تنگ زندگانی کی وجہ

تنگ زندگانی کی وجہ

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کیا ہم میں سے کسی نے سنجیدگی کے ساتھ کبھی اس بات پر غور کیا کہ آخر ہماری زندگانی اس قدر تنگ کیوں ہوگئی؟ہم بلندیوں سے پستیوں کی طرف کیوں آگئے؟ اس قدر معاشی بد حالی کا شکار کیوں ہوگئے ؟ کاروبار کے لاتعداد وسائل،روزگار کے اَن گنت مواقع اور ترقّی کے بے مثال ذرائع کے باوجود آخرکارہم روز افزوں مَعاشی تنزلی کا شکار کیوں ہوتےجارہے ہیں ؟ذرا غور کیجئے!کہیں ان ساری پریشانیوں کی وجہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سے غفلت تو نہیں…؟ اللہ عَزَّ وَجَلَّ قرآنِ پاک میں ارشاد فرماتا ہے:
وَمَنْ اَعْرَضَ عَنۡ ذِکْرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا (پ۱۶، طٰهٰ:۱۲۴)
ترجَمۂ کنز الایمان: اور جس نے میری یاد سے منہ پھیرا تو بیشک اس کیلئے تنگ زندگانی ہے ۔
صدرالافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سَیِّد محمد نعیمُ الدّین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:تنگ زندگانی یہ ہے کہ ہدایت کا اِتّباع (پیروی) نہ کرنے سے عملِ بد اور حرام میں مبتلا ہو یا قناعت سے محروم ہو کر گرفتارِحرص (لالچ میں گرفتار)ہو جائے اور کثرتِ مال و اسباب سے بھی

اس کو فراخِ خاطر (کُشادہ دلی)اور سُکونِ قلب میسّر نہ ہو ، دل ہر چیز کی طلب میں آوارہ ہو اور حرص کے غموں سے کہ ”یہ نہیں وہ نہیں“ حال تاریک اور وقت خراب رہے اور مومن مُتوکِّل کی طرح اس کو سکون و فراغ حاصل ہی نہ ہو جس کو ”حیاتِ طیّبہ“ کہتے ہیں۔حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرمایا کہ بندے کو تھوڑا ملے یا بہت اگر خوفِ خدا نہیں تو اس میں کچھ بھلائی نہیں اور یہ تنگ زندگانی ہے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّوَجَلَّ کی یاد سے منہ پھیرنے کی آفتیں کس قدر شدید ہیں کہ انسان کی معیشت تنگ ہوجائے گی ، وہ ناجائز وحرام کاموں میں مبتلا ہوجائے گا،قناعت کی دولت چھن جائے گی اور حرص کی بھیانک آگ ہر طرف سےاسے اپنی لپیٹ میں لے لے گی،جتنا بھی کمالے گا اس کی حرص کی آگ نہیں بجھے گی۔وہ مال کو پُرسکون زندگی کا ذریعہ سمجھے گا مگر دولت وشہرت حاصل ہونے کے باوجوداُسےقلبی سکون حاصل نہ ہوگا۔ آرام دہ بستر تو ہوگا لیکن چین کی نیند میسر نہ ہوگی۔خواہشات کا سیلاب اسکے صبرو شکر اور خوشیوں کی عمارت کو بہا لے جائے گا اور طرح طرح کے غم اسکی زندگی کو تاریک کردیں گے، غرض وہ سکون کی اُس دولت سے محروم رہے گا جو حیاتِ طیِّبہ (اچھی زندگی )کی صورت میں ایک مومن مُتوکِّل کو حاصل ہوتی ہے ۔اللہعَزَّ وَجَلَّ اپنے پاک کلام میں اُس ”حیاتِ طیِّبہ“ کی بشارت دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:
مَنْ عَمِلَ صَاالِحًا مِّنۡ ذَکَرٍ اَوْ پ۱۴، النحل:۹۷)
ترجَمۂ کنز الایمان: جو اچھا کام کرے مرد

اُنۡثٰی وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہٗ حَیٰوۃً طَیِّبَۃً ۚ (پ۱۴، النحل:۹۷)
ہو یا عورت اور ہو مسلمان،تو ضرور ہم اسے اچھی زندگی جِلائیں گے۔
صدر الافاضل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیمُ الدّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِ الْہَادِی اس آیتِ مُبارکہ کے تحت فرماتے ہیں:یعنی دنیا میں رزقِ حلال اور قناعت عطا فرما کر اور آخرت میں جنّت کی نعمتیں دےکر(اللہ عَزَّ وَجَلَّ انہیں حیاتِ طیّبہ عطا فرمائے گا)۔ مومن اگرچہ فقیر بھی ہو اس کی زندگانی دولت مند کافِر کے عیش سے بہتر اور پاکیزہ ہے کیونکہ مومن جانتا ہے کہ اس کی روزیاللہ(عَزَّ وَجَلَّ)کی طرف سے ہے جو اس نے مقدر کیا اس پر راضی ہوتا ہے اور مومن کا دل حرص کی پریشانیوں سے محفوظ اور آرام میں رہتا ہے اور کافِر جو اللہ(عَزَّ وَجَلَّ)پر نظر نہیں رکھتا وہ حریص رہتا ہے اور ہمیشہ رنج و تَعَب (دُکھ اور تکلیف)اور تحصیلِ مال (مال حاصل کرنے) کی فکر میں پریشان رہتا ہے۔
یاد رہے!کہ الله عَزَّ وَجَلَّ نے انسان کو دنیا میں محض بے بس اور مجبور بنا کر نہیں بھیجا بلکہ اسے اچھائی اور برائی کا شعور بھی عطا فرمایا ہے نیز قرآنِ پاک میں یہ بھی واضح کردیا کہ کِن خُوش بختوں کو اچھی زندگی ملے گی اور کون سے بدبخت لوگ تنگ زندگانی کا شکار ہوں گے۔اب ظاہر ہے جیسے ہم اعمال کریں گے ویسی ہی جزا پائیں گے۔ اگر ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی اطاعت وفرمانبرداری کے راستے پر چلیں گے تو وہ ہماری زندگی کو ”حیاتِ طیّبہ“میں تبدیل فرما دے گا اوراگراس کی نافرمانیوں اور برائیوں کا راستہ اختیار کیا،اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی یاد سے رو گردانی کی،نماز کا وقت ہو جانے کے باوجود
دوپیسے کی خاطر نماز کے لئے اپنا کاروبار چھوڑنا گوارا نہ کیا نیز حُصُولِ مال میں حرام و حلال کا خیال نہ رکھا تو تنگ زندگانی کے بھیانک شکنجوں میں پھنسنا ہمارا مقدر ہوگا۔ اَلْاَمَانُ وَالْحَفِیْظ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *