Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

تقلیدانسان کی فطرت میں داخل ہے

تقلیدانسان کی فطرت میں داخل ہے

چونکہ تقلید کا ذکر آگیاہے ، اس لئے مختصر سی بحث اُس کی بھی بیان کرنا مناسب ہے ۔ اگر تفصیلی مبسوط بحث دیکھنا منظور ہو تو اور رسالوں میں ملاحظہ فرما ویں جو کثرت سے چھپ چکے ہیں۔
تقلید کے معنی یہ ہیں کہ کسی شخص کو معتبر سمجھ کر اُس کے قول و فعل کی پیروی بغیر طلب دلیل کی جائے ۔
تقلید انسان کی فطرتی صفت ہے اور تمام کمالات کی تحصیل کا مبداء بھی یہی صفت ہے ۔ جس انسان میں یہ صفت کمی کے ساتھ ہوگی اُس کے کمالات میں نقص ضرور ہوگا۔ دیکھئے ! جب لڑکا کسی قدر سمجھنا شروع کرتا ہے تو ایک ایک چیز کا نام پوچھتا ہے اور اُس کے ماں باپ یا اور مربی جو کچھ بتلا دیتے ہیں اُس کو تقلیداً مان لیتا ہے ۔ اگر اس میں تقلید کا مادہ نہ ہوتا تو حیوان ناطق ہی بننے سے محروم رہ جاتا ۔ اور سوائے غائیں غائیں کرنے کے کوئی بات نہ کرسکتا ۔ اس طرح جب استاذ کے پاس جاتا ہے تو ہر ایک مسئلہ میں تقلید کی ضرورت ہوتی ہے ، ورنہ تمام علوم سے محروم رہ جائے ۔ پھر دین میں بھی تقلید کی ضرورت ہے ، چنانچہ

حق تعالیٰ فرماتا ہے : مَاٰ اتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرما ویں اُس کو قبول کرلو ۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ چوں و چرا کی اجازت نہیں ، صرف آپ کے ارشاد کو بلا دلیل مان لیا کرو ۔ مثلاً نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ صبح کی نماز دو رکعت ہے ، تو کسی کو یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ دو رکعت مقرر ہونے کی کیا وجہ اور قرآن میں کہیں اُس کا ذکر بھی ہے یا نہیں ۔ یہ بحث دوسری ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کو تقلید کہتے ہیں یا نہیں ، مگر صورۃً تقلید ہونے میں کلام نہیں ۔
اسی طرح صحابی نے جب کہدیا کہ ’’انما الاعمال بالنیات‘‘ مثلاً حدیث ہے ، تو تابعی کو یہ پوچھنے کا حق نہیں کہ اُس کے حدیث ہونے کی کیا دلیل ؟ البتہ یہ ضرور ہے کہ جس کی تقلید کی جائے وہ شخص معتمد علیہ اور راست باز ہو ، اسی وجہ سے محدثین کو رجال کی بحث کرنے کی ضرورت ہوئی ، جس سے مقصود یہ ہے کہ جو شخص عدل صادق معتمد علیہ ہو اُسی کی تقلید کی جائے ، یہ بات قریب میں معلوم ہوگی کہ رجال کی جرح و تعدیل کا مدار تقلید ہی پر ہے۔

فقہاء کی تقلید کی ضرورت قرآن و حدیث سے ثابت ہے

فقہاء کی تقلید کی ضرورت قرآن شریف سے بھی معلوم ہوتی ہے ؛کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے: ’’یٰآ ایھاالذین آمنوا اطیعوا اللہ و اطیعوا الرسول و اولی الامر منکم‘‘ ۔
یعنی اے مسلمانو! اللہ کی اطاعت کرو اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرو اور اُن اولی الامر کی بھی جو تم میں سے ہوں ۔
اگرچہ اولی الامر کے معنیٰ امراء کے بھی ہوسکتے ہیں ، مگر قرائن پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اولی الامر سے مراد علماء ، فقہاء ہیں ۔ اس لئے کہ مقصود اس آیۂ شریفہ میں اطاعت خدا و رسول اور اطاعت اولی الامر ہے ۔ اس مطلب کو ادا کرنا صرف حرف

عطف سے ہوسکتا تھا ۔ یعنی ’’اطیعوا اللہ و اطیعو الرسول و اولی الامر‘‘ سے یہ مقصود معلوم ہوجا تا تھا ، لفظ اطیعوا کو مکرر کرنے کی کوئی ضرورت نہ تھی ، مگر چونکہ کلام بلیغ میں خصوصاً کلام الٰہی میں کوئی لفظ بے کار نہیں ہوتا ، اس سے معلوم ہوا کہ مقصود اس زیادتی سے کچھ دوسرا ہی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو کوئی ضمنی نہ سمجھ لے اور یہ خیال نہ کرلے کہ ’’قرآن شریف میں جتنے احکام ہیں انہی میں حضرت کی اطاعت ضروری ہے ‘‘ اس خیال کے دفع کرنے کے لئے بہ تکرار لفظ ’’اطیعوا‘‘ مثل ’’اطیعوا اللہ‘‘ کے مستقل طور پر ’’اطیعوا الرسول‘‘ ارشاد ہوا ،جس سے مقصود یہ ہے کہ جو کچھ حضرت فرماویں خواہ وہ قرآن میں ہو یا نہ ہو سب مان لیں اور اطاعت کریں اور اُس کے بعد اولی الامر کے ساتھ لفظ ’’اطیعوا‘‘ کا ذکر نہ ہوا ، جس سے یہ بات معلوم کرا دی گئی کہ اُن کی اطاعت ضمنی ہے ، یعنی جو احکام حضرت نے بیان فرما دیئے ہیں انہی میں ان کی اطاعت کی جائے کیونکہ جو لوگ خلاف شرع حکم کرتے ہیں اُن کے باب میں وارد ہے : و من لم یحکم بما انزل اللہ فاولٰئک ھم الفاسقون اور ھم الظّٰلمون اور ھم الکٰفرون ۔
اب اولوالامر کو یہ معلوم کرنا ضرور ہوا کہ ہم اس آیۂ شریفہ کی رو سے کون سے امور کے امر کرنے کے مجاز ہیں ، جن کی اطاعت مسلمانوں پر واجب ہے ۔ اور یہ بات ظاہر ہے کہ کل آیات و احادیث سے ایسے امور کا نکالنا جو واجب الاتباع ہیں فقیہ کا کام ہے۔ غرضکہ اولوالامر کو ضرور ہوا کہ خود فقیہ ہوں یا فقہاء سے مدد لیکر امر کریں ، بہرحال دونوں صورتوں میں اولی الامر کی اطاعت فقہاء ہی کی اطاعت ہوئی ۔ پھر اگر اطاعت کرنے والوں کو معلوم ہوجائے کہ حاکم عالم نہیں تو مشتبہ امور میں اُن کو ضرور ہوگا کہ علماء سے دریافت کریں کہ وہ امور واجب الاطاعت ہیں یا نہیں اور اگر وہ فتویٰ دیں کہ اُن امور میں اطاعت جائز نہیں تو انہی کی اطاعت واجب ہوگی ۔ جس سے معلوم ہوا کہ فقہاء اور

امراء کے اوامر متعارض ہوں تو اہل اسلام مامور ہیں کہ فقہاء کا امتثال امر کریں اور امراء کی اطاعت نہ کریں ، جیسا کہ اس روایت سے بھی ظاہر ہے : عن علی رضی اللہ عنہ، قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : لاطاعۃ فی معصیۃ اللہ ، انما الطاعۃ فی المعروف ۔ متفق علیہ ،کذا فی المشکوۃ فی کتاب الامارۃ ۔
یعنی فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ معصیت میں کسی کی اطاعت درست نہیں ، اطاعت صرف ان ہی امور میں ہے جو دین میں معروف ہیں ۔
اب دیکھئے کہ امیر اور فقیہ کے اقوال متعارض ہونے کی صورت میں فقیہ کا قول جب واجب العمل ہو تو امر اء اولوالامر ہوئے یا فقہاء ؟ اسی وجہ سے جابر ابن عبداللہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہم اور عطا اور مجاہد اور ضحاک اور ابو العالیہ اورحسن بصری وغیرہم رحمھم اللہ نے اولی الامر کی تفسیر میں فقہاء اور علماء ہی لکھا ہے ، جیسا کہ تفسیر ابن جریر و ابن کثیر وغیرہ سے واضح ہے ۔
کیوںنہ ہو ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علماء ہی کو اپنا جانشین قرار دیا ہے ، جیساکہ اس حدیث سے ظاہر ہے : ’’عن الحسن بن علی رضی اللہ عنہما ، قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : رحمۃ اللہ علی خلفائی ! قیل : و من خلفائک یا رسول اللہ ؟ قال : الذین یحیون سنتی ، و یعلمو نھا الناس ۔ رواہ ابو النصر السجزی فی الابانۃ ، و ابن عساکر و فی معناہ رواہ الطبرانی والرامھرمزی ، و ابن ابی حاتم ۔ کذا فی کنز العمال ‘‘ ۔
یعنی فرمایا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ اللہ تعالیٰ رحمت کرے میرے خلفا پر ! کسی نے پوچھا : آپ کے خلفاء کون ہیں ؟ یا رسول اللہ : فرمایا :وہ لوگ جو میری سنت کو زندہ کرتے ہیں اور لوگوں کو سنت کی تعلیم کرتے ہیں۔
غرضکہ فقہاء کی اطاعت قرآن شریف سے بھی ثابت ہے اور احادیث سے بھی ، اسی

وجہ سے عمرابن عبد العزیزؒ نے تمام شہروں میں حکم جاری کر دیا کہ جس باب میں فقہاء کا اتفاق ہو اُسی پر عمل کیا جائے ، جیسا کہ اُس روایت سے ثابت ہے جو دارمی میں ہے : ’’عن حمید، قال : قیل لعمر بن عبدالعزیز : لوجمعت الناس علی شیٔ ، فقال : مایسرنی انھم لم یختلفوا ، قال : ثم کتب الی الافاق والی الا مصار : لیقض کل قوم بما اجتمع علیہ فقہاؤھم ‘‘۔
دیکھئے ! عمر ابن عبدالعزیز نے جو تمام ممالک اسلامیہ میں عام حکم جاری کر دیا کہ فقہاء کے اقوال پر عمل کیاجائے ، اس سے انہوں نے ثابت کردیا کہ اولی الامر جن کی اطاعت واجب ہے وہ صرف فقہاء ہیں ، حکام کو اُس میں کوئی دخل نہیں ۔

error: Content is protected !!