تعارفِ علامہ سیدمحمدنعیم الدین اشرفی مرادآبادی

تعارفِ علامہ سیدمحمدنعیم الدین اشرفی مرادآبادی

ابتدائی حالات:

مغل تاجدارمحی الدین اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکومت میں ایران کے شہر مشہد سے کچھ ارباب فضل وکمال (صدر الافاضل کے آباء واجداد) ہندوستان آئے، انہیں بڑی پذیرائی ملی اور گوناں گوں صلاحیتوں کے سبب قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا۔ اسی خانوادے میں حضرت علامہ مولانا معین الدین صاحب نزہتؔ کے گھر مراد آباد (یو.پی) میں ۲۱ صفر المظفر ۱۳۰۰؁ھ مطابق یکم جنوری ۱۸۸۳؁ء بروز پیر ایک ہونہار سعادت مند بچے کی ولادت ہوئی۔فیروز مندی اور اقبال کے آثار اس کی پیشانی سے ہُوَیْدا تھے وہی بچہ بڑا ہو کر دنیائے سنیت کا عظیم رہنما ہوا اور صدرالافاضل حضرت علامہ مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی علیہ رحمۃ اللہ الہادی کے نام سے جانا پہچانا گیااور اپنی علمی جاہ وحشمت، شرافت نفس، اتباع شریعت، زہد وتقویٰ، سخن سَنجی،حق گوئی، جرأت وبے باکی اور دین حق کی حفاظت کے معاملے میں فقید المثال ٹھہرا۔

ابتدائی تعلیم:

صدر الافاضل علیہ رحمۃ اللہ القادر جب چار سال کے ہوئے تو آپ کے والد گرامی نے انتہائی تُزُک واحتشام اور بڑی دھوم دھام سے ” بسم اللہ خوانی ” کی پاکیزہ رسم ادا فرمائی۔چندہی مہینوں میں ناظرہ قرآن پاک کے بعد حفظ قرآن شروع کردیا اور آٹھ سال کی عمر میں حفظ قرآن کی تکمیل کے ساتھ ساتھ اردو ادب اور اردوئے مُعلّٰی میں بھی اچھی خاصی قابلیت حاصل کرلی،چونکہ والد محترم حضرت علامہ مولانا سید محمد معین

الدین نزہتؔ صاحب علم وفضل کے آفتاب،دادا حضرت علامہ مولانا سید محمد امین الدین صاحب راسخؔفضل وکمال کے نَیَّر تاباں اور پردادا حضرت مولانا کریم الدین صاحب آزادؔ علیہم الرحمۃ استاذ الشعراء وافتخار الادباء تھے لہٰذا ان کی آغوشِ تربیت نے آپ کو تہذیب وادب کا آفتاب تابداربنادیا۔

درسِ نظامی:

فارسی اور مُعْتَدبِہ حصہ تک عربی کی تعلیم اپنے والد ماجد سے حاصل فرمائی اور متوسطات تک علوم درسیہ کی تکمیل حضرت مولانا حکیم فضل احمد صاحب سے کی اس کے بعدخود حضرت مولانا حکیم فضل احمد صاحب حضور صدر الافاضل کو لے کرقُدْوَۃُ الفضلاء، زُبْدَۃُ العلماء حضرت علامہ مولانا سید محمد گل صاحب کابلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مہتمم مدرسہ امدادیہ مراد آباد کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور عرض کیا حضور!صاحب زادے انتہائی ذکی وفہیم ہیں ، ملا حسن تک پڑھ چکے ہیں ، میری دلی خواہش ہے کہ بقیہ درس نظامی کی تکمیل حضرت کی خدمت میں رہ کر کریں۔ مولانا سید محمدگل صاحب نے حضور صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی پیشانی پر ایک نظر ڈالی اور اظہار مسرت فرماتے ہوئے آپ کو اپنی صحبت بابرکت میں لے لیا۔

فراغت:

استاذ الاساتذہ حضرت علامہ مولانا سید محمد گل قادری سے منطق، فلسفہ، ریاضی، اُقْلِیْدَس، توقیت وہیئت، جفر، عربی بحروف غیرمنقوطہ، تفسیر، حدیث اور فقہ وغیرہ بہت سے مروجہ درس نظامی اور غیردرس نظامی علوم وفنون کی اسناد اپنے شفیق استاد سے حاصل فرمائیں اور بہت سے سلاسل احادیث وعلوم اسلامیہ کی سندیں بھی تفویض ہوئیں۔

دستارِ فضیلت:

بہار زندگی کا بیسواں سال تھا مدرسہ مراد آباد دلہن کی طرح سجا ہوا تھا، علماء ومشائخ رونق افروز تھے کہ ایک چمکتا ہوا تاج استاد محترم نے دستار کی شکل میں اپنے چہیتے تلمیذ خوش تمیز (صدر الافاضل) کے سر پر رکھتے ہوئے ایک تابِنْدَہ ودَر خشندہ سند فراغت ہاتھ میں عطا فرمائی اور اپنے بغل میں مسند تدریس وارشاد پر بٹھا دیا۔ یہ رسم دستارِ فضیلت ۱۳۲۰؁ھ مطابق ۱۹۰۳؁ء کو ادا ہوئی۔اسی وقت آپ کے والد گرامی حضرت علامہ مولانا سید محمد معین الدین نزہتؔ صاحب نے بہجت وسرور میں ڈوب کر ایک قطعہ ارشاد فرمایا جس سے مادہ سن فراغت نکلتا ہے۔ ؎
ہے میرے پسر کو طلباء پر وہ فضیلت

سیاروں میں جو رکھتا ہے مِرِّیخ فضیلت
نزہتؔ نعیم الدین کو یہ کہہ کے سنادے

دستارِ فضیلت کی ہے تاریخ ”فضیلت”

اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پہلی زیارت:

حضرت صدرالافاضل خداداد صلاحیتوں کے مالک تھے، آپ کی قابلیت کے سبب بعد فراغت ہی کئی علوم وفنون میں آپ کی بالا دستی اور علم وفضل کی شہرت ہونے لگی۔ درایں اثنا جودھ پور کے ایک بد عقیدہ دَرِیْدَہ دہن و گستاخ قلم مولوی جو سنی علماء کے مضامین کے رد میں مقالے لکھا کرتا اور اپنے خُبْثِ باطن کا اظہار کرتا،اس نے اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، مولانااحمد رضا خان فاضل بریلوی علیہ رحمۃ اللہ الغنی کے خلاف ایک نہایت نامعقول ورذیل مضمون لکھ کر اخبار ”نظام الملک”میں شائع کروادیا۔ چنانچہ ضَیْغَم صحرائے ملت، استاذ العلماء، سندالفضلاء،حضور سیدی صدرالافاضل نے اس قسمت کے مارے، خباثت کے ہرکارے جودھ پوری مولوی کی تحریر کا نہایت شوخ وطَرَح دار،دندان شکن اور مُسکِت رد لکھااوراسی اخبار ”نظام الملک ”میں شائع کرواکر منہ توڑ جواب دیا۔ امام اہل سنت کی خدمت بابرکت میں صدر الافاضل کے اس جرأت مندانہ اقدام کے بارے میں عرض کیا گیا اور نظام الملک اخبار بھی خدمت میں پیش کیا گیا۔جسے آپ نے ملاحظہ فرما کر صدر الافاضل کی قابلیت کی تعریف فرمائی اور آپ کے بریلی تشریف لانے کی خواہش کا اظہار فرمایا۔طلب اعلیٰ حضرت پر حضرت صدر الافاضل امام اہل سنت کی بارگاہِ فیض رسا ں میں حاضر ہوئے۔ اعلیٰ حضرت نے اہل سنت کے موقف کی تائید پر آپ کو بے پناہ دعاؤں اور انتہائی محبت وشفقت سے نوازا۔اس کے بعد صدر الافاضل کو آستانہ اعلیٰ حضرت سے ایک خاص قلبی لگاؤ ہوگیا اور وقتاً فوقتاً آپ اعلیٰ حضرت کی بارگاہ میں حاضری کا شرف حاصل کرتے بلکہ جب بھی آپ مراد آباد میں ہوتے خصوصیت کے ساتھ اعلیٰ حضرت کی خدمت اقدس میں ہر پیر اور جمعرات کو حاضری کی سعادت سے بہرہ مند ہوتے۔
سند ِفراغت پانے کے بعد آپ نے علم ِغیب ِمصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کے موضوع پر ایک جامع اور مدلل کتاب ” الکلمۃ العلیاء لاعلاء علم المصطفٰی” تحریر فرمائی جس کا منکرین آج تک جواب نہ لکھ سکے اور ان شآء اللہ عزوجل قیامت تک نہ لکھ سکیں گے، جب اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی کی خدمت بابرکت میں یہ کتاب پیش کی گئی تو آپ نے بنظر عَمِیْق مطالعہ فرمایااور ارشاد فرمایا: ماشآء اللہ بڑی کار آمد اور عمدہ کتاب ہے، عبارت شگفتہ، مضامین دلائل سے بھرے ہوئے ،یہ نوعمری اور اتنے احسن براہین کے ساتھ اتنی بلند پایہ کتاب مولانا موصوف کے ہونہار ہونے پر دال ہے۔ بہرحال اعلیٰ حضرت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے صدر الافاضل کا رشتہ محبت و مُوَدَّت اس قدر مضبوط ہوگیا کہ آپ کو اعلیٰ حضرت

نے اپنا معتمد اور اپنے بعض کاموں کا مختار بنادیااور جہاں فاضل بریلوی اپنی شرعی ذمہ دار یوں کی وجہ سے خود شرکت نہ فرماتے وہاں صدر الافاضل آپ کی نمائندگی فرماتے۔

بیعت وخلافت:

حضرت شیخ شاہ جی محمد شیر میاں جو اپنے وقت کے ولی کامل اور قطب عصر تھے ان کی خدمت میں صدرالافاضل بڑی ارادت وعقیدت کے ساتھ حاضر ہوئے۔ حضرت شیخ شاہ جی کے ارشاد پر اپنے ہی استاذ گرامی حضرت مولانا سید محمد گل صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دست حق پرست پر بیعت ہوئے اور اجازت وخلافت سے نوازے گئے۔ حضرت نے اپنے لائق وفائق تلمیذ رشید کو چاروں سلسلوں اور جملہ اوراد ووظائف کی اجازت عطافرماکر ماذون ومجاز بنا دیا۔اس کے بعد غوث وقت قطب دوراں، شیخ المشائخ حضرت شاہ سید علی حسین صاحب اشرفی میاں کچھوچھوی نے بھی خلافت واجازت سے سر فراز فرمایا۔ حضرت صدرالافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت شیخ المشائخ کی شان میں ایک منقبت بھی لکھی ہے جس کا ایک شعر یوں ہے ؎
راز وحدت کھلے نعیم الدین

اشرفی کا یہ فیض ہے تجھ پر

درس وتدریس:

حضور صدر الافاضل اپنی مختلف دینی، علمی، تبلیغی، تحقیقی و تصنیفی مصروفیات اور مناظرہ ومقابلہ اور فِرَقِ باطلہ کے رد وابطال جیسی سرگرمیوں کے باوجود تاحیات درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔آپ کا طرزِ تدریس بڑا دلچسپ و منفرد تھا افہام وتفہیم میں آپ یکتائے روزگار تھے جس کی بدولت اسباق طلبا کے دل ودماغ پر پوری طرح نقش ہو جاتے۔

تدریس کا انداز:

دورانِ تدریس سبق سے متعلق پر مغز اور مدلل تقریر زبانی فرماتے اور جس طرح گہرائی اور اشارات ومالہ وماعلیہ سے وضاحت فرماتے اس سے یوں معلوم ہوتا جیسے خود ہی مصنف ہیں۔تدریس میں آپ کی بے مثال مہارت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ فقیہ اعظم ہند، شارح بخاری حضرت مولانا مفتی شریف الحق امجدی علیہ رحمۃ اللہ الغنی فرماتے ہیں کہ ” میں نے مدرس دو ہی دیکھے ہیں ایک صدر الشریعہ اور دوسرے صدر الافاضل، فرق صرف اتنا تھا کہ صدر الشریعہ اس شعبے سے زیادہ وابستہ رہے اور صدر الافاضل ذرا کم۔ ”

وظیفہء تدریس سے استغناء:

دنیا بھر کے مدرسین عموماً تنخواہ دار ہوتے ہیں اور اپنی صلاحیتوں اور مناصب کے اعتبار سے مشاہرہ پاتے ہیں لیکن صدر الافاضل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے کبھی ایک پیسہ تنخواہ نہیں لی اور اتنا بڑا مدرسہ جامعہ نعیمیہ بطور خود چلاتے تھے۔ طَلَبَہ کے خورد ونوش اور مدرسین کی تنخواہ آپ اداکرتے تھے ۔

علم طب کی تحصیل:

حضور صدر الافاضل نے علم طب حکیم حاذق نَبَّاض دوراں حضرت مولانا حکیم فیض احمد صاحب امروہوی سے حاصل کیا جس طرح سے آپ کو علوم منقولیہ وعلوم معقولیہ میں ہم عصر علماء میں تَفَوُّق وبرتری حاصل تھی اسی طرح میدان طب میں بھی آپ کمال مہارت رکھتے تھے عموماً مریض کا چہرہ دیکھ کر ہی مرض پکڑ لیا کرتے تھے نَبَّاضی میں بین

الحکماء یکتائے زمانہ تھے مفردات ادویہ کے خواص ازبر تھے مرکبات میں بھی خاصی صلاحیتوں کے مالک تھے جامعہ نعیمیہ سے فارغ ہونے والے بہت سے علماء نے آپ سے علم طب بھی حاصل کیا۔ آپ کا جووقت تبلیغ و تدریس سے بچتا تھا اس میں آپ طب و حکمت کے ذریعہ خدمت خلق فی سبیل اللہ فرمایا کرتے تھے۔

تقریر ومناظرہ:

حضرت صدر الافاضل کو تفسیر، حدیث، علم کلام، فقہ واصول، ہیئت وریاضی، نجوم، علم التوقیت وعلم الفرائض اوردیگر علوم وفنون کے علاوہ فن تقریرو مناظرہ میں بھی مہارت حاصل تھی۔ آپ اپنے وقت کے تقریباً تمام فِرَقِ باطلہ سے نبرد آزما رہے، ایک سے بڑھ کر ایک مناظر آپ کے مقابل آیا لیکن ہمیشہ میدان آپ کے ہاتھ رہا۔آپ کا انداز اور طرز استدلال بالکل واضح اور روشن ہوتا ،مُغْلَقَات ومُعْضِلَات اور طویل ابحاث کو مختصر مگر جامع الفاظ میں نہایت وضاحت سے بیان کرتے ۔جو دلائل و حجج قائم فرماتے کسی کو اتنی طاقت نہ ہوتی کہ توڑ سکتا مخالف ایڑی چوٹی کا زور لگاتا لیکن ناممکن تھا کہ جو گرفت فرمائی تھی اس سے گُلُو خلاصی پاسکتایا وہ گرفت نرم پڑ جاتی،مخالف غضب و عناد میں انگلیاں چباتے مگر کچھ نہ کر سکتے۔صدر الافاضلرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی یہ صفت توآپ کا خاصہ تھی کہ دوران گفتگو کبھی بھی کسی کے ساتھ ناشائستہ وغیر مہذب کلمات زبان مبارک پرنہ لاتے مقابل کی تَضْحِیْک وتحمیق کا شائبہ تک آپ کی بحث واستدلال میں نہ ملتا۔
بسا اوقات مناظرے کا کام اپنے تلامذہ سے بھی لیا کرتے چنانچہ مقابل کے علمی معیار کا اندازہ لگا کر موضوع مناظرہ کے متعلق تلامذہ کو پہلی ہی گفتگو میں جواب اور جواب الجواب تلقین فرما دیا کرتے تھے اور بتا دیتے کہ مخالف یہ جواب دے گا اس

کا یہ جواب ہوگا۔لہٰذا ایسا ہی ہوتا اور آپ کے شاگرد بھی فتحیاب ہو کر لوٹتے۔

دار الافتاء:

حضور صدر الافاضل اپنی گوناگوں مصروفیات کے باوجوددار الافتاء بھی بڑی خوبی اور باقاعدگی کے ساتھ چلاتے،ہند وبیرون ہندنیز مراد آباد کے اطراف و اکناف سے بے شمار اِسْتِفْتا اور استفسارات آتے اور تمام جوابات آپ خود عنایت فرماتے بفضلہ تعالیٰ فقہی جزئیات اس قدر مستحضر تھے کہ جوابات لکھنے کے لیے کُتُبْہَائے فقہ کی طرف مراجعت کی ضرورت بہت ہی کم پیش آتی۔
شہزادہ صدر الافاضل حضور رہنمائے ملت حضرت علامہ سید اختصاص الدین علیہ رحمۃ اللہ المبین فرمایا کرتے تھے کہ میراث وفرائض کے فتوے کثرت سے آتے مگر حضرت کو جواب لکھنے کے لیے کتاب دیکھتے ہوئے نہیں دیکھا آج تو ایک بَطْن دو بَطْن چار بَطْن کے فتوے اگر دار الافتاء میں آجائیں تو گھنٹوں کتابیں دیکھی جاتی ہیں تب کہیں جاکر فتوے کا جواب لکھا جاتا ہے اور وہ بھی کبھی ایک مفتی دوسرے مفتی کے فتوے کو مسترد کردیتا ہے مگر حضرت صدر الافاضل کا یہ حال تھا کہ بیس بیس اکیس اکیس بطون کے فتوے بھی دار الافتاء میں آگئے مگر حضرت قلم برداشتہ بغیر کتاب دیکھے جواب تحریر فرما دیتے تھے البتہ انگلیوں پر کچھ شمار کرتے ضرور دیکھا جاتا اور آپ کے فتوے کے اِسْتِرداد کی کبھی نوبت نہیں آئی۔

خوش نویسی:

آپکی خطاطی ایسی عمدہ اور قواعد کے مطابق تھی کہ سینکڑوں خوش نویس اس فن میں آپکے شاگرد ہیں مزید برآں آپ خط کے ساتوں طرز تحریر میں بے مثال کمال رکھتے تھے حتی کہ ہر ایک رسم الخط کو بائیں ہاتھ سے معکوس بآسانی نہایت خوش خط تحریر فرماسکتے تھے۔

جامعہ نعیمیہ مراد آباد کا قیام :

حضور صدر الافاضل نے ۱۳۲۸؁ھ میں ارادہ فرمایا کہ ایک ایسا مدرسہ قائم کرنا چاہیے جس میں معقول و منقول کی معیاری تعلیم ہو چنانچہ آپ نے سب سے پہلے ایک انجمن بنائی جس کے ناظم آپ اورصدر حکیم حافظ نواب حامی الدین احمد صاحب مراد آبادی ہوئے ۔اس انجمن کے تحت ایک مدرسہ قائم فرمایا جس کومدرسہ اہل سنت کہا جاتا تھا جب نواب صاحب اور ان کے رفقاء و ہمنواؤں کا انتقال ہوگیا تو انجمن خود بخود ختم ہوگئی اب مدرسہ آپ کی طرف منسوب کیاجانے لگا اور وہ مدرسہ نعیمیہ کے نام سے مشہور ہواپھر جب اس کے فارغ التحصیل طلباء وعلماء نے اطراف واکناف اور ملک میں پھیل کر اپنے اپنے مقامات پر مدرسے قائم کیے اور ان کا الحاق مراد آباد کے مرکزی مدرسہ نعیمیہ سے کیا اورملک کے دیگر مدارس اہل سنت میں سے بیشتر اسی مدرسہ سے ملحق ومنسلک ہوگئے تو لازمی طور پر اب اس مدرسہ کی حیثیت رائج الوقت زبان میں یونیورسٹی اور قدیم زبان میں ”جامعہ ”کی ہوگئی۔ چنانچہ ۱۳۵۲؁ھ میں اس مدرسہ کا نام ”جامعہ نعیمیہ ” رکھا گیا اور آج تک اسی نام سے قائم ومشہور ہے ۔

جامعہ نعیمیہ کے علاوہ بھی آپ نے کئی دینی خدمات سرانجام دیں،اعلی درجہ کا برقی پریس لگایا، ایک ماہنامہ ”السواد الاعظم ”جاری کیاجو مدتوں شان سے جاری رہا، کافی تعداد میں دینی ومذہبی کتابیں اعلیٰ معیار طباعت کے ساتھ شائع فرمائیں، کئی کئی آل انڈیا کانفرنسیں منعقد فرمائیں روزانہ کے شاہانہ اخراجات مزید برآں، مگر آپ کو چندہ کی اپیل کرتے دست طلب پھیلاتے اور لفظ سوال منہ سے نکالتے نہیں دیکھا گیااور سارے اخراجات اپنے بٹوے سے ہی پورے فرماتے تھے یہ نہیں کہا جاسکتا کہ لوگ از

خود حضرت کا ہاتھ نہیں بٹاتے تھے لیکن آپ نے کبھی مانگا نہیں۔

تصنیفات وتالیفات:

دینی وملی، سیاسی وسماجی، تدریسی اور تبلیغی خدمات کے باوجود حضور صدر الافاضل نے تقریباً دودرجن کتابیں بطور یاد گار چھوڑی ہیں۔

(۱) تفسیر خزائن العرفان
(۲) نعیم البیان فی تفسیر القرآن
(۳) الکلمۃ العلیا لاعلاء علم المصطفیٰ
(۴) اطیب البیان در رد تقویۃ الایمان
(۵) مظالم نجدیہ برمقابر قدسیہ
(۶) اسواط العذاب علی قوامع القباب
(۷) آداب الاخیار
(۸) سوانح کربلا
(۹) سیرت صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم
(۱۰) التحقیقات لدفع التلبیسات
(۱۱) ارشاد الانام فی محفل لمولود والقیام
(۱۲) کتاب العقائد
(۱۳) زاد الحرمین
(۱۴) الموالات
(۱۵) گلبن غریب نواز

(۱۶) شرح شرح مائۃ عامل
(۱۷) پراچین کال
(۱۸) فن سپاہ گری
(۱۹) شرح بخاری (نامکمل غیر مطبوع)
(۲۰) شرح قطبی (نامکمل غیر مطبوع)
(۲۱) ریاض نعیم (مجموعہ کلام)
(۲۲) کشف الحجاب عن مسائل ایصال ثواب
(۲۳) فرائد النور فی جرائد القبور

وفات:

۱۸ ذوالحجہ ۱۳۶۷؁ھ مطابق ۲۳اکتوبر ۱۹۴۸؁ء بروز جمعۃ المبارک صدر الافاضل نے داعی اجل کو لبیک کہا۔وقت وصال ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی، کلمہ طیبہ کا ورد جاری تھا، پیشانی اقدس اور چہرہ مبارک پر بے حد پسینہ آنے لگا، ازخود قبلہ رخ ہوکر دستہائے پاک اور قدمہائے ناز کو سیدھا کرلیا، اب آواز دھیرے دھیرے مدھم ہونے لگی، شاہزادگان نے کان لگا کر سنا تو زبان پر کلمہ طیبہ جاری ہے، دفعتاً سینہ اقدس پر نور کا لَمْعہ محسوس ہوا اور ۱۲ بجکر ۲۰ منٹ پر اہل سنت کا یہ سالار اپنے خالق حقیقی سے جاملا اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ آپ کی تدفین جامعہ نعیمیہ کی مسجد کے بائیں گوشے میں کی گئی آج بھی آپ سے اکتساب فیض کا سلسلہ جاری ہے اورتاقیامت جاری رہے گا ان شآء اللہ عزوجل ۔
اللہ عزوجل کی ان پر رحمت ہو اور ان کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔
آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *