Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

توثیقِ کتبِ فقہ

توثیقِ کتبِ فقہ

تقریر بالا سے یہ بات معلوم ہوئی کہ امام صاحب نے صدہا محدثین کے مجمع میں ہزارہا مسئلے فقہ کے قرآن و حدیث سے استنباط کئے اور اُن کے اتفاق آرا سے فن فقہ کو مدون کیا ۔
اب ہم چند اقوال اکابر محدثین کے نقل کرتے ہیں جو فقہ حنفیہ کے باب میں وارد ہیں ، جن سے معلوم ہوگا کہ محدثین رحمہم اللہ کتب فقہ کو کس وقعت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے ۔
م ک ۔ عبداللہ بن داؤد الخریبی کہتے ہیں کہ جو شخص چاہے کہ جہل کی ذلت سے نکل کر فقہ حاصل کرے اُس کو چاہئے کہ ابو حنیفہ کی کتابوں کو دیکھے ۔
دیکھئے انہوں نے فقہ حنفیہ کو ’’علم ‘‘ اور اُس کے نہ جاننے کو ’’جہل ‘‘ قرار دیا ۔
ک ۔ حرملہ کہتے ہیں کہ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص ابو حنیفہ کی کتابیں نہ دیکھے اُس کو فقہ میں تبحر نہیں ہوسکتا ۔
سیرۃ النعمان میں لکھا ہے کہ امام شافعیؒ ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ میں نے امام محمدؒ سے ایک بار ِشتر علم حاصل کیا ہے ۔ اوراُس کے حاشیہ میں لکھا ہے کہ ہمارے زمانہ کے کم نظروں کو اس روایت سے تعجب ہوگا اور اُس کو حنفیوں کی من گھڑت سمجھیں گے ، مگر اُن کو معلوم ہونا چاہئے کہ علامہ نووی نے ، جو مشہور محدث ہیں ،اس روایت کی تصدیق کی ہے ۔ دیکھو تہذیب الاسماء و اللغات نووی ۔
ترجمۂ امام محمد کشف بزدوی میں لکھا کہ ابی عبید قاسم بن سلام امام شافعی سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا کہ جو فقہ سیکھنا چاہے تو ابو حنیفہ کے اصحاب کی صحبت اختیار

کرے ‘ خدا کی قسم !میںصرف ابو حنیفہؒ کی کتابوں کے مطالعہ سے فقیہ ہوا، اگر اُن کا زمانہ میں پاتا تو اُن کی مجلس کو کبھی نہ چھوڑتا ۔
م ص ۔ عبداللہ بن مبارک نے ایک روز یہ روایت بیان کی : ’’حدثنا زائدۃ ، عن ہشام ، عن الحسن قال : انظروا ممن تاخذون ہذا الحدیث فانہ دینکم‘‘ ۔ یعنی حسن بصری نے اپنے شاگردوں سے کہا کہ حدیث کو دیکھ سمجھ کے لیا کرو کیونکہ وہ تمہارا دین ہے ۔
ابن مبارک نے یہ روایت بیان کر کے کہا کہ جب حدیث کو ثقہ سے لینے کی ضرورت ہے تو رائے تو بطریق اولیٰ ثقہ سے لیجائے ۔ پھر کہا : جب کوئی ثقہ تم سے ابو حنیفہ کا قول بیان کرے تو اُس کو معتبر سمجھو ۔
دیکھئے ! ابن مبارکؒ نے فقہ کو کس قدر مہتم بالشان سمجھا کہ اُس کو بھی مثل حدیث کے ثقہ سے لینے کی ضرورت بیان کی ۔
ص ۔ ابو اسحٰق کہتے ہیں کہ مجھے اُن لوگوں پر رحم آتا ہے جن کو ابو حنیفہ کے علم سے کچھ نصیب نہ ہوا ۔ یہ وہی لوگ ہیں جو فقہ سے عاری ہیں۔

امام صاحب نے فقہ کی تدریس کی

م ۔ّّّّ عبدالعزیز بن خالد الصفانی کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ کی کتابیں اُن سے پڑھیں اور بعد فراغت ، میں اُن سے پوچھا : کیا ان کتابوں کی روایت آپ سے کروں ؟ آپ نے اُس کی اجازت دی ، میں نے کہا : کیا سمعت کا لفظ بھی کہوں ؟ فرمایا : سمعت اور حدثنی اور اخبرنی سب کے ایک معنی ہیں ۔
اس سے ظاہر ہے کہ فقہ کی کتابیں سبقاً سبقاً پڑھی جاتی تھیں اور مثل حدیث اُن کی

روایت کی جاتی تھی ۔
م ۔ حفص بن غیاث کہتے ہیں کہ میں نے ابو حنیفہ سے اُن کی کتابیں پڑھیں اور آثار سنے ۔ کسی شخص کو نہ اُن سے زیادہ ذکی پایا نہ اُن امور کا عالم جو احکام کے باب میں فاسد اور صحیح ہیں۔
م ک ۔ یحییٰ بن اکثم کہتے ہیں کہ وہب بن جریر سے میں نے سنا ہے ، وہ کہتے تھے کہ میرے والد جریر بن عازم ابو حنیفہ کی کتابوں کے مطالعہ کی ترغیب مجھے دیا کرتے اور وہ اُن لوگوں میں ہیں جو امام صاحب کے حلقہ میں بیٹھا کرتے تھے ۔
جریر بن عازم کا حال ’’تذکرۃ الحفاظ ‘‘میں لکھا ہے کہ وہ تابعی ہیں ۔
حماد بن سلمہ جن کی جلالت ِشان محدثین پر پوشیدہ نہیں ، سب سے زیادہ اُن کی تعظیم کرتے تھے اور شعبہ استفادہ کی غرض سے اُن کے یہاں آیا کرتے ۔ امام احمد کہتے ہیں کہ وہ صاحب سنت تھے ۔
اب غور کیجئے کہ ایسے جلیل القدر امام ، صاحب سنت جب خود امام صاحب کے حلقہ میں بیٹھتے ہوں اوراپنے فرزند کو اُن کتابوں کے مطالعہ کی ترغیب دیتے ہوں تو فقہ حنفیہ کو کس قدر موثق کہنا چاہئے ؟
اور یہ بات مکرر معلوم ہوچکی کہ امام صاحب کا استدلال قرآن و حدیث سے ہوتا تھا ، اس لئے کسی کو چوں و چرا کی گنجائش نہ ہوتی ؛ بلکہ اُس سے ایک اذعانی اور انشراحی کیفیت دلوں میں پیدا ہوتی تھی ، اس قرینہ سے اگر جریر کو حنفی المذہب کہیں تو بھی بے اصل و بے موقع نہ ہوگا ۔
اب اگر جریر جیسے جلیل القدر تابعی کا قول و فعل بھی قابل اعتبار نہ سمجھا جائے تو اُس کا علاج نہیں !
ک ۔ محمد بن داؤد کہتے ہیںکہ میں ایک بار عیسیٰ بن یونس کے پاس گیا ، دیکھا کہ ابو حنیفہ کی

کتابیں اُن کے روبرو رکھی ہیںاور وہ پڑھ رہے ہیں ،میں نے کہا :کیا آپ اُن سے روایت کرتے ہیں ؟کہا : میں اُن کی زندگی میں اُن سے راضی تھا ،کیا انتقال کے بعد ناراض ہو جاؤں ؟

جو شخص فقہ نہ پڑھے گمراہ ہے

م ک ۔ معروف بن عبداللہ کہتے ہیں کہ میں ایک بار علی بن عاصم کے یہاں تھا ، انہوں نے اپنے شاگردوں سے کہا : تم لوگ علم اور فقہ سیکھو ! ہم نے کہا : کیا آپ سے جو ہم سیکھتے ہیں وہ علم نہیں ؟ فرمایا : اگر علم پوچھو تو ابو حنیفہ کا علم ہے ۔
اور لکھا ہے کہ علی بن عاصم کو امام صاحب کے ساتھ ایسا خلوص تھا کہ طالب علموں کو جب منظور ہوتا کہ اُن کو خوش کریں تو امام صاحب کا ذکر چھیڑ دیتے ، وہ نہایت خوشی سے بہت سے حالات اور واقعات امام صاحب کے بیان کرتے ۔
اُن کا قول ہے کہ اگر ابو حنیفہ کے علم کے ساتھ اُن کے تمام زمانہ والوں کا علم تولا جائے تو انہی کا علم وزن میں غالب ہوگا ۔
اور یہ بھی فرماتے کہ جو شخص ابو حنیفہؒ کے اقوال کو نہ دیکھے وہ جہل کی وجہ سے حلال کو حرام اورحرام کو حلال کردیگا اور گمراہ ہوجائیگا ۔ انتہی۔
’’ تذکرۃ الحفاظ ‘‘ میں علی بن عاصم کی تعریف میں لکھا ہے ’’ الامام الحافظ کان من اہل الدین و الصلاح والخیر البارع وکان شدید التقوی‘‘ ۔
دیکھئے ! ایسے دیندار ، متقی امام المحدثین جب یہ فرما رہے ہیں کہ ’’العلم علم ابی حنیفۃ‘‘ اور ’’جو شخص فقہ نہ پڑھے وہ گمراہ ہے ‘‘ تو فقہ حنفیہ کس قدر قابل وثوق ہوئی ؟ کیا ممکن ہے کہ ایسے متقی حضرات ایسی چیز کی تعریف کئے ہوں جو خلاف قرآن و حدیث ہو ؟ پھر جب فقہ حنفیہ کے ترک کرنے کو وہ باعث ضلالت کہتے ہیں تو اس سے یہ بھی معلوم ہوتا

ہے کہ وہ امام صاحب کے مقلد تھے ۔
م ک ۔ محمد ابن سعدان کہتے ہیں کہ میں اور یحییٰ بن معین اور علی بن المدینی اور احمد بن حنبل اور زہیر بن حرب وغیرہ محدثین یزید بن ہارون کے یہاں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے اُن سے کوئی مسئلہ پوچھا ، انہوں نے فرمایا کہ اہل علم کے یہاں جاؤ ! علی بن مدینی نے کہا : کیا وہ آپ کے پاس نہیں آئے ؟ یعنی آپ خود اہل علم میں ہیں ۔ فرمایا : اہل علم اصحاب ابو حنیفہ ہیں اور تم لوگ عطار ہو ۔
اس سے ظاہر ہے کہ عمل کرنے کے لئے وہ فقہ ہی کو خصوصاً فقہ حنفیہ کو ضروری سمجھتے تھے اور حدیث کا کتنا ہی سرمایہ ہو اُن کی دانست میں فتویٰ کے لئے کافی نہ تھا ۔
م ۔ ابو مسلم نے یزید بن ہارون سے پوچھا کہ ابو حنیفہ اور اُن کی کتابوں کے باب میںآپ کیا فرماتے ہو ؟کہا : اگر تم چاہتے ہو کہ فقاہت اور سمجھ حاصل ہو تو اُن کی کتابوں کو دیکھو ! میں نے کسی فقیہ کو نہیں دیکھا کہ اُن کے اقوال کے دیکھنے کو مکروہ سمجھا ہو ۔ سفیان ثوری نے اُن کی کتاب الرہن کو تدبیر سے حاصل کر کے اس کی نقل لی ۔
دیکھئے ! اُ س زمانہ کے فقہاء جو اعلیٰ درجہ کے محدث ہوا کرتے تھے جیسا کہ ’’تذکرۃ الحفاظ ‘‘وغیرہ کتب رجال سے ظاہر ہے ، اگر فقہ حنفیہ کو مخالف احادیث پاتے تو اُس کے مطالعہ سے روکنا اُن کا فرض تھا ؛ حالانکہ بجائے روکنے کے اُس کے مطالعہ کی ترغیب دیا کرتے تھے ۔
م ک ص ۔ یزید بن ہارون سے کسی نے پوچھا : آدمی کب فتویٰ دینے کے لائق ہوتا ہے ؟ کہا : جب ابو حنیفہ کے جیسا ہو ، پھر فرمایا کہ اُن کی کتابوں اور علم سے آدمی مستغنی نہیں ہوسکتا اُن سے آدمی کو سمجھ پیدا ہوتی ہے ۔
سابقاً یہ معلوم ہوا کہ یزیدن بن ہارون کو حدیثیں اِس کثرت سے یاد تھیں کہ اس باب
میں وہ ضرب المثل تھے ، اُن کے تلامذہ کی یہ کثرت تھی کہ اُن کا شمار نہیں ہوسکتا ، اُن کے حلقۂ درس میں کم و بیش ستر ہزار طالبینِ حدیث جمع رہتے تھے۔ اور اُن کے تدین کی یہ کیفیت تھی کہ خلیفۂ وقت اُن کے خوف سے ایک بات خلاف حدیث شائع نہ کرسکا ۔
اب غور کیا جائے !کیا ممکن ہے ایسے جلیل القدر ، راست باز ، مرجع خلائق ، امام المحدثین نے امام صاحب کے علم یعنی فقہ کی تعریف کسی کے خوف یا رعایت سے کی ہوگی ؟
خلیفۂ وقت کو تو انہوں نے صاف کہلا دیا کہ غیر معروف بات کو رواج دینا جائز نہیں جیسا کہ ’’تذکرۃ الحفاظ ‘‘میں ہے اور فقہ کی نسبت فرما رہے ہیں کہ علم پوچھو تو وہی ہے اور محدثین کو اُس سے بہرہ نہیں اور فقہ کی کتابیں دیکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں اور کسی نے پوچھا تک نہیں کہ حضرت فقہ تو بدعت اور ابو حنیفہ کی رائے ہے ، جس پر عمل کرنے سے آدمی مشرک بن جاتا ہے ، اُسی کو آپ علم کہہ رہے ہو ۔
پھر یحییٰ بن معینؒ جیسے محدث کو جو جرح و تعدیل میں نہایت متشدد شخص ہیں ، صاف کہد یا کہ تم لوگ عطار ہو اور وہ دم نہ مار سکے بلکہ وہ بھی ہمیشہ امام صاحب کے مداح ہی رہے ؛ یہاں تک کہ اُن کے اقوال کو دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ حنفی المذہب تھے ، کیا اتنے قرائن کے بعد بھی کوئی منصف مزاج کہہ سکتا ہے کہ فقہ حنفیہ مخالف قرآن و حدیث ہے ؟
ک ۔ محمد بن یزید کہتے ہیں کہ میں عامرؒ کے یہاں اکثر جایا کرتا تھا ، ایک بار انہوں نے کہا : کیا تم نے ابو حنیفہ کی کتابیں بھی دیکھی ہیں ؟ میں نے کہا : میں حدیث طلب کر رہاہوں ، مجھے اُن کی کتابوں سے کیا مطلب ؟فرمایا :میں ستر (70)سال آثار طلب کرتا رہا مگر جب تک ابوحنیفہ کی کتابیں نہیں دیکھیں اچھی طرح استنجا کرنے کا طریقہ بھی مجھے معلوم نہ ہوا !۔
اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ اکابر محدثین ، فقہ حنفیہ کو کس قدر ضروری سمجھتے تھے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ وہ امام صاحب کے مقلد تھے ۔
ک ۔ عطیہ بن اسباط کہتے ہیں کہ ابن مبارک جب کوفہ کو آتے تو زفرؒ سے امام صاحب کی کتابیں مستعار لیکر اُن کی نقل لیتے ، ایسا کئی بار اتفاق ہوا ۔ اُن سے پوچھا گیا کہ امام مالک افقہ ہیں یا ابوحنیفہ ؟ فرمایا : ابو حنیفہ تمام روئے زمین کے لوگوں سے افقہ ہیں ۔ انتہی ۔
ابن مبارکؒ جو بار بار امام صاحب کی کتابوں کی نقل لیا کرتے تھے ، اِس سے ظاہر ہے کہ اُس زمانہ میں فقہ کی کتابیں بڑی وقعت کی نگاہوں سے دیکھی جاتی تھیں ۔ اور باوجود یکہ وہ مدتوں امام صاحب کی صحبت میں رہ چکے تھے مگر امام صاحب کے علوم سے اُن کو سیری نہ ہوئی اور فقہ کی کتابوں کے شیدا تھے ۔
م ۔ عبدالرحمن بن مہدیؒ کہتے ہیں کہ ابو حنیفہ علماء میں ’’قاضی القضاۃ ‘‘ہیں۔
عبدالرحمن بن مہدی وہ شخص ہیں کہ امام ذہبیؒ نے اُن کو ’’الحافظ الکبیر و العلم الشہیر‘‘ لکھا ہے اور امام احمدؒ کا قول نقل کیا ہے کہ وہ یحییٰ بن قطان سے بھی افقہ ہیں اور لکھا ہے کہ ابن مدینی قسم کھا کر کہاکرتے تھے کہ اُن کا مثل میں نے نہیں دیکھا ۔
جب ایسے جلیل القدر محدث نے امام صاحب کو ’’قاضی القضاۃ ‘‘علماء کے زمرہ میں قرار دیا تو علماء کے اختلافی مسائل میں اُن کا فیصلہ قابل نفاذ سمجھا جائیگا ۔ اسی فیصلہ کو حنفیہ نے اپنا دستور العمل قراردیا ۔ اب اِس فیصلہ پر طعن کرنا اہل حدیث کی شان سے بعید ہے۔
م ۔ یحییٰ بن آدم کہتے ہیں کہ حسن بن صباح ابن حی الہمدانی کے روبرو ابو حنیفہ کے واقعات اور مسائل فقہیہ بیان کئے جاتے تو وہ اُن کی تحسین کیا کرتے تھے ۔
تہذیب التہذیب میں لکھا ہے کہ حسن بن صباح بڑے متقی اور فقیہ اور زاہد شخص تھے ، اُن کے مزاج میں اس شدت کی احتیاط تھی کہ حکام کے فسق و فجور کی وجہ سے جمعہ
کی نماز درست نہیں سمجھتے تھے ۔
عبداللہ بن داؤد الخریبی کہتے ہیں کہ کسی مسجد میں میں امامت کیا کرتا تھا ایک روز میں نے ابو حنیفہ ؒ کی تعریف کی ، جب نماز کے لئے کھڑا ہوا تو انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کے مصلے سے ہٹا دیا ۔ لکھا ہے کہ اس واقعہ سے پیشتر خریبی ؒ حسن بن صباح کی تعریف کیا کرتے تھے اور اس کے بعد نہ انہوں نے ان کی تعریف کی نہ اُن سے روایت کی بلکہ بددعاء کیا کرتے تھے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ابتداء میں وہ مخالفوں کے کہنے سننے سے امام صاحب کے سخت مخالف تھے ، پھر جب واقعی حالات امام صاحب کے اُن کو معلوم ہوگئے تو بجائے مخالفت ِ فقہ حنفیہ کی تحسین کرنے لگے ، جس کی گواہی یحییٰ بن آدم دے رہے ہیں ۔ کیوں نہ ہو وہ خود فقیہ اور مجتہد تھے ، جیسا کہ تہذیب التہذیب میں لکھا ہے ۔
التعلیق الممجد میں مولانا عبدالحیؒ نے انساب سمعانی سے امام احمد بن حنبلؒ کا قول نقل کیا ہے کہ جس مسئلہ میں تین شخصوں کا اتفاق ہو تو اُن کی مخالفت سننے کے قابل نہیں ۔ کسی نے پوچھا: تین شخص کون ؟ فرمایا :ابو حنیفہ اور ابو یوسف اور محمد بن الحسن ؒ۔
م ۔ ابونمیلہ کہتے ہیںکہ محمد بن طلحہ نے مجھ سے کہا کہ جب تم ابو حنیفہ کا قول کسی ثقہ سے پاؤ تو اُس پر اعتماد کرو کیونکہ اُن کا جو قول ہوتاہے وہ نہایت پختہ ہوتا ہے ۔ یہ کتب فقہ جو ہمارے ہاتھوں میں ہیں امام صاحب ہی کے پختہ اقوال ہیں جو ثقات کے ذریعہ سے ہم تک پہونچے ہیں۔
م ص ۔ یزید بن ہارون کہتے ہیں کہ ابو حنیفہؒ کا مثل اُن کے فن یعنی فقہ میں متقدمین میں بھی کوئی سنا نہیں گیا ،اُن کے اقوال کو وہی شخص دوست رکھتا ہے جو ذکی ہو اور وہی اُن کو ضبط کرتا ہے جو ذی فہم ہو ۔
فقہائے حنفیہ کا ذکی اور ذی فہم ہونا اور فقہ حنفیہ ’’محبوب القلوب ‘‘ہونا ایسے جلیل القدر
امام المحدثین کے ارشاد سے ثابت ہے ۔
ان روایتوں سے فقہ حنفیہ کی توثیق صراحۃً ثابت ہے ، ان کے سوا جتنی روایتیں امام صاحب کی تفقہ کی تعریف و توصیف میں وارد ہے جو بکثرت منقول ہیں جن میں سے اکثر لکھی گئیں ، وہ سب کتب ِفقہ کی توثیق پر دال ہیں ، کیونکہ اس تفقہ کا نتیجہ علم فقہ اور کتب فقہیہ ہیں ۔
م ک۔ ابو عبدالرحمن مقری کہتے ہیں کہ جو لوگ فقہ اور اُس کی فضیلت اور تقدم کو نہیں جانتے وہ زندہ نہیں بلکہ مردے ہیں ۔
غرضکہ اکابر محدثین نے فقہ حنفیہ کی توثیق و تحسین کی اور اُس کو سبقاً سبقاً پڑھا اور اُس کے مطالعہ کو ترغیبیں دیں ۔ اور فرمایا کئے کہ اگر علم ہے تو وہی فقہ ہے ، جہل سے نکلنے کے لئے اُس کو حاصل کرنے کی ضرورت ہے ، اُس کے بغیر تبحر حاصل نہیں ہوسکتا بلکہ اُس سے کوئی مستغنی نہیں ہوسکتا ، بغیر اس کے کوئی مسئلہ پورے طورپر معلوم نہیں ہوسکتا ؛ حتی کہ استنجا کرنا ۔ اور نہ حلال و حرام اور حق و باطل میں بغیر اس کے آدمی تمیز کرسکتا ہے اور اسی کو اختلافی مسائل میں قول ِفیصل اور اُس پر اجماع ہونے کی خبریں دیں۔
اب غور کیجئے کہ ایسی مستند چیز کی نسبت آخری زمانہ والوں کا یہ کہنا کہ ’’فقہ مخالف حدیث ہے‘‘ کس قدر بے باکی ہے ؟
یہ بات ادنیٰ تامل سے معلوم ہوسکتی ہے کہ مخالفت ِحدیث تو وہ شخص جانے جس کو احادیث کا مطلب اور مواقعِ استدلال معلوم ہوں !۔ اور جب اعمش اور اوزاعی جیسے اکابر شیوخ محدثین نے اپنے قصور فہم کا اعتراف کر کے امام صاحب سے صاف کہدیا کہ یہ آپ ہی کا کام ہے ، ہم سے نہیں ہوسکتا ۔ تو آخری زمانہ کے مولوی چند کتابیں پڑھ کر اور انُ کا لفظی ترجمہ کر کے فقہ کو مخالف ِحدیث بتائیں تو یہ کس قسم کی بات ہوگی ؟
امیر المومنین فی الحدیث فرما رہے ہیں کہ احادیث کے لئے ابو حنیفہ کی ضرورت ہے، یعنی فقہ کی اوریہ حضرات کہتے ہیں کہ فقہ کے لئے ہماری ضرورت ہے کہ کونسا مسئلہ موافقِ حدیث ہے اور کونسا مخالف تاکہ اُس کی تنقید کریں۔

error: Content is protected !!