْرَنَا اورکَبِیْرَنَا فرماکر یہ بتایا کہ چھوٹے بڑے مسلمانوں کا

ادب ان پر رحم (کرنا)چاہیے یہ قید بھی زیادتی اہتمام کے لئے ہے ورنہ کافر ماں باپ کا بھی مادری ادب ،کافر چھوٹے بھائی پر بھی قرابت داری کا رحم چاہیے جیساکہ فقہاء کے فرامین اور دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے یوں ہی ان کے حقوقِ قرابت ادا کرے۔(اشعہ)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان حدیثِ پاک کے اس حصے (اچھی باتوں کا حکم نہ کرے اور بری باتوں سے منع نہ کرے ) کے تحت فرماتے ہیں:ہرشخص اپنی طاقت اور اپنے علم کے مطابق دینی احکام لوگوں میں جاری کرے یہ صرف علما کا ہی فرض نہیں سب پر لازم ہے۔حاکم ہاتھ سے برائیاں روکے،عالم عام زبانی تبلیغ سے یہ فرض انجام دیں فی زمانہ اس سے بہت غفلت ہے۔ (مراٰ ۃ المناجیح ،۶/ ۵۶۰)

بددعا کے بجائے دعا فرمائی(حکایت )

حضرت سیِّدُنا ابراہیم اَطَرُوش رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہکا بیان ہے کہ حضرت سیِّدُنا معروف کرخیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْقَوِی ایک دن بغداد شریف میں دریائے دجلہ کے کنارے تشریف فرما تھے کہ ایک کشتی میں سوار چند نوجوان ہمارے پاس سے گزرے جو گانے بجانے اور شراب نوشی میں مصرو ف تھے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ کے ساتھ موجود حضرات نے عرض کی:کیا آپ نہیں دیکھتے کہ یہ لوگ کھلے عام اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی میں مشغول ہیں،ان کے لئے بددعا فرمائیے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ نے آسمان کی
طرف ہاتھ بلند فرمائے اور بارگاہِ خداوندی میں عرض گزار ہوئے:اے میرے مالک ومولی!میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ جس طرح تو نے انہیں دنیا میں خوش رکھا ہے اسی طرح انہیں آخرت میں بھی خوش وخرم رکھنا۔ساتھیوں نے عرض کی:ہم نے تو آپ سے ان کے لئے بددعا کرنے کی گزارش کی تھی نہ کہ دعا کرنے کی۔ارشاد فرمایا:اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ اگر انہیں آخرت میں خوش رکھنا چاہے گا تو دنیا میں توبہ کی توفیق مرحمت فرمائے گا اور اس میں تمہارا کوئی نقصان نہیں ہے۔(احیاء علوم الدین،کتاب الخوف والرجاء،بیان فضیلۃ الرجاء،۴/۱۹۰)

میں اور تم قیامت میں یوں آئیں گے

رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے حضرت ِسیدنا اَنَس رضی اللہ تعالی عنہ سے اِرشاد فرمایا:بڑوں کی عزت کرو ،چھوٹوں پر رحم کرومیں اور تم قیامت میں یوں آئیں گے۔رسولِ اکرم ،نُورِ مُجَسَّمصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنی انگلیوں کو ایک ساتھ ملایا۔
(المطالب العالیہ،کتاب الرقاق،باب الوصایا النافعۃ،۷/۵۷۰حدیث:۳۱۴۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *