جنگ اَوطاس

جنگ اَوطاس

شکست خوردہ فوج ٹوٹ پھوٹ کر کچھ تو اَوطاس میں اور کچھ طائف میں جمع ہوئی۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کچھ فوج بسر کر دگی حضرت ابوعامر اَشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَوطاس بھیجی جو دِیارِ ہَوازِن میں ایک وادی کا نام ہے۔ دُرَید بن صِمَّہ یہاں مارا گیا۔ قبیلہ جُشَم کے ایک شخص نے حضرت ابو عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی ران میں تیرمارا حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اس جشمی کو قتل کر ڈالا اور حضرت ابو عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو اطلاع دی۔حضرت ابو عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کچھ دیر کے بعد وَاصِل بحق ہوئے۔مگر شہادت سے پہلے انہوں نے حضرت ابو موسیٰ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے کہا کہ سلام کے بعد میرا یہ پیغام رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں پہنچا دینا کہ آپ میرے حق میں دعا ئے مغفرت فرمائیں ۔
حضرت ابو عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بعد حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عَلم ہاتھ میں لیا اور خوب جنگ کی دشمن کو شکست ہو ئی۔اسیر انِ جنگ میں آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا عی بہن شَیما ء سعدیہ بھی تھیں ۔ جب گر فتار ہو کر آئیں تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کہنے لگیں کہ میں آپ کی بہن ہوں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ اس کی علامت کیا ہے؟ اس پر انہوں نے اپنی پیٹھ کھول کر دکھائی کہ ایک دفعہ بچپن میں میں آپ کو گود میں لئے بیٹھی تھی آپ نے دانت سے کاٹا تھا یہ اس کا نشان ہے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وہ نشان پہچا ن لیا اور اپنی چادرمبارک بچھا کر ان کو اس پر بٹھا یا اور مر حبا کہا۔ پھر فرمایا: ’’ جی چاہے تو میرے ہاں عزت سے رہو اور اپنی قوم میں جا نا چاہوتو وہاں پہنچا دیا جائے۔ ‘‘ انہوں نے اپنی قوم میں رہنا پسند کیا اور ایمان لائیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کو غلام وکنیز اور ایک اونٹ دے کر بڑے احترام سے ان کی قوم میں پہنچا دیا۔
جب حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اوطاس سے واپس آئے تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو حضرت ابو عامر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا پیغام پہنچادیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں دعا فرمائی:
اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِعُبَیْدٍ اَبِیْ عَامِرٍ اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ فَوْقَ کَثِیْرٍ مِّنْ خَلْقِکَ وَمِنَ النَّاسِ۔اے خدا یا! ابو عامر عبید کو بخش دے اے خدا! اسے قیامت کے دن اپنی مخلوق اور اپنے لوگوں میں سے بہتوں کے اوپر رکھنا۔

یہ دیکھ کر حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے واسطے دعا کی التجاء کی۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یوں دعا فرمائی: ’’ اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لِعَبْدِ اللّٰہِ ابْنِ قَیْسٍ ذَنْبَہٗ وَ اَ دْخِلْہُ یَوْمَ الْقِیٰمَۃِ مُدْخَلًا کَرِیْمًا۔ ‘‘ اے خدا ! عبد اللّٰہ بن قیس کا گناہ بخش دے اور اسے قیامت کے دن عزت کے مقام میں داخل کر۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!