اَعُوْذُ یعنی پناہ مانگتا ہوں میں

اعوذ
اَعُوْذُ یعنی پناہ مانگتا ہوں میں ۔ پناہ جو کسی سے چاہی جا تی ہے اس کا منشا یہ ہوتا ہے کہ کوئی ایسی مضر چیز اس کے پیش نظر ہو جاتی ہے جس کی مقادمت نہیں کر سکتا ، اور اپنے میں یہ قوت نہیں پاتا کہ اس کا مقابلہ کر سکے ، اس لئے کسی ایسے شخص کو تلاش کر تا ہے جو اس کا مقابلہ کر کے اس کے شر اور

Advertisement

آفت سے بچا سکے ۔ جس چیز سے خوف ہو تا ہے اس کو معوذ منہ کہتے ہیں اوربچانے والے کو معوذ بہ ۔ اس آیت شریفہ میں معوذ منہ شیطان کا شر ہے ، اور معوذ بہ اللہ تعالیٰ ۔
اللہ تعالی نے اس سورہ میں تعلیم دی ہے کہ شیطان کے شر سے ہمارے پاس پناہ لو ، کیونکہ ہم پر ورش کر نے والے بھی ہیں اور بادشاہ بھی ہیں اور معبود بھی ۔ ان صفات کے بیان فرمانے سے معلوم ہوتا ہے کہ شیطان کی وسوسہ اندازی کے مواقع یہی اوصاف ہیں ۔ پہلے ربو بیت الٰہی سے متعلق وسوسے ڈالتا ہے اور حتی الامکان یہ کوشش کرتا ہے کہ خداے تعالیٰ کی ربوبیت ذہن نشین نہ ہونے پائے ، کیونکہ آدمی بلکہ جانور کی بھی طبیعت کا یہ متقضاہے کہ اپنی پرورش کرنے والے کے ساتھ دل سے محبت رکھتا ہے اور اس کی ربوبیت کو مانتا ہے اور اس کی کسی بات کو نہیں ٹالتا ۔ دیکھ لیجئے جو لوگ ہزار بارہ سو روپیہ ماہوار پاتے ہیں وہ اپنے سردار کی بات پر جان تک دے دیتے ہیں ۔
شیطان کو بڑی فکر اس امر کی لگی رہتی ہے کہ اگر یہ مان لیا جائے کہ خداے تعالیٰ اصل رب اور پرورش کرنے والا ہے تو اس سے کمال درجہ کی محبت ہو جا ئے گی اورجو کچھ اس کے ارشاد ات ہیں سب مان لئے جائیں گے خصوصاً پنج وقتہ نماز ،روزے اور حج و زکاۃ وغیرہ ضروریات دین کے لوگ پابند ہوجائیں گے اور جتنی بری باتیں ہیں سب چھوڑ دیں گے جس سے فـضل الٰہی کے مستحق ہو جائیں گے ،اور اس کا مقصود جو اولاد آدم علیہ السلام کو تباہ کرنا ہے فوت ہو جائے گا ۔ اس لئے عوماً مسلمانوں کے خیال کو بھی حق تعالیٰـ کی طرف رجوع ہونے نہیں دیتا ،بلکہ جب کوئی حاجت اور ضرورت پیش ہوتی ہے اس وقت یہ سمجھا تا ہے کہ فلاں کے پاس چلو اور فلاں سے مددلو اور فلاں قسم کا کام کرو ۔ غرض کہ ایک ایسا سلسلہ قائم کر دیتا ہے کہ نبوت ہی نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت پیش نظر ہو ۔ پھر اگر حاجت روائی ہوگئی تو ان کو اسباب کامیابی قررا دیتا ہے۔اور یہ سلسلہ اس کے خیال کو کچھ ایسا پابند بنا تا ہے کہ گویا پا بہ زنجیر ہو کر آدمی اسی قید خا نہ میں پڑا رہتا ہے ،اور اگر ربوبیت الٰہی کا کبھی خیال آبھی گیا تو وہ ایسا ہو تا ہے جیسے بے ضرورت بہت سارے خیال ہمیشہ آتے رہتے ہیں اور ا ن کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ایسے لوگوں کی ہدایت کے لئے ارشاد ہوا کہ :جب لوگوں کی ربوبیت تمہارے پیش نظر ہو جائے اور یہ شیطان کا افسوس تم پر اثر کر جائے تو رب الناسکی پناہ میں آجا ئو اور یہ سمجھ لو کہ اصل ربوبیت مقیدہ اللہ تعالیٰ ہی کی ربوبیت ہے ، جب ربوبیت مطلقہ کے میدان میں قدم بڑھائو گے تمہیں شیطان کے شر سے جس نے تمہیں قیدی بنا رکھا ہے پناہ مل جائے گی ۔ مگر مشکل یہ ہے کہ پناہ لینے کی ضرورت ہی ہر شخص کو محسوس نہیں ہوتی !!

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!