بے مثال مچھلی

بے مثال مچھلی

آپ تین سو مجاہدین اسلام کے لشکر پر سپہ سالار بن کر ”سیف البحر”میں جہاد کے ليے تشریف لے گئے ۔ وہاں فوج کا راشن ختم ہوگیا یہاں تک کہ یہ چوبیس چوبیس گھنٹے میں ایک ایک کھجور بطور راشن کے مجاہدین کو دینے لگے ۔ پھر وہ کھجوریں بھی ختم ہوگئیں ۔ اب بھکمری کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں تھا۔ اس موقع پر آپ کی یہ کرامت ظاہر ہوئی کہ اچانک سمندر کی طوفانی موجوں نے ساحل پر ایک بہت بڑی مچھلی کو پھینک دیا اور اس مچھلی کو یہ تین سو مجاہدین کی فوج اٹھارہ دنوں تک شکم سیر ہوکر کھاتی رہی اوراس کی چربی کو اپنے جسموں پر ملتی رہی یہاں تک کہ سب لوگ تندرست اورخوب فربہ ہوگئے ۔ پھر چلتے وقت اس مچھلی کا کچھ حصہ کاٹ کر اپنے ساتھ لے کر مدینہ منورہ واپس آئے اور حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کی خدمت اقدس میں بھی اس مچھلی کا ایک ٹکڑا پیش کیا۔

جس کو آپ نے تناول فرمایا اورارشادفرمایا کہ اس مچھلی کو اللہ تعالیٰ نے تمہارا رزق بنا کر بھیج دیا۔ یہ مچھلی کتنی بڑی تھی لوگوں کو اس کا اندازہ بتانے کے لیے امیرلشکر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ اس مچھلی کی دو پسلیوں کو زمین میں گاڑدیں۔ چنانچہ دونوں پسلیاں زمین پر گاڑدی گئیں تو اتنی بڑی محراب بن گئی کہ اس کے نیچے سے کجا وہ بندھا ہوا اونٹ گزرگیا۔(1)(بخاری شریف ، ج۲،ص۶۲۶باب غزو ۂ سیف البحر)

تبصرہ

ایسے وقت میں جب کہ لشکر میں خوراک کا ساراسامان ختم ہوچکا تھا اورلشکر کے سپاہیوں کے لیے بھکمری کے سوا کوئی چارہ ہی نہیں تھا بالکل ہی ناگہاں بغیر کسی محنت و مشقت کے اس مچھلی کا خشکی میں مل جانا اس کو کرامت کے سوا اور کیا کہا جاسکتاہے ۔ پھر اتنی بڑی مچھلی کہ تین سو بھوکے سپاہیوں نے اس مچھلی کو کاٹ کاٹ کر اٹھارہ دنوں تک خوب خوب شکم سیر ہوکر کھایا ۔ یہ ایک دوسری کرامت ہے کیونکہ اتنی بڑی مچھلی بہت ہی نادر الوجود ہے کہ اتنا بڑا لشکر اس کو اتنے دنوں تک کھاتا رہے اورپھر اس کے ٹکڑوں کو کاٹ کاٹ کر اونٹوں پر لادکر مدینہ منورہ تک لے جائے مگر پھر بھی مچھلی ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کا کچھ حصہ لوگ چھوڑ کر چلے گئے ۔ اتنی بڑی مچھلی کا وجود دنیا میں بہت ہی کمیاب ہے ۔ پھر مچھلی ایک ایسی چیز ہے کہ مرنے کے بعد دوچار دنوں میں سڑگل کر اورپانی بن کر بہ جاتی ہے مگر عادت جاریہ کے خلاف مہینوں تک یہ مری ہوئی مچھلی زمین پر دھوپ میں پڑی رہی پھر بھی بالکل تازہ رہی نہ اس میں بدبو پیداہوئی نہ اس کا مزہ تبدیل ہوا یہ

تیسری کرامت ہے ۔

غرض اس عجیب وغریب مچھلی کامل جانا اس ایک کرامت کے ضمن میں چند کرامتیں ظاہرہوئیں جو بلا شبہ امیر لشکرحضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ تعالیٰ عنہ جنتی صحابی کی بہت ہی عظیم اورنادرالوجود کرامتیں ہیں ۔ واللہ تعالیٰ اعلم

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *