جس نے تنگدستی کے خوف سے شادی نہ کی وہ ہم سے نہیں

جس نے تنگدستی کے خوف سے شادی نہ کی وہ ہم سے نہیں

حضورِ پاک، صاحبِ لَولاک صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان دلنشین ہے:مَنْ تَرَکَ التَّزْوِیْجَ مَخَافَۃَ الْعَیْلَۃِ فَلَیْسَ مِنَّا یعنی جس نے تنگدستی کے خوف سے شادی نہ کی وہ ہم سے نہیں۔(جامع الاحادیث،۷/۱۶۵،حدیث:۲۱۶۳۰)

رِزْق اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمہ کرم پر ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رزق کا وعدہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّنے اپنے ذمہ کرم پر لیا ہے چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا مِنۡ دَآبَّۃٍ فِی الۡاَرْضِ اِلَّا عَلَی اللہِ رِزْقُہَا (پ۱۲،ھود:۶)
ترجمہ کنز الایمان:اور زمین پر چلنے والا کوئی ایسا نہیں جس کا رزق اللّٰہکے ذمّہ کرم پر نہ ہو

لہذا یہ ذہن ہر گز مت بنائیے کہ شادی کرنے سے خرچ بڑھے گا اور تنگدستی کا شکار ہو جاؤں گا ، ا للّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے قرآنِ پاک میں ارشاد فرمایا:
وَ اَنۡکِحُوا الْاَیَامٰی مِنۡکُمْ وَ الصّٰلِحِیۡنَ مِنْ عِبَادِکُمْ وَ اِمَآئِکُمْ ؕ اِنۡ یَّکُوۡنُوۡا فُقَرَآءَ یُغْنِہِمُ اللہُ مِنۡ فَضْلِہٖ ؕ وَاللہُ وَاسِعٌ عَلِیۡمٌ ﴿۳۲﴾ (پ۱۸،النور:۳۲)
ترجمہ کنز الایمان:اور نکاح کردو اپنوں میں ان کا جو بے نکاح ہوں اور اپنے لائق بندوں اور کنیزوں کا اگر وہ فقیر ہوں تو اللّٰہ انہیں غنی کردے گا اپنے فضل کے سبب اوراللّٰہ وسعت والا علم والا ہے ۔
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس آیت مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں :اس سے معلوم ہوا کہ کبھی نکاح غَنَا(خوشحالی)کا سبب ہوجاتاہے کہ اس کے سبب اللّٰہ تعالی فقیر کو غنی کر دیتا ہے ،عورت خوش نصیب ہوتی ہے ۔(نور العرفان،پ۱۸،النور،زیر آیت:۳۲)
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولیٰنا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعلیہ رحمۃُ اللّٰہِ الہادیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں :اس غَنَا (خوشحالی)سے مراد یا قناعت ہے کہ وہ بہترین غَنَا(خوشحالی)ہے جو قانِع (قناعت کرنے والے )کو تَرَدُّدْسے بے نیاز کر دیتا ہے یا کفایت کہ ایک کا کھانا دو کے لئے کافی ہو جائے جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے یا زوج و زوجہ کے دو رزقوں کا جمع ہو جانا یا فراخی بہ برکتِ نکاح۔(خزائن العرفان ،پ۱۸،النور،زیر آیت:۳۲)

شادی’’تنگدستی‘‘کو ختم کرتی ہے

حضرت سیِّدُنا جابر رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حضور اکرم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکی بارگاہ میں تنگدستی کی شکایت لے کرحاضر ہواتو حضورصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے اُسے شادی کرنے کا حکم ارشاد فرمایا۔
(درمنثور،پ۱۸،النور،تحت الآیۃ:۳۲،۶/۱۸۹)

نکاح کرو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ تمہیں غنی کردے گا

حضرت سیِّدُناابو بکر صدیق رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ اللّٰہ تعا لیٰ نے تمہیں نکاح کا حکم دیا ہے اس کی اطاعت کرو، اللّٰہ تعالیٰ نے تمہارے ساتھ جو غَنَا (مالداری) کا وعدہ کیا ہے اللّٰہ تعالیٰ اسے پورا کرے گا۔
( کنز العمال،کتاب النکاح،قسم الافعال،۸/۲۰۳،جزئ:۱۶،حدیث:۴۵۵۷۶)

تین آدمیوں کی مدد اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے ذمہ کرم پر ہے

نبی کریم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:تین آدمیوں کی مدداللّٰہ تعالیٰ کے ذمہ کرم پر ہے ۔ نکاح کرنے والا جو پاکدامنی کا ارادہ رکھتا ہو، مکاتب غلام جو مال دینے کا ارادہ رکھتا ہو،اوراللّٰہ تعالیٰ کی راہ میں جہاد کرنے والا۔
( ترمذی، کتاب فضائل الجہاد،باب ماجاء فی المجاہد۔الخ،۳/ ۲۴۷، حدیث: ۱۶۶۱)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *