بنی اسرائیل کو جادو سیکھنے سے روکا (حکایت )

بنی اسرائیل کو جادو سیکھنے سے روکا (حکایت )

Advertisement

حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل جادو سیکھنے میں مشغول ہوئے تو آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے ان کو اس سے روکا اور ان کی کتابیں لے کر اپنی کرسی کے نیچے دفن کردیں۔حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی وفات کے بعد شیاطین نے وہ کتابیں نکال کر لوگوں سے کہا کہ حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام اسی کے زور سے سلطنت کرتے تھے۔ بنی اسرائیل کے نیک لوگوں اور علما نے تو اس کا انکار کیا لیکن ان کے جاہل لوگ جادو کو حضرتِ سیِّدُنا سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا علم مان کر اس کے سیکھنے پر ٹوٹ پڑے، انبیاء کرامعَلَیْہِم الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی کتابیں چھوڑ دیں اور حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام پر ملامت شروع کی۔ہمارے آقا محمد مصطفیصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے زمانے تک یہی حال رہا اور اللّٰہعَزَّوَجَلَّ نے حضور اقدسصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمکے ذریعے حضرتِ سیِّدُنا سلیمانعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی جادو سے بَرَاٗءَ ت کا اِظہار فرمایا۔ (خازن، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۰۲،۱ ؍۷۳)
تفسیر صراط الجنان میں ہے :جادو فرمانبردار اور نافرمان لوگوں کے درمیان امتیاز کرنے اور لوگوں کی آزمائش کے لیے نازل ہوا ہے،جو اس کو سیکھ کر اس پر عمل
کرے کافر ہوجائے گابشرطیکہ اُس جادو میں ایمان کے خلاف کلمات اور افعال ہوں اوراگر کفریہ کلمات و افعال نہ ہوں تو کفر کا حکم نہیں ہے۔(صراط الجنان،۱/۱۷۹)

کسی نے جادو کروا دیا ہے

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!گھر میں بیماری ، پریشانی یا بے رُوزگاری ہو تو آج کل اکثر وَسوسہ آتا ہے کہ شاید کسی نے جادو کر وادیا ہے، لہٰذابابا جی(تعویذ دھاگہ دینے والے)سے رابِطہ کیا جاتاہے ، بِالفرض باباجی بتادیں کہ تمہارے قریبی رشتے دار نے جادو کروایا ہے توعُمُوماًبہو یابھابھی کی شامت آجاتی ہے ۔ بعض اوقات بابا جی جادو کرنے والے یا والی کے نام کا پہلاحَرْف بلکہ نام ہی بتادیتے ہیں!کبھی کبھی تو سوئیوں والا ماش کے آٹے کا پُتلا اور تعویذ وغیرہ بھی گھر سے برآمد ہو جاتا ہے ۔ اورپھرلوگ ایسے’’بابا جی‘‘پر اندھا بھروسہ کر لیتے ہیں اور خاندان بھر میں غیبت وبہتان تراشی کا بد ترین سلسلہ چل نکلتا اورنتیجتاً ہرا بھر ا لہلہاتا خاندان تاخت وتاراج ہو کر رہ جاتا ہے ۔ یاد رکھئے !بِلاثُبُوتِ شَرعی صرف عامِلوں اور باباؤں کے کہنے پر اگر آپ نے کسی سے کہا:مَثَلاً ہماری بھابھی جادو کرواتی ہے تو یہ بُہتان ، گناہِ کبیرہ ، حرام اور جہنَّم میں لیجانے والا کام ہوا اور اگر کسی نے چھپ کر واقِعی جادو کروا بھی دیا ہواور آپ کو یقینی طور پر پتا چل گیاہو تب بھی اُس مخصوص فرد کا جادو کے حوالے سے بِلامَصلَحتِ شرعی کسی سے تذکِرہ کرنا غیبت ہے۔خیال رہے!عاملوں یا باباؤں کابتانا شرعی ثُبُوت نہیں کہلاتا۔(غیبت کی تباہ کاریاں ، ص۲۲۵)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!