آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر اور ادب کے طریقے

آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر اور ادب کے طریقے

 

ذیل میں چند ایسی مثالیں درج کی جاتی ہیں جن سے اندازہ لگ سکتا ہے کہ حضرات صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم کس کس طرح اپنے آقائے نامدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیربجا لاتے اور آپ کا ادب ملحوظ رکھتے تھے۔
{1} ماہ ذی قعدہ ۶ھ میں جب آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حدیبیہ میں تھے تو بدیل بن ورقاء خزاعی کے بعد عروہ بن مسعود جو اُس وقت تک ایمان نہ لائے تھے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے گفتگو کرنے کے لئے حاضر خدمت اقدس ہوئے وہ واپس جا کر قریش سے یوں کہنے لگے:

ای قوم و اللّٰہ لقد وفدت علی الملوک و وفدت علی قیصر وکسری و النجاشی و اللہ ان رایت ملکا قط یعظمہ اصحابہ ما یعظم اصحاب محمد محمد ا واللہ ان تنخّم نخامۃ الا وقعت فی کف رجل منھم فدلک بھا وجھہ و جلدہ و اذا امرھم ابتدروا امرہ و اذا توضأ کادوا یقتتلون علی وضوئہ و اذا تکلم خفضوا اصواتھم عندہ و ما یحدون الیہ النظر تعظیمًا لہ و انہ قد عرض علیکم خطۃ رشدٍ فاقبلوھا۔
اے میری قوم! اللّٰہ کی قسم! میں البتہ بادشاہوں کے درباروں میں حاضر ہوا ہوں اور قیصر اور کسریٰ و نجاشی کے ہاں گیا ہوں ، اللّٰہ کی قسم! میں نے کبھی کوئی ایسا بادشاہ نہیں دیکھا کہ جس کے اصحاب اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسا کہ محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کے اصحاب محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی کرتے ہیں ۔اللّٰہ کی قسم! اس (محمد ) نے جب کبھی کھنکار پھینکا ہے تو وہ اصحاب میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ میں گرا ہے جسے انہوں نے اپنے منہ اور جسم پر مل لیا ہے۔ جب وہ اپنے اصحاب کو حکم دیتے ہیں تو وہ اس کی تعمیل کے لئے دوڑتے ہیں اور جب وضو کرتے ہیں تو ان کے وضو کے پانی کے لئے باہم جھگڑنے کی نوبت پہنچنے لگتی ہے اور جب وہ کلام کرتے ہیں تو اصحاب ان کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کردیتے ہیں اور ازروئے تعظیم ان کی طرف تیز نگاہ نہیں کرتے۔ انہوں نے تم پر ایک نیک امر پیش کیا ہے اسے قبول کرلو۔ (۱ )
{2} حضرت طَلْحَہ بن عبید اللّٰہ تمیمی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اَصحاب نے ایک جاہل اَعرابی سے کہا کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے دریافت کرو کہ قرآن میں جو سورۂ اَحزاب میں آیا ہے:
مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَیْهِۚ-فَمِنْهُمْ مَّنْ قَضٰى نَحْبَهٗ (احزاب، ع۳)
بعضے مسلمانوں میں سے وہ مرد ہیں کہ سچ کیا انہوں نے وہ عہد جو اللّٰہ سے باندھا تھا پس بعض ان میں سے وہ ہے جو پورا کر چکا کام اپنا۔ (۲ )

اس آیت میں قَضٰى نَحْبَهٗ کون ہے۔اصحاب کرام رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کرنے کی جرأت نہ کیا کرتے تھے۔ وہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی توقیر کیا کرتے تھے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ہیبت کھاتے تھے۔اس اَعرابی نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کیا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منہ پھیر لیا۔ دوبارہ پوچھا تو بھی آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے منہ پھیر لیا پھر میں مسجد کے دروازے سے سبز کپڑوں میں نمودار ہوا۔جب رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے دیکھا تو فرمایا کہ وہ سائل کہاں ہے؟ اعرابی نے کہا: ’’ یارسول اللّٰہ! (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْکَ وَسَلَّم ) سائل میں ہوں ۔ ‘‘ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے (میری طرف اشارہ کر کے) فرمایا: یہ ان میں سے ہے جس نے اپنا عہد پورا کیا۔ (۱ )
{3} حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے اصحابِ مہاجرین و انصار رِضْوَانُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن میں تشریف لاتے اور وہ بیٹھے ہوتے۔ ان کے درمیان حضرت ابوبکر وعمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا بھی ہوتے۔ان میں سے سوائے حضرت ابوبکر و عمر کے کوئی حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف نظر نہ اٹھاتا۔وہ دونوں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے اور حضور ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے، وہ دونوں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف دیکھ کر تبسم فرماتے اور حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کی طرف دیکھ کر تبسم فرماتے۔ (۲ )
{4} حضرت علی مرتضیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حاضرین مجلس کے ساتھ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ جس وقت آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کلام شروع کرتے تو آپ کے ہمنشین اس طرح سر جھکا لیتے کہ گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں ۔ جس وقت آپ خاموش ہوجاتے تو وہ کلام کرتے اور کلام میں آپ کے سامنے

تنازع (۱ ) نہ کرتے اور جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے کلام کرتا اسے خاموش ہوکر سنتے یہاں تک کہ وہ اپنے کلام سے فارغ ہوجاتا۔ ‘‘ (۲ )
اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مجلس میں سب سے پہلے خود حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے تھے۔ حاضرین مجلس سب سکون کی حالت میں باادب بیٹھے سنا کرتے تھے۔آپ کے بعد صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم عرض کرتے۔مگر وہ کلام میں تنازُع نہ فرماتے تھے۔مجلس میں ایک وقت میں دو شخص کلام نہ کرتے اور نہ کوئی دوسرے کے کلام کو قطع کرتا تھا۔بلکہ متکلم کے کلام کو سنتے رہتے یہاں تک کہ وہ فارغ ہوجاتا۔
{5} حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم (بپاس ادب) رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دروازوں کو ناخنوں سے کھٹکھٹایا کرتے تھے۔ ( ۳)
{6} رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ذی قعدہ ۶ ھ میں عمرہ کے ارادے سے روانہ ہوئے۔ جب حدیبیہ میں پہنچے تو قریش ڈر گئے۔ اس لئے آپ نے حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مکہ میں بھیجا اور ان سے فرمایاکہ تم قریش کو اطلاع دے دو کہ ہم عمرہ کے لئے آئے ہیں لڑائی کے لئے نہیں آئے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ ان کو دعوت اسلام دواور مسلمان مردوں اور عورتوں کو جو مکہ میں ہیں فتح کی بشارت دو۔ راستے میں حضرت اَبان بن سعید اموی جو اَب تک ایمان نہ لائے تھے حضرت عثمان سے ملے۔ انہوں نے حضرت عثمان کو جوار دی اور اپنے پیچھے گھوڑے پر سوار کر کے مکہ میں لے آئے۔ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پیغام پہنچایا۔ حدیبیہ میں مسلمان کہنے لگے کہ عثمان خوش نصیب ہے جس نے بیت اللّٰہ کا طواف کرلیا۔ یہ سن کر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمانے لگے کہ میرا گمان ہے کہ عثمان ہمارے بغیر طوافِ کعبہ نہ کریں گے۔ اسی اَثنا میں یہ غلط خبر اڑی کہ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی

عَنْہُ مکہ میں قتل کردئیے گئے۔اس لئے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں سے بیعت رضوان لی۔ حضرت عثمان چونکہ مکہ میں تھے اس لئے حضور انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنا دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ پر مار کر ان کو بیعت کے شرف میں داخل کیا۔اس طرح حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہاتھ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ہاتھ قرار پایا۔ بیعت رضوان کے بعد جب حضرت عثمان واپس تشریف لائے تو مسلمانوں نے ان سے کہا کہ آپ خوش نصیب ہیں کہ بیت اللّٰہ کا طواف کرلیا۔اس پر حضرت عثمان نے جواب دیا کہ تم نے میری نسبت گمانِ بد کیا۔اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں ایک سال ٹھہرا رہتا اور حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم حدیبیہ میں ہوتے تو میں آپ کے بغیر طواف نہ کرتاقریش نے مجھ سے کہا تھا کہ طواف کرلومگر میں نے انکار کردیا تھا۔ (۱ )
حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا یہ ادب قابل غور ہے کہ کفار مکہ آپ سے کہہ رہے ہیں کہ تم بیت اللّٰہ کا طواف کرلومگر آپ جواب دیتے ہیں کہ مجھ سے یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اپنے آقائے نامدارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بغیر اکیلا طواف کروں ۔ادھر جب مسلمانوں نے کہا کہ خوشا حال عثمان کا کہ ان کو خانہ کعبہ کا طواف نصیب ہوا تو رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمیہ سن کر فرماتے ہیں کہ عثمان بغیر ہمارے ایسا نہیں کرسکتا۔آقا ہو تو ایسا، خادم ہو تو ایسا۔ امام بوصیری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے قصیدہ ہمزیہ میں کیا خوب فرمایا ہے:
وابٰی یطوف بالبیت اذ لم یدن منہ الی النبی فناء
فجزتہ عنھا ببیعۃ رضوا نَ ید من نبیہ بیضاء
ادب عندہ فضاعف الاعمال بالترک حبذ الادباء ( ۲)
اور حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے بیت اللّٰہ کے طواف سے انکار کردیا اس لئے کہ بیت اللّٰہ کی کوئی طرف رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قریب نہ تھی۔پس ان کو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ید بیضاء نے بیعت رضوان میں اس

نیک عمل کا بدلہ دیا۔ یہ (تنہا طواف نہ کرنا) عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں ایک بڑا ادب تھاجس کے سبب ان کو طواف سے دگنا ثواب ملا۔ اصحابِ محمد کیا خوب ادیب تھے۔
اس میں شک نہیں کہ صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم سب کے سب با ادب تھے مگر حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ میں یہ خوبی خصوصیت سے تھی کیونکہ ان میں وصف حیاء جو مَنْشائِ اَدَب (۱ ) ہے سب سے زیادہ تھا۔آپ نے جب سے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے بیعت کی اپنا دایاں ہاتھ کبھی اپنی شرمگاہ پر نہ رکھا۔ (۲ )
{7} حضرت عمرو بن عاص رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی موت کا وقت آیا تو آپ نے اپنے صاحبزادے سے اپنی تین حالتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا: پہلی حالت یہ تھی کہ میں سب سے زیادہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جانی دشمن تھا اگر میں اس حالت میں مرجاتا تو دوزخی تھا۔ دوسری حالت اسلام کی تھی کہ کوئی شخص میرے نزدیک رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ محبوب اور میری آنکھوں میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ جلال و ہیبت والا نہ تھااور میں آپ کی ہیبت کے سبب سے آپ کی طرف نظر بھر کر نہ دیکھ سکتا تھا اس واسطے اگر مجھ سے حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا حلیہ شریف دریافت کیا جائے تو میں بیان نہیں کرسکتا۔ اگر میں اس حال میں مر جاؤں تو امید ہے کہ اہل جنت میں سے ہوں گا۔ تیسری حالت حکمرانی کی تھی کہ جس میں میں اپنا حال نہیں جانتا۔ (۳ )
{8} حضرت اسلع بن شریک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ناقہ (۴ ) کا کجاوَہ کسا کرتا تھا۔موسم سرما میں ایک رات مجھے غسل کی حاجت ہوگئی۔ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم نے سفر کا ارادہ کیا۔میں نے حالت جنابت میں کجاوہ کسنا پسند نہ کیااور میں ڈرا کہ اگر ٹھنڈے پانی سے غسل کروں تو مر جاؤں گا یا بیمار ہوجاؤں گا اس لئے میں نے انصار میں سے ایک شخص سے کجاوہ کسوایا۔پھر میں نے پانی گرم کرکے غسل کیا اور رسول

اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے اَحباب سے جاملا۔ آپ نے فرمایا: اے اسلع! آج کجاوہ اپنی جگہ سے کیوں ہل گیا؟ میں نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں نے نہیں کسا ایک انصاری نے کسا ہے۔ آپ نے سبب دریافت فرمایا، میں نے عرض کیا: مجھے غسل کی حاجت ہوگئی تھی اور ٹھنڈے پانی سے غسل کرنے سے مجھے اپنی جان کا خوف تھا اس لئے میں نے اس سے کسوایا تھااور پھر پانی گرم کرکے میں نے غسل کیاتھا۔اس پر اللّٰہ تعالٰی نے آیۂ تیمم یعنی
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقْرَبُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْتُمْ سُكٰرٰى …الخ (نساء، ع ۷) (۱ )
نازل فرمائی۔ (۲ )
{9} ایک روز رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملے۔ان کو غسل کی حاجت تھی۔ان کا بیان ہے کہ میں پیچھے ہٹ گیا۔پھر غسل کر کے حاضر خدمت ہوا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پوچھا کہ تم کہاں گئے تھے؟ میں نے عرض کیا کہ مجھے غسل کی حاجت تھی۔آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ مومن پلید نہیں ہوتا۔ (۳ )
{10} حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰہ حذیفہ بن الیمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے ملے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حضرت حذیفہ سے مصافحہ کرنے لگے حضرت حذیفہ پیچھے ہٹ گئے اور یہ عذر کیا کہ مجھ کو غسل کی حاجت ہے۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ مسلمان جب اپنے بھائی سے مصافحہ کرتا ہے تو اس کے گناہ یوں دور ہوجاتے ہیں جیسا کہ درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں ۔ جب وہ دونوں ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں تو اللّٰہ تعالٰی ان پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے جن میں ننانوے اس کے لئے ہیں جو ان دونوں میں سے زیادہ

بشاش و کشادہ رو اور نیکو کار اور اپنے بھائی کی حاجت روائی میں احسن ہو۔ (۱ )
{11} حضرت عثمان بن عفان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حضرت قباث بن اشیم سے پوچھا کہ تم بڑے ہو یا رسول اللّٰہ؟ (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) انہوں نے جواب دیا کہ آپ صَلَّیاللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممجھ سے بڑے ہیں البتہ میں پیدائش میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے پہلے ہوں ۔ ( ۲)
{12} حضرت سعید بن یربوع مخزومی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا نام صرم تھا۔ایک روز رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے پوچھا کہ ہم میں سے کون بڑا ہے میں یا تو؟ انہوں نے جواب دیا کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھ سے بڑے ہیں اور نیک ہیں میں عمر میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے زیادہ ہوں ۔ یہ سن کر آپ نے ان کا نام بدل دیا اور فرمایا کہ تم سعید ہو۔ (۳ )
{13} حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا بیان ہے کہ میں نے حدیث و کلام میں حضرت فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے بڑھ کر کسی کو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مشابہ نہیں دیکھا۔ جب وہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں آتیں تو آپ ان کے لئے کھڑے ہوجاتے اور مرحبا کہہ کر ان کو چومتے اور اپنی جگہ بٹھاتے اور جب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے ہاں تشریف لے جاتے تو وہ آپ کے لئے کھڑی ہوجاتیں اور آپ کا دست مبارک پکڑ کر مرحبا کہتیں اور چومتیں اور اپنی جگہ بٹھاتیں ۔ جب مرض موت میں وہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں آئیں تو حضور نے مرحبا کہہ کر ان کو چوما۔ (۴ )
{14} دو یہودی حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ سے نو ظاہر نشانیاں دریافت کیں آپ نے بیان فرمادیں تو انہوں نے آپ کے دونوں ہاتھ مبارک اور دونوں پاؤں مبارک کو بوسہ دیا اور کہا کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ پیغمبر ہیں ۔ (۱ )
{15} صفوان بن عسال رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ یہودیوں کی ایک قوم نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک اور ہر دو پائے مبارک کو بوسہ دیا۔ (۲ )
{16} حضرت ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ ہم کسی غزوہ میں تھے لوگ پسپا ہوگئے۔ ہم نے کہا کہ ہم نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم سے کس طرح ملیں گے حالانکہ ہم لشکر سے بھاگ آئے ہیں اور خدا کا غضب لے پھرے ہیں ۔ پس ہم نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں نماز فجر سے پہلے حاضر ہوئے۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نماز سے فارغ ہو کر نکلے اور فرمایاکہ یہ کون ہیں ؟ ہم نے عرض کیا کہ ہم فراری ہیں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ لَا بَلْ اَنْتُمْ الْعَکَّارُوْنَ ‘‘ نہیں بلکہ تم عَکَّاری (ہٹ کر حملہ کرنے والے ) ہو۔ یہ سن کر ہم نے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک کو بوسہ دیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ میں تمہارا گروہ ہوں میں مسلمانوں کا گروہ ہوں ۔پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
اِلَّا مُتَحَرِّفًا لِّقِتَالٍ اَوْ مُتَحَیِّزًا اِلٰى فِئَةٍ (انفال، ع۲) ( ۳)
مگر ہٹنے والا لڑائی کے لئے یا پناہ ڈھونڈنے والا ایک گروہ کی طرف ( ۴)
{17} ام اَبان بنت وَازِع بن زَارِع اپنے دادا زَارِع سے جو وفد عبد القیس میں تھے روایت کرتی ہیں کہ انہوں نے کہا کہ جب ہم مدینہ میں پہنچے تو ہم اپنے کجاووں سے جلدی جلدی اتر کر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست

مبارک اور پائے مبارک کو چومنے لگے۔ مُنْذِرُالاَشَجّ (۱ ) (رئیس وفد) کچھ دیر کے بعد لباس تبدیل کر کے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تم میں دو خصلتیں ہیں جن کو اللّٰہ تعالٰی دوست رکھتا ہے حلم و وقار۔ منذر نے عرض کیا: یارسول اللّٰہ! یہ خصلتیں مجھ میں کسبی ہیں یاجبلی؟ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جبلی ہیں ۔یہ سن کر منذر نے کہا: سب ستائش خدا کو ہے جس نے مجھے ایسی دو خصلتوں پر پیدا کیا ہے جن کو اللّٰہ اور اللّٰہ کا رسولصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دوست رکھتے ہیں ۔ ( ۲) روایت بیہقی میں ہے کہ منذر نے خدمت اقدس میں حاضر ہوکر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک کو پکڑ کر بوسہ دیا۔ (۳ )
{18} حضرت بریدہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ ایک اعرابی رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا: یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں اسلام لایا ہوں مجھے کوئی ایسی چیز دکھائیے جس سے میرا یقین زیادہ ہوجائے۔ آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تو کیا چاہتا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ آپ اس درخت کو اپنے پاس بلالیں ۔ آپ نے فرمایا کہ تو جاکر اسے بلا لا۔ وہ اس کے پاس گیا اور کہا کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تجھے بلاتے ہیں ۔ یہ سن کر وہ ایک طرف کو جھکا اور اس کی جڑیں اکھڑیں ۔پھر دوسری طرف کو جھکا اور جڑیں اکھڑیں ، اسی طرح وہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’ السلام علیک یا رسول اللّٰہ ‘‘ یہ دیکھ کر اعرابی نے کہا: مجھے کافی ہے۔ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس درخت سے فرمایا کہ اپنی جگہ پر چلا جا۔ چنانچہ وہ چلا گیا اور اپنی جڑوں سے قائم ہوگیا۔اعرابی نے عرض کیا: یا رسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کے سر مبارک اور ہر دو پائے مبارک کو بوسہ دوں ۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی

عَلَیْہِ وَسَلَّم نے اجازت دے دی۔ (اور اس نے سر مبارک اور ہر دو پائے مبارک کو چوما) پھر اس نے عرض کیا کہ مجھے اجازت دیجئے کہ میں آپ کو سجدہ کروں ۔ آپ نے فرمایا کہ ایک شخص دوسرے کو سجدہ نہ کرے۔اگر میں ایسے سجدے کی اجازت دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ شوہر کا اس پر بڑا حق ہے۔ (۱ )
{19} حضرت ابو بزہ مکی مخزومی بیان کرتے ہیں کہ میں اپنے آقا عبد اللّٰہ بن سائب کے ساتھ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔میں نے اُٹھ کر آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دست مبارک اور پائے مبارک کو بوسہ دیا۔ (اصابہ۔ترجمہ ابو بزہ مکی) (۲ )
{20} حضرت مسور بن مخرمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ذکر کرتے ہیں کہ میرے والد مخرمہ نے مجھ سے کہا: بیٹا! مجھے خبر ملی ہے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس قبائیں آئی ہیں جنہیں وہ تقسیم فرمارہے ہیں مجھے انکے پاس لے چل! چنانچہ ہم وہاں حاضر ہوئے اس وقت رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے دولت خانہ میں تھے۔والد نے مجھ سے کہا: ’’ بیٹا! نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو میرے واسطے بلادو۔ ‘‘ مجھ پر یہ امر ناگوار گزرا۔میں نے کہا: کیا میں تمہارے واسطے نبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آواز دوں ! ! میرے والد نے کہا: بیٹا! وہ جبار نہیں ہیں ۔ تب میں نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو آواز دی آپ نکلے اور آپ کے پاس ایک دِیبا (۳ ) کی قبا تھی جس کے تکمے ( ۴) سونے کے تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے مخرمہ! یہ ہم نے تمہارے واسطے چھپا رکھی ہے اور مخرمہ کو عطا فرمادی۔ (۵ )
{21} حضرت قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ذکر کرتے ہیں کہ ایک روز رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غریب خانہ پر تشریف لائے اور دروازے میں فرمایا: ’’ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَۃُ اللّٰہ ‘‘ میرے باپ نے دھیمی آواز سے جواب دیا۔ میں نے کہا: کیا آپ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اندر آنے کی اجازت نہیں دیتے؟
انہوں نے کہا: اسی طرح رہنے دیجئے تا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم پر زیادہ سلام بھیجیں ۔ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوسری بار اسی طرح سلام کہا۔ حضرت سعد نے دھیمی آواز سے جواب دیا۔ حضور تیسری بار سلام کہہ کرواپس ہو گئے حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کے پیچھے نکلے اور عرض کیا: یارسول اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں آپ کا سلام سنتا رہا اور دھیمی آواز سے جواب دیتا رہاتا کہ آپ ہم پر زیادہ سلام بھیجیں ۔ یہ سن کر حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمحضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے ساتھ واپس تشریف لائے آپ نے حضرت سعد کی درخواست پر غسل فرمایا۔ حضرت سعد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے زعفران سے رنگی ہوئی چادر پیش کی جو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اوڑھ لی اور پھر آپ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا فرمائی:
اَ للّٰھُمَّ اجْعَلْ صَلَوَا تَکَ وَ رَحْمَتَکَ عَلٰی اٰلِ سَعْدِ ْبنِ عُبَادَۃ (۱ )
بعد ازاں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کھانا تناول فرمایا۔جب آپ واپس ہونے لگے تو میرے والدنے سواری کے لئے ایک دراز گوش پیش کیاجس پر لحاف پڑا ہوا تھا اور مجھ سے کہا کہ ساتھ ہولو۔ میں حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ ہولیا۔حضور نے مجھ سے فرمایا کہ میرے ساتھ سوار ہو جاؤ۔ میں نے انکار کیا آپ نے فرمایا کہ سوار ہو جاؤ ورنہ واپس ہو جاؤ۔ اس لئے میں واپس چلا آیا۔ (ابو داؤد، کتاب الادب) ( ۲)
{22} حضرت جابر بن عبداللّٰہ انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے والد بزرگوار بہت سا قرض چھوڑگئے تھے جب کھجوروں کے توڑنے کا وقت آیا تو حضرت جابر نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں یوں عرض کیا: ’’ آپ کو معلوم ہے کہ میرے والد جنگ احد کے دن شہید ہو گئے اور اپنے اوپر بہت سا قرض چھوڑ گئے میں چاہتا ہوں کہ قرض خواہ آپ کی زیارت کر لیں ۔ ‘‘
حضرت جابر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے یوں نہ کہا کہ آپ قرض خواہوں کے پاس چلئے بلکہ بپاس ادب عرض کیا کہ قرض خواہ آپ کی زیارت کرلیں ۔ (بخاری، باب قضاء الوصی دیون ا لمیت بغیر محضر من الورثۃ) ( ۳)

{23} ایک روز قبیلہ اَسلم کے چند صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم تیر اندازی میں باہم مقابلہ کر رہے تھے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا گزر وہاں ہوا۔ جب حضرت مِحْجَنْ بن اَدْرَع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک اَسلمی سے مقابلہ کر رہے تھے تو آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اے بنی اسمٰعیل! تم تیر اندازی کرو کیونکہ تمہارا باپ تیرانداز تھا۔ تم تیر پھینکتے جاؤ میں ابن اَدرع کے ساتھ ہوں ۔یہ سن کر حضرت نضلہ بن عبید اسلمی نے اپنے ہاتھ سے کمان پھینک دی اور عرض کیا : ’’ جب حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ابن اَدرع کے ساتھ ہیں تو میں اس کے ساتھ تیر نہیں پھینکتا کیونکہ جس کے ساتھ آپ ہیں وہ مغلوب نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ یہ سن کر حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ تم تیر اندازی کرو میں تم سب کے ساتھ ہوں ۔ (۱ )
{24} جب آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ میں رونق اَفروز ہوئے توآپ نے حضرت ابو ایوب انصاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مکان میں قیام فرمایا۔ آپ مکان کے نیچے کے حصے میں ٹھہرے اور ابو ایوب مع عیال اوپر کے حصے میں رہے ایک رات ابو ایوب بیدار ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سر مبارک کے اوپر چلتے پھرتے ہیں ۔یہ کہہ کر انہوں نے اس جگہ سے ہٹ کر ایک جانب میں رات بسر کی۔پھر صبح کو آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کیا۔حضور اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا کہ نیچے کے حصے میں میرے واسطے آسانی ہے۔انہوں نے عرض کیا کہ میں اس چھت پر نہیں چڑھتا جس کے نیچے آپ ہوں ۔پس آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اوپر کے حصے میں تشریف لے گئے اور ابو ایوب نیچے کے حصے میں چلے آئے۔ ابو ایوب حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لئے کھانا بھیجا کرتے جو بچ کر آتا خادم سے دریافت کرتے کہ طعام میں حضور اقدسصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی انگلیاں کس جگہ تھیں ۔پھر اسی جگہ سے کھاتے۔ایک روز کھانا تیار کیا گیا جس میں لہسن تھا۔جب کھانا واپس آیا تو حضرت ابو ایوب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے حسب معمول خادم سے حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی انگلیوں کی جگہ دریافت کی۔جواب ملا کہ حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کھایا ہی نہیں ۔یہ سن کر ابو ایوب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ڈر گئے اور اوپر جاکر عرض کیا کہ کیا یہ (لہسن) حرام ہے؟ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے

فرمایا کہ حرام تو نہیں لیکن میں اسے پسند نہیں کرتا۔یہ سن کر انہوں نے عرض کیا کہ میں بھی اس چیز کو نا پسند کرتا ہوں جسے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ناپسند کرتے ہیں ۔ (حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی کراہت کی وجہ یہ کہ) آپ کے پاس فرشتے اور وحی آیا کرتی تھی۔ (۱ )
{25} حضرت قیلہ بنت مخرمہ عنبریہ نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو مسجد میں دیکھا۔ آپ اُکڑوں ( ۲) بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا بیان ہے کہ جب میں نے آپ کو نہایت خشوع سے اس حالت میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو (ہیبت و جلال کے سبب سے) میں خوف سے کانپنے لگی۔ (۳ ) (شمائل ترمذی، باب ما جاء فی جلسۃ رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم)
{26} حضرت براء بن عازِب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے کچھ پوچھنا چاہتا تو اسے (آپ کی ہیبت کی وجہ سے) دو سال (یا سالوں ) تاخیر میں ڈال دیتا۔ ( ۴)
{27} حضرت حذیفہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ جب ہم رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ شریک طعام ہوتے تو ہم طعام میں ہاتھ نہ ڈالتے یہاں تک کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پہلے شروع فرماتے اور اپنا دست مبارک اس میں ڈالتے۔
(صحیح مسلم، باب آداب الطعام والشراب واحکامہما) (۵ )
آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر جس طرح آپ کی حیات دنیوی میں واجب تھی اسی طرح وفات شریف کے بعد بھی واجب ہے۔سلف و خلف کا یہی طریقہ رہا ہے۔ ذیل میں چند مثالیں بغرض تو ضیح درج کی جاتی ہیں ۔

{1} حضرت اسحٰق تُجِیبی (۱ ) رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی ذیقعدہ ۳۵۲ ھ) فرماتے ہیں کہ آنحضرت کے وصال شریف کے بعد جب آپ کا ذکر آتا تو صحابہ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم خشوع و انکسار ظاہر کیا کرتے۔ ان کے بدن پررونگٹے کھڑے ہو جاتے اور وہ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فراق اور اشتیاق زیارت میں رویا کرتے۔یہی حال بہت سے تابعین کا تھا۔ (شفاء شریف) ( ۲)
{2} حضرت سائب بن زید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا بیان ہے کہ میں مسجد نبوی میں لیٹا ہوا تھا ایک شخص نے مجھ پر کنکری ماری۔ میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں ۔ آپ نے فرمایا: ان دو شخصوں کو لاؤ! میں بلا لایا آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ان سے پوچھا کہ تم کون ہو یا کہاں سے آئے ہو؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں ۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم اس شہر کے رہنے والے ہوتے تو میں دُرّے لگاتا۔ کیا تم رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو۔ (صحیح بخاری، باب رفع الصوت فی المسجد) ( ۳)
{3} حضرت نافع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ روایت کرتے ہیں کہ عشاء کے وقت حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مسجد نبوی میں تھے نا گہاں ایک شخص کے ہنسنے کی آواز کان میں آئی۔آپ نے اسے بلا کر پوچھا: تم کون ہو؟ اس نے کہا کہ میں قبیلہ ثقیف سے ہوں ۔ پھر دریافت کیا: تم اس شہر کے رہنے والے ہو؟ اس نے جواب دیا: نہیں بلکہ طائف کا رہنے والا ہوں ۔ یہ سن کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسے دھمکایا اور فرمایا: اگر تم مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا۔اس مسجد میں آوازیں بلند نہیں کی جاتیں ۔ (وفاء الوفائ، جزو ثانی، ص ۳۵۴) (۴ )
{4} خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی نے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی مسجد میں امام مالک سے مناظرہ کیا اور اَثنائے مناظرہ میں آواز بلند کی۔ حضرت امام نے فرمایا: اے امیر المومنین! اس مسجد میں اپنی آواز کو بلند مت کروکیونکہ اللّٰہ تعالٰی

نے ایک قوم کو یوں ادب سکھایا:
لَا تَرْفَعُوْۤا اَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ (17) الآیہ۔ ( ۱)
اور ایک قوم جو آداب بجا لائی ان کی یوں تعریف کی:
اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ (18) الآیہ۔ ( ۲)
اور ایک قوم کی یوں مذمت کی:
اِنَّ الَّذِیْنَ یُنَادُوْنَكَ مِنْ وَّرَآءِ الْحُجُرٰتِ (19) الآیہ۔ (۳ )
آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا احترام وفات شریف کے بعد بھی و یسا ہی ضروری ہے جیسا کہ حالت حیات میں تھا۔ یہ سن کر ابو جعفر دھیما پڑگیا، کہنے لگا کہ اے عبد اللّٰہ (امام مالک) کیا میں قبلہ رو ہوکر دعا مانگوں یا رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جانب منہ کروں ۔ امام مالک نے جواب دیا کہ تم رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے اپنا منہ کیوں پھیرتے ہو حالانکہ وہ قیامت کے دن تمہارے وسیلہ اور تمہارے باپ آدم کے وسیلہ ہیں بلکہ تم حضورصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کی طرف منہ کرو اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہی کے وسیلہ سے دعا مانگو اللّٰہ تعالٰی قبول کرے گا۔چنانچہ ارشاد باری تعالٰی ہے:
وَ لَوْ اَنَّهُمْ اِذْ ظَّلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ جَآءُوْكَ فَاسْتَغْفَرُوا اللّٰهَ وَ اسْتَغْفَرَ لَهُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوا اللّٰهَ تَوَّابًا رَّحِیْمًا (۶۴) ( نساء، ع ۹)
اور اگر یہ لوگ جس وقت کہ اپنی جانوں پہ ظلم کرتے ہیں آپکے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور پیغمبر انکے لئے بخشش مانگتا تو وہ اللّٰہ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے (۴ ) (شفاء شریف) ( ۵)
{5} شیخ الاسلام (۱ ) نور الدین علی بن احمد سمہودی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ (متوفی ۹۱۱ ھ) لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں منکرات سے ایک امر جس میں متصدیانِ صیغۂ تعمیر تساہل کرتے ہیں ( ۲) یہ ہے کہ مسجد نبوی میں آرہ کش اور بڑھئی اور سنگ تراش کام کرنے کے لئے لائے جاتے ہیں ۔ اشیاء کے توڑنے پھوڑنے اور چیر نے وغیرہ سے سخت شور وشغب برپا ہوتا ہے حالانکہ یہ سب کام مسجد سے باہر تیار ہوسکتا ہے۔ اسی طرح عمارت کا مصالحہ خچروں اور گدھوں پر مسجد میں لایا جاتا ہے حالانکہ اسے آدمی مسجد کے دروازے میں سے اندر لا سکتے ہیں ۔ہم پہلے بیان کر آئے ہیں کہ حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا اگر مسجد نبوی کے گرد کسی مکان میں میخ کے ٹھونکنے کی آواز سنتیں تو کہلا بھیجتیں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اذیت نہ دو۔ اور یہ بھی بیان ہوچکا ہے کہ حضرت علی مرتضی نے اپنے گھر کے دونوں کواڑ مناصع (۳ ) میں تیار کرائے کہ مبادا تیاری میں لکڑی کی آواز سے رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اذیت پہنچے۔ انتہی (۴ ) (وفاء الوفائ، جزء اول، ص۴۷۹)
{6} امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں ایوب سختیانی، محمد بن منکدر تیمی، امام جعفر صادق، عبد الرحمن بن قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق، عامر بن عبد اللّٰہ بن زبیر، صفوان بن سلیم اور امام محمد بن مسلم زُہری سے ملا کرتا تھا میں نے ان کا یہ حال دیکھا کہ جب رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکر آتا تو ان کا رنگ زرد ہوجاتا وہ شوق زیارت میں رویا کرتے بلکہ بعضے تو بے خود ہوجایا کرتے۔ (شفاء شریف) ( ۵)
{7} امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی تمام عمر مدینہ منورہ میں بسر کی بپاس ادب کبھی مدینہ شریف کے حرم کی حد میں بول و براز نہیں کیا۔ (شفاء شریف) (۶ )

{8} امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا بیان ہے کہ میں نے امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے دروازے پر کئی ایسے خراسانی گھوڑے اور مصری خچر دیکھے کہ جن سے بہتر میں نے نہیں دیکھے۔ میں نے امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے کہا کہ یہ کیسے اچھے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب میری طرف سے آپ کے لئے ہدیہ ہیں ۔میں نے کہا: اپنی سواری کے لئے ان میں سے کچھ رکھ لیں ۔ انہوں نے کہا: مجھے خداسے شرم آتی ہے کہ اس زمین کو جس میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہیں اپنے گھوڑے کے سموں (۱ ) سے پامال کروں ۔ (وفاء الوفائ، جزء ثانی، ص۴۵۰) ( ۲)
{9} ایک شخص نے کہا کہ مدینہ طیبہ کی مٹی خراب ہے۔امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فتویٰ دیا کہ اسے تیس دُرِّے مارے جائیں اور قید کیا جائے اور فرمایا کہ ایسا شخص تو اس لائق ہے کہ اس کی گردن مار ی جائے۔ وہ زمین جس میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آرام فرما رہے ہیں اس کی نسبت وہ گمان کرتا ہے کہ وہ خراب ہے۔ (شفاء شریف) (۳ )
{10} حضرت احمد بن فضلویہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بڑے غازی اور تیر انداز تھے۔ انہوں نے جب سنا کہ آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کمان کو اپنے دست مبارک میں لیا ہے تو اس روز سے بپاس ادب کبھی کمان کو بے وضو نہیں چھوا۔ (شفاء شریف) (۴ )
{11} حضرت عثمان (۵ ) غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کے ہاتھ میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ایک عصا تھا، حضرت جہجاہ غفاری نے یوم وار سے پہلے ان کے ہاتھ سے چھین لیا اور اپنے گھٹنے پر رکھ کر اسے توڑنا چاہا (یا توڑ دیا) اس جرأت پر حاضرین چلا اٹھے۔ان کے گھٹنے میں مرض آکلہ پیدا ہوگیا۔انہوں نے بدیں خیال کہ مبادا مرض بدن میں سرایت کرجائے گھٹنے کو کاٹ دیا مگر ایک سال تمام نہ ہونے پایا کہ وفات پائی۔ ( ۶)
{12} حضرت ابو الفضل جوہری اَندلسی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰیعَلَیْہ نے زیارت کے لئے مدینہ منورہ کا قصد کیاجب اسکے مکانات

کے قریب پہنچے تو سواری سے اتر پڑے اور یہ اشعار پڑھتے ہوئے پیدل چلے:
وَ لَمَّا رَاَ یْنَا رَسْمَ مَنْ لَّمْ یَدَعْ لَنَا فُؤَادًا لِعِرْفَانِ الرَّسُوْمِ وَلَا لُـبًّا
نَزَلْنَا عَنِ الْاَکْوَارِ نَمْشِیْ کَرَامَۃً لِمَنْ بَانَ عَنْہٗ اَنْ نُّلِمَّ بِہٖ رَکْبًا (شفاء شریف) (۱ )
جب ہم نے اس ذات شریف کے آثار دیکھے جس نے آثار شریفہ کی پہچان کے لئے ہمارے واسطے نہ دل چھوڑا
نہ عقل خالص۔ہم پالانوں سے اتر پڑے اور اس ذات شریف کی تعظیم کے لئے پیدل چلنے لگے جس کی زیارت سواری
کی حالت میں بعید از ادب ہے۔
بعض مشائخ کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام پیدل حج کو گئے۔ان سے سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ غلامِ مفرور اپنے مولا کے دروازے پر سوار ہوکر نہیں آتا اگر ہم میں طاقت ہوتی تو سر کے بل آتے۔ (شفاء شریف) (۲ )
رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تعظیم و توقیر میں سے یہ امر بھی ہے کہ آپ کی آلِ اَطہار و ذُرِّیت طیبہ اور ازواجِ مطہرات کی تعظیم و تکریم اور ان کے حقوق کی رعایت کی جائے۔ اسی طرح آنحضرتصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اصحاب کرام کی تعظیم و توقیر کرنا حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی تعظیم و تکریم ہے۔ صحابہ کرام کے درمیان جو اختلاف و مشاجرات (۳ ) وقوع میں آئے ان کی تاویل نیک کرنی چاہیے۔وہ مجتہد تھے جو کچھ انہوں نے کیا اَزرُوئے اِجتہاد و خلوص کیا۔وہ کسی طرح مورد طعن نہیں ہیں ۔ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم اَجْمَعِیْن۔ تفصیل کی اس مختصر کتاب میں گنجائش نہیں ۔ ؎
ترسم آں قوم کہ بر درد کشاں مے خندند در سرِکار خرابات کنند ایماں را
قاضی عیاض رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ’’ شفاء شریف ‘‘ میں فرماتے ہیں کہ وہ تمام چیزیں جن کو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نسبت ہے ان کی تعظیم و تکریم کرنا، حرمین شریفین میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مشاہد و مساکن کی تعظیم کرنا، آپ کے منازل اور وہ چیزیں جن کو آپ کے دست مبارک یا کسی اور عضو نے چھوا یا آپ کے نام

سے پکاری جاتی ہوں ان سب کا اِکرام کرناحضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام ہی کی تعظیم و تکریم میں داخل ہے۔ (۱ )

 

________________________________
1 – صحیح بخاری، کتاب الشروط۔ (صحیح البخاری،کتاب الشروط،باب الشروط فی الجھاد والمصالحۃ الحدیث: ۲۷۳۱۔۲۷۳۲،ج۲، ص۲۲۴۔۲۲۵ملخصًا ۔علمیہ)
2 – ترجمۂکنزالایمان:مسلمانوں میں کچھ وہ مرد ہیں جنہوں نے سچا کردیا جو عہد اللّٰہ سے کیا تھا تو ان میں کوئی اپنی منت پوری کرچکا۔ (پ۲۱،الاحزاب:۲۳)۔علمیہ

________________________________
1 – ترمذی، کتاب التفسیر، تفسیر سورۂ احزاب۔ (سنن الترمذی،کتاب التفسیر،باب:سورۃ الاحزاب،الحدیث :۳۲۱۴، ج۵، ص۱۴۰ ۔علمیہ)
2 – ترمذی، ابواب المناقب۔ (سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب: فی مناقب ابو بکر وعمرکلیھما،الحدیث:۳۶۸۸، ج۵، ص۳۸۸ ۔علمیہ)

________________________________
1 – بحث و تکرار۔
2 – شمائل ترمذی، باب ماجاء فی خلق رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔ (الشمائل المحمدیۃ للترمذی، باب:ما جآء فی خلق رسول اللّٰہ، الحدیث:۳۳۴،ص۱۹۸ ۔علمیہ)
3 – الادب المفر د للبخاری، باب قرع الباب۔ اس روایت سے پایا جاتاہے کہ آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دروازوں میں حلقے نہ تھے۔ صحابہ کرام بپاس ادب بجائے دستک دینے کے ناخنوں سے کھٹکھٹایا کرتے تھے۔۱۲منہ ( الأدب المفرد للبخاری، باب قرع الباب ،الحدیث:۱۱۱۱،ص۲۹۰ ۔علمیہ)

________________________________
1 – زاد المعادلابن قیم، قصۂ حدیبیہ اور درمنثور للسیوطی، تفسیر سورۂ فتح۔ (الدر المنثور فی التفسیر الما ثور،سورۃ الفتح، تحت الایۃ: ۱۸،ج۷، الجزء۲۶،ص۵۲۱ ملتقطا و زاد المعاد فی ھدی خیر العباد، فصل فی قصۃ الحدیبیۃ،الجزء الثالث،ج۲، ص۲۱۰-۲۱۱ ۔علمیہ)
2 – السیرۃ الحلبیۃ،باب ذکر مغازیہ صلی اللّٰہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم، ج۳،ص۲۵ ۔علمیہ

________________________________
1 – ادب کا باعث۔
2 – سنن ابن ماجہ ،کتاب الطھارۃ وسننھا،باب کراھیۃ مس الذکر…الخ الحدیث:۳۱۱،ج۱،ص۱۹۸ ۔علمیہ
3 – صحیح مسلم، باب کون الاسلا م یہد م ماقبلہ و کذالحج والعمرۃ۔ (صحیح مسلم ،کتاب الأیمان،باب کون الاسلام یھدم ما قبلہ و کذا الہجرۃ۔۔۔الخ، الحدیث: ۱۹۲، ص۷۵ ۔علمیہ)
4 – اونٹنی۔

________________________________
1 – ترجمۂکنزالایمان:اے ایمان والو نشہ کی حالت میں نماز کے پاس نہ جاؤ۔ (پ۵،النساء:۴۳) ۔علمیہ
2 – اصابہ بحوالہ طبرانی، ترجمہ اسلع الاعرجی۔ تفسیر درمنثور بحوالہ طحاوی ودارقطنی و طبرانی وبیہقی وغیرہ۔ ( الدر المنثور فی التفسیر الما ثور،سورۃ النساء، تحت الایۃ :۴۳،ج۲، الجزء۵،ص۵۴۷ ۔علمیہ)
3 – ترمذی،کتاب الطہارت، باب ماجاء فی مصافحۃ الجنب۔ (سنن الترمذی،کتاب الطھارۃ،باب:ماجآء فی مصافحۃ الجنب، الحدیث :۱۲۱، ج۱، ص۱۷۰۔علمیہ)

________________________________
1 – کشف الغمہ للشعرانی، جز ء ثانی، ص ۱۸۴۔ (کشف الغمۃ للشعرانی ، کتاب الاقضیۃوالشھادات ، فرع فی المصافحۃ و طلاقۃ الوجہ، ج۲،ص۲۸۸۔علمیہ)
2 – جامع ترمذی، باب ماجاء فی میلاد النبیصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم ۔ (سنن الترمذی،کتاب المناقب، باب: فی میلاد النبی صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ،الحدیث :۳۶۳۹، ج۵، ص۳۵۶۔علمیہ)
3 – اصابہ، ترجمہ سعید بن یربوع۔ (الاصابۃ فی تمییزالصحابۃ،حرف السین المھملۃ،باب سعید بن یربوع،ترجمہ ۳۳۰۲، ج۳،ص۹۸۔علمیہ)
4 – الادب المفر د للبخاری ، باب الرجل یقبل ابنتہ۔ (الأدب المفرد للبخاری، باب الرجل یقبل ابنتہ، الحدیث:۱۰۰۰، ص۲۶۴۔علمیہ)

________________________________
1 – جامع ترمذی، ابواب الاستیذانِ والادب، باب ماجاء فی قبلۃ الید و الرجل۔ (سنن الترمذی،کتاب الاستئذان والادب، باب ما جاء فی قبلۃ الید والرجل،الحدیث :۲۷۴۲، ج۴، ص۳۳۶۔علمیہ)
2 – ابن ماجہ، باب الرجل یقبل یدالرجل۔ (سنن ابن ماجہ ،کتاب الادب،باب الرجل یقبل ید الرجل، الحدیث:۳۷۰۵، ج۴، ص۲۰۵ ۔علمیہ)
3 – ترجمۂکنزالایمان:مگر لڑائی کا ہنر کرنے یا اپنی جماعت میں جاملنے کو۔(پ۹، الانفال:۱۶)۔علمیہ
4 – الادب المفردللبخاری، باب تقبیل الید۔ تفسیر درمنثور بحوالہ ابو داؤد و ترمذی وابن ماجہ وغیرہ۔ (الأدب المفرد للبخاری ، باب تقبیل الید،الحدیث:۱۰۰۱،ص۲۶۴ا-علمیہ)

________________________________
1 – سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ’’ مُنْذِر الشیخ ‘‘ لکھا ہے جبکہ ’’سنن ابی داود شریف ‘‘ اورحدیث و سیرت کی دیگرکتب میں ان صحابی کا نام ’’ مُنْذِرُالاَشَجّ ‘‘ مرقوم ہے لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے ’’ مُنْذِر الشیخ ‘‘ کے بجائے ’’سنن ابی داود شریف ‘‘کے مطابق’’ مُنْذِرُالاَشَجّ ‘‘ لکھا ہے۔ واللّٰہ تعالٰی اعلم ۔علمیہ
2 – ابو داؤد، کتاب الادب، باب فی قبلۃ الجسد۔ الادب المفر د للبخاری، باب تقبیل الید۔ (سنن ابی داود،کتاب الادب،باب فی قبلۃ الرجل، الحدیث:۵۲۲۵،
3 – زرقانی علی المواہب، وفد عبدالقیس۔ الادب المفرد للبخاری، باب التؤدۃ فی الامور۔ (الزرقانی علی المواھب،المقصد الثانی، الوفد الرابع وفد عبد القیس،ج۵،ص۱۴۰۔علمیہ)

________________________________
1 – دلائل حافظ ابی نعیم، مطبوعہ دائرۃ المعارف حیدرآباد دکن، ص ۱۳۸۔ (تاریخ مدینۃ دمشق ، باب جامع دلائل نبوتہ علیہ السلام، الحدیث:۱۱۲۳،ج۴،ص۳۶۵۔علمیہ)
2 – الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، باب الکنی۔حرف الباء الموحدۃباب ابوبزۃ المکی،ترجمۃ ۹۶۱۹،ج۷،ص۳۴۔علمیہ
3 – ایک قسم کا ریشمی کپڑا۔
4 – بٹن۔
5 – صحیح بخاری، کتاب اللباس، باب المزَرَّر بالذہب۔ (صحیح البخاری ،کتاب اللباس ، باب المزرر بالذھب ، الحدیث: ۵۸۶۲،ج۴، ص۶۷۔علمیہ)

________________________________
1 – اے اللّٰہ! سعد بن عبادہ کی آل پر اپنی برکتیں اور رحمتیں نازل فرما۔علمیہ
2 – سنن ابی داود ،کتاب الادب،باب کم مرۃ یسلم الرجل فی الاستئذان، الحدیث:۵۱۸۵، ج۴، ص۴۴۵۔علمیہ
3 – صحیح البخاری،کتاب الوصایا،باب قضاء الوصی دیون المیت۔۔۔الخ، الحدیث: ۲۷۸۱،ج۲، ص۲۴۷۔علمیہ

________________________________
1 – اصابہ بحوالہ ابن اسحاق، ترجمہ محجن بن ادرع اسلمی نیز مشکوٰۃ بحوالہ بخاری، باب اعداد آلۃ الجہاد۔ (عمدۃ القاری،کتاب الجہاد والسیر،باب التحریض علی الرمی،الحدیث:۲۸۹۹،ج۱۰،ص۲۲۰۔علمیہ)

________________________________
1 – صحیح مسلم، باب اباحت اکل الثوم۔ (صحیح مسلم ،کتاب الأشربۃ ، باب اباحۃ اکل الثوم ، الحدیث: ۲۰۵۳۔۱۸۱، ص۱۱۳۵۔علمیہ)
2 – تلووں کے بل اس طرح بیٹھنا کہ گھٹنے کھڑے رہیں ۔
3 – الشمائل المحمدیۃ للترمذی، باب:ما جآء فی جلسۃرسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم ، الحدیث:۱۲۰، ص۸۹۔علمیہ
4 – شفاء شریف۔ علی القاری شرح میں لکھتے ہیں کہ اسے ابو یعلی نے روایت کیاہے۔۱۲منہ ( الشفاء القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ، فصل: فی عادۃالصحابۃ فی تعظیمہ، ج۲، ص۴۰۔علمیہ)
5 – صحیح مسلم ،کتاب الأشربۃ،باب آداب الطعام والشراب و احکامھا، الحدیث:۲۰۱۷،ص۱۱۱۶۔علمیہ

________________________________
1 – سیرتِ رسولِ عربی کے نسخوں میں یہاں ’’ اسحٰق نجیبی‘‘ لکھا ہے جبکہ شفاء شریف اور دیگرکتب میں ان بزرگ کا نام ’’ اسحٰق تُجِیبی ‘‘ ہے لہٰذا کتابت کی غلطی پر محمول کرتے ہوئے ہم نے ’’ اسحٰق نجیبی ‘‘ کے بجائے’’ اسحٰق تُجِیبی ‘‘ لکھا ہے۔ و اللّٰہ تعالٰی اعلم۔علمیہ
2 – الشفاء القسم الثانی ۔۔۔الخ،الباب الثانی فی لزوم محبتہ، فصل: فی علامۃ محبتہ ، ج۲، ص۲۶۔علمیہ
3 – صحیح البخاری،کتاب الصلوۃ،باب رفع الصوت فی المساجد،الحدیث:۴۷۰،ج۱، ص۱۷۸۔علمیہ
4 – وفاء الوفاء،الابواب الشارعۃ فی المسجد،الفصل الثالث عشر فی البطیخاء فیہ۔۔۔الخ، ج۱،الجز۲،ص۴۹۹۔علمیہ

________________________________
1 – ترجمۂکنزالایمان:اپنی آوازیں اونچی نہ کرو اس غیب بتانے والے (نبی) کی آواز سے۔ (پ۲۶،الحجرات:۲)۔علمیہ
2 – ترجمۂکنزالایمان:بیشک وہ جو اپنی آوازیں پست کرتے ہیں ۔ (پ۲۶،الحجرات:۳)۔علمیہ
3 – ترجمۂکنزالایمان:بیشک وہ جو تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ۔ (پ۲۶،الحجرات:۴)۔علمیہ
4 – ترجمۂکنزالایمان:اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں تو اے محبوب تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللّٰہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللّٰہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں ۔ (پ۵، النساء:۶۴)۔علمیہ
5 – الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:واعلم ان حرمۃ النبی۔۔۔الخ،ج۲،ص۴۱۔علمیہ

________________________________
1 – وفاء الوفاء بحوالہ ابن زبالہ، جز ء اول، ص ۳۹۸۔
2 – یعنی تعمیر و توسیع کے ذمہ داران سستی دکھاتے ہیں ۔
3 – مناصع مدینہ منورہ سے باہر ایک جگہ کانام ہے جہاں عورتیں زمانہ جاہلیت میں رات کے وقت بو ل و براز کے لیے جایا کرتی تھیں ۔ کذافی معجم البلدان للیاقوت۔۱۲منہ
4 – وفاء الوفاء باخبار دارالمصطفٰی،الباب الرابع، الفصل الحادی والعشرون، الجز۲، ص ۵۵۹۔علمیہ
5 – الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:واعلم ان حرمۃ النبی۔۔۔الخ،ج۲،ص۴۱۔۴۳۔علمیہ
6 – بستان المحدثین،ص۱۹

________________________________
1 – ُکھروں ۔
2 – وفاء الوفاء، الباب الثامن فی زیارۃ النبی۔۔۔الخ،الفصل الرابع فی آداب الزیارۃ، ج۲، الجز۴،ص۱۴۱۴ ۔علمیہ
3 – الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۷۔علمیہ
4 – الشفاء،القسم الثانی ۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲،ص۵۷۔علمیہ
5 – تاریخ صغیر للبخاری، مطبوعہ انوار احمدی الہ آباد، ص ۴۲۔
6 – الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۷۔علمیہ

1 – الشفاء،القسم الثانی۔۔۔الخ،الباب الثالث فی تعظیم امرہ،فصل:ومن اعظامہ ۔۔۔الخ، ج۲، ص۵۶۔علمیہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *