تعمیر مسجد قباء :

تعمیر مسجد قباء :

قُباء میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا نزول ۱۲ رَبیع الا وَّل یوم دو شنبہ (1) کو ہوا۔ یہی تاریخ اسلامی کی ابتداء ہے۔ حضرت علی المر تضیٰ کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم جو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی روانگی کے تین دن بعد مکہ سے چلے تھے یہاں آملے اور یہیں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس مسجد کی بناء (2) رکھی جس کی شان میں یہ آیت وارِدہے:
لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَى التَّقْوٰى مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ اَحَقُّ اَنْ تَقُوْمَ فِیْهِؕ-فِیْهِ رِجَالٌ یُّحِبُّوْنَ اَنْ یَّتَطَهَّرُوْاؕ-وَ اللّٰهُ یُحِبُّ الْمُطَّهِّرِیْنَ (۱۰۸) (سورۂ توبہ)
البتہ وہ مسجد جسکی بنیاد پہلے دن سے پرہیز گاری پر رکھی گئی ہے زیادہ لائق ہے کہ تو اس میں کھڑا ہو، اس میں وہ مرد ہیں جو پاک رہنے کو دوست رکھتے ہیں اور اللّٰہ پاک رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔ (3)
کلثوم بن ہِدْم کی ایک اُفتادہ زمین (4) تھی جہاں کھجوریں خشک ہو نے کے لئے پھیلا دی جاتی تھیں ۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے یہ زمین لے کر مسجد مذکور کی بنیا در کھی۔اس مسجد کی تعمیر میں دیگر اصحاب کے ساتھ حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام خود بھی بغر ضِ تَشْوِیق وَتر غیب (5) کا م کر تے تھے۔ شَمُوس بنت نعمان اَنصار یہ مدنیہ کا بیان ہے کہ میں دیکھ رہی تھی کہ ’’ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اتنا بھاری پتھر اٹھا تے کہ جسم اَطہر خم ہو جاتا اور بطن شریف پر مجھے مٹی کی سفید ی نظر آجا تی۔ ‘‘ آپ کے اصحاب میں سے اگر کوئی عقیدت مند آکر عرض کرتا: ’’ یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیرے ماں باپ آپ پر فدا! چھوڑ دیجئے میں اٹھاتا ہوں ۔ ‘‘ تو آپ فرماتے: ’’ نہیں ! تم ایسا اور پتھر اٹھا لو اور خود اسی کو عمارت میں لگا تے۔ ‘‘ اس تعمیر میں حضرت جبرئیل عَلَیْہِ السَّلَام آپ کو سمت قبلہ بتا رہے تھے۔ اسی
واسطے کہا جاتا تھا کہ اس مسجد کا قبلہ اَعْدَل واَقو َم (1) ہے۔ (2)
حضرت عبد اللّٰہ بن رَواحہ خَزر جی شاعر بھی تعمیر مسجد میں شامل تھے اور کام کرتے ہوئے یوں کہتے جاتے تھے:
اَفْلَحَ مَنْ یُّعَالِجُ الْمَسَاجِدَاوَ یَقْرَئُ الْقُرْاٰنَ قَآئِماً وَّ قَاعِدَاوَ لَا یَبِیْتُ اللَّیْلَ عَنْہُ رَاقِدَا
’’ وہ کامیاب ہے جو مسجدیں تعمیر کرتا ہے اور اٹھتے بیٹھتے قرآن پڑھتا ہے اور رات کو جاگتا رہتا ہے۔ ‘‘ (3) آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی ہر ہر قافیہ کے ساتھ آواز ملاتے جاتے تھے۔ (4)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *