انکار جنت ودوزخ کا منشاء :

انکار جنت ودوزخ کا منشاء :

Advertisement

اہل تہذیب جدیدہ اگر چہ اعلیٰ درجے کی بات کہتے ہیں کہ اعمال حسنہ و سیٔہ کے لئے خوف و رجاء اس قسم کی نہ ہونی چاہئے بلکہ جوکام ہو خلوص سے خاص خداے تعالیٰ کی رضا مندی کے لئے ہو ،چنانچہ اکثر اولیاء اللہ کا بھی یہی قول ہے ،مگر فرق یہ ہے کہ اولیاء اللہ جنت ودوزخ کے قائل ہیں ، بحلاف اس کے ان حضرات کا اندرونی منشا کچھ اور ہی ہے ۔ اکثر حکماء کایہی مسلک ہے کہ جنت و دوزخ کوئی چیز نہیں صرف روحانی لذائذ جو روحانیت کا تکمیل سے حاصل ہوتے ہیں ا ن کانام جنت ہے ، اور روحانی تکالیف کانام دوزخ ہے جو رحانی کماات حاصل نہ کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں ۔
حکماء کی غرض یہی معلوم ہوتی ہے کہ زمین ایک بڑی مستحکم چیز ہے ،جب ایک بار بن گئی تو اس کو خراب کر کے دوسرا عالم قائم کرنا ایک مشکل کام ہے ، اس لئے انہوںنے مناسب سمجھا کہ دنیا کا کارخانہ یوں ہی چلنے دینا چاہئے کہ ہمیشہ لوگ پیدا ہوتے رہیں !اور آخرت کا کارخانہ علحدہ قائم

کرنے کی ضرورت نہیں ،صرف روح جہاں رہے وہیں اس کے لئے آسائش یا تکلیف رہے جس کو انبیاء جنت و دوزخ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ انہوںنے دیکھاکہ جب عالم کاکارخانہ ایک مدت سے جاری ہے اور کوئی ایسا شخص انہیں نہ ملا کہ اس کے روبرو تخلیق عالم ہوئی ہو ، اس لئے انہوںنے یہ خیال کیاکہ عالم قد یم ہے ، اور یہ بھی تجویز کرلی کہ وہ کبھی فنانہ ہوگا ۔ یہ صرف ان کا قیاس ہے ، اور چونکہ وہ قیاس الغائب علی الشاہد ہے اسلئے عقلاً جائز نہیں ہوسکتا، اورجتنی دلائل قائم کی گئیں ہیں ان میں کوئی دلیل ایسی نہیںجس کو عقلِ سلیم قبول کر سکے ۔کیونکہ یہ مسئلہ نظری ہے جس میں نظر و فکر کی کی ضرورت ہے ، اور یہ بات قابل تسلیم ہے کہ جب تک نظریات کی انتہاء کسی بد یہی پر نہ ہو دلیل مفید نہیں ہوسکتی ، اب یہاں کونسی چیز ایسی بد یہی نکل سکے گی جس کے ذریعہ سے ہم قدیم عالم تک پہونچ سکیں ۔
غرضکہ عقل عالَم کے قِدَم اور ابدکی راہ طے کرنی محالات سے ہے ،بخلاف اس کے جب ہم نے عقل کی رہبری سے مان لیا کہ عالم کا پیدا کرنے والاایک ہے جس نے ہماری ہدایت کے لئے نبی بھیجا اور اس پر قرآن نازل کیا اور اسی میں فرمایا کہ ہم نے اپنی قدرت سے آسمان وزمین پیدا کئے ،تو اب ہمیں اس میں شک کرنے کی کوئی وجہ نہیں کہ آسمان وزمین حادث ہیں اوران کو خداے تعالیٰ نے اپنے ارادہ سے جب چاہا بنا یا ہے ۔
حکماء نے عالم کو بڑی وقعت دے رکھی ہے یہاں تک کہ کہتے ہیں جب سے خدا ہے عالم بھی اس کے ساتھ ہے ! بلکہ بعض نے توکہا کہ خدا کی بھی ضرورت نہیں عالم خود بخود پیداہوگیا ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ جب نگاہ پڑتی ہے تو عالم ہی پرپڑتی ہے ،اور خداے تعالیٰـ کی یہ شان نہیں کہ لوگ اس کو دیکھ سکیں اور جس قدر اس کی قدر تیں ظاہر ہوتی ہیں اشیاء عالم میں ہوتی ہیں اس لئے خالق تک نظر پہونچنے کی ظاہر اً کوئی صورت نہ تھی ۔البتہ بعض حکماء جن کو اعلیٰ درجے کی عقل دی گئی تھی ان کی عقلوں نے رسائی کی اور سمجھ گئے کہ نہ عالم خود بخود بن سکتا ہے نہ اپنے میں خوبیاں اپنے آپ سے پیداکر سکتا ہے ،بلکہ پیداکرنے والا اور تمام کام چلانے والا کوئی اور ہی ہے ۔ پھر ان کوبھی بعض امور میں غلطیاں ہوئیں ، کیونکہ عقل کہاں تک چل سکے ! اس کے حد امکان میں اسی قدرہے کہ تخمین سے کام لے ، اور ظاہر ہے کہ تخمین کوئی اعتبار کے قابل چیز نہیں ۔
غرض کہ حکماء فلسفیوں نے عالم کو جس قدر وقعت دے رکھی ہے وہ صحیح نہیں ۔
کیونکہ وہ مخلوق ہے ،اور ممکن نہیں کہ مخلوق خالق سے برابری اور ہمسری کا دعویٰ کرسکے۔ اسی کو دیکھ لیجئے کہ ہم مکا ن یا اور کوئی چیز بنا تے ہیں تو باوجود یکہ یہ نہیں کہہ سکتے کہ ہم اس کے خالق ہیں ، کیونکہ مکان کے لئے مثلاً لکڑی ، چونا ،پتھروغیرہ اشیاء جب تک پہلے سے موجود نہ ہوں ہم کچھ نہیں کر سکتے ان سب کا خالق خداے تعالیٰ ہے، ہمارا کام صرف اس قدر ہے کہ ان اشیاء کو خاص طور پر ایک جگہ جمع کردیں ۔ جس پر مکان کا اطلاق ہو سکے ۔ اب دیکھئے کہ باوجود خالق نہ ہونے کے ان شیاء کا ہمارے روبرو کیا حال ہے جس طرح چاہتے ہیں لکڑی اور پتھر کو تراشتے ہیں او رجہاں چاہتے ہیں ان کو لگا تے ہیں ، کسی کو سرتابی کی مجال نہیں ، یہ نہیںہوسکتا کہ مثلاً ایک پتھر کو ہم بیت الخلاء میں لگانا چاہیں اوروہ انکار کرے ۔ اب دیکھئے کہ با وجود یکہ یہ اشیاء موجود اور ہمارے ہمسرہیں اس وجہ سے کہ جس طرخدا ے تعالیٰ نے ہمیں پیدا کیا انہیںبھی پیدا کیا ، مگر چونکہ ہم کو ان پر ایک قسم کا تسلط دیا گیا ہے وہ ہم سے سرتابی نہیں کرسکتے اور ہماری قدرت سے مکان وجود میں آجا تاہے ۔ اسی پر غور کیجئے کہ مخلوق کو خالق کے ساتھ کسی قسم کی ہمسری نہیں ہوسکتی ، کونکہ وہ بالذات موجود ہے اوریہ معدوم ، جب خالق کسی شئے کو عدم سے وجود میں لانا چاہتاہے تو وہ شئے اس کے روبرو اس سے بھی زیادہ ذلیل اورمتقادہے جو ہمارے روبرو مکان کے اجزاء ہوتے ہیں ۔ صرف خداے تعالیٰ کا ارادہ ہونے کی دیرہے ، جہاں کسی چیز کے پیدا کرنے سے ارادہ متعلق ہوا تو پھر ممکن نہیں کہ وہ چیز وجود میں نہ آئے یا آنے میں تاخیر کرے، کیونکہ اگر کسی چیز کے بننے میں تاخیر ہوتی ہے تو وہ بنا نے والے کی وجہ سے ہوتی ہے ، بنا نے والا ذی اثر اور با قدرت ہو تو وہ چیز بہت جلد تیار ہوگی ۔ مثلاً معمولی مقدرت والاجس مکان کو ایک مہینے میں بنا سکتا ہے تو بڑی مقدر ت والا اگر چاہے تو دوتین روز میں بنا لے گا ۔
مخلوق اگر کسی چیزکوبنائے تو خواہ مخواہ دیرہوگی کیونکہ آلات واسباب فراہم کرنے میں ضرور دیر ہوتی ہے ، بخلاف اس کے اگر خالق عزوجل جب

کسی چیز کو بنا نا چاہتا ہے تو وہاں پر نہ آلات کی ضرورت ہوتی ہے نہ اسباب کی ،بلکہ فقط ’’موجود ہوجا‘‘کہہ دینا کافی ہے ،چناچہ ارشاد ہے انما قو لنا لشی ء اذاارد نا ہ ان نقول لہ کن فیکون اب غور کیجئے کہ مخلوق کس قدر خالق کے روبرو ذلیل اور منقاد ہے کہ صرف ’’کن‘‘ کہہ دینے سے وجود میں آجا تی ہے ۔ جب ہر چیز کا یہی حال ہے جن کا مجوموعہ عالم ہے تو ظاہر ہے کہ عالَم خداے تعالیٰ کے روبرو نہایت ذلیل اور منقاد ہے ، اور اس کی ہستی ہی کیا خداے تعالیٰ کی ہمسری کا دعویٰ کرسکے ۔
غرضکہ عقلاً یہ بات ثابت ہو سکتی ہے کہ عالم کو خداے تعالیٰ کے مقابلہ میں کوئی وقعت نہیں ، بلکہ نہایت ذلیل حالت میں ہے ،صرف ایک لفظ کے کہنے سے وجود میں اسکتا ہے اور ایک لفظ کے کہنے سے فنا ہوسکتا ہے ۔ جب یہ بات قابل تسلیم ہے تو کہنا پڑے گا کہ خدا تعالیٰ نے جس طرح اپنے ارادہ اور اختیار سے عالم کو موجود کیا اسی طرح اس کو اپنے ارادہ اور اختیار سے فنا بھی کرسکتا ہے ، جس کی خبر قرآن شریف میں دی ہے۔ اس کے بعد یہ خیال کرنا کہ زمین و آسمان ہمیشہ باقی رہیںگے اور روحانی دنیا کے لئے کوئی ٹھکانے یعنی جنت و دوزخ کی ضرورت نہیں! یہ قرآن شریف کی تکذیب کرنی ہے ۔
بِ
یہ حرف جارہے اور جس پر داخل ہوتا ہے اس کو مجرور کہتے ہیں ،’’جار ‘‘ لغت میں کھینچنے والے کو کہتے ہیں اور ’’مجرور ‘‘وہ جو کھینچا جائے ۔ جا ر مجرور کا تعلق کسی فعل سے یا صیغہ ،صفت سے ہوتا ہے ، اگر ظاہر اً کوئی فعل یا صیغہ ،صفت نہ ہوتو اس کو مقدر کرنے کی ضرورت ہو تی ہے جیسے ’’زید افی الدار ‘‘ میں :ثبت، یا ثابت فی الدار سمجھا جا تا ہے۔ جب تک جار مجرور کا تعلق فعل یا صیغہ ء صفت سے نہ ہو عبارت درست نہیںہوسکتی ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ عبارت کا ایک عالَم ہی جدا اور مستقل ہے جس میں بے انتہاء افراد موجود ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں ، اس عالم کا تعلق فہم وادراک اور سامعہ سے ہے اور بواسطہ ،نقوش باصرہ سے بھی ہوسکتا ہے ،باقی دوسرے حواس کو اس عالم میں رسائی نہیں ۔ یہ عالم عبارت دراصل جلوہ گاہ عالَمِ معنیٰ ہے یعنی معنیٰ تنزل کرکے عالَمِ عبارت میں آجاتاہے ۔ پھر اس عالم میں اس کی مختلف اَشکال ہوتی ہیں،ایک شکل کو دوسری شکل سے کوئی منا سبت نہیں ہوتی
مثلاً جب آدمی چاہتا ہے کہ کوئی اسے پانی پلائے تو کسی کو مخاطب کر کے ہندی ہو تو یہ کہے گا کہ ’’مجھے پانی پلائو ‘‘ اور عرب ہوتو ’’اسقنی الماء ‘‘ اور فارسی ہوتو ’’مراآب بنوشاں ‘‘ کہے گا ،علیٰ ہذا القیاس ہر ملک کا آدمی اپنی زبان میں اسی مقصود کو ظاہر کرے گا اگر چہ بحسبِ اختلافِ اَلسنہ صدہا قسم کی عبارتیں اس مضمون کی بنائی جائیں گی ، جس کواس زبان کے جاننے والوں کے سوا کوئی دوسرا نہ جانے گا ۔ مگر دل میں سب کے ایک ہی قسم کی بات ہوگی یہاں شاید یہ خیال پیداہوگا کہ ہندی کے دل میں بھی ہندی الفاظ ہوںگے ! مگر یہ صحیح نہیں ، اس لئے کہ جانور کے کے دل میں بھی یہ بات موجود ہوتی ہے جیساکہ آثار اور قرائن سے ثابت ہے حالانکہ اس کے دل میں کسی میں کھینچنے والے کو کہتے ہیں اور ’’مجرور ‘‘وہ جو کھینچا جائے ۔ جا ر مجرور کا تعلق کسی فعل سے یا صیغہ ،صفت سے ہوتا ہے ، اگر ظاہر اً کوئی فعل یا صیغہ ،صفت نہ ہوتو اس کو مقدر کرنے کی ضرورت ہو تی ہے جیسے ’’زید افی الدار ‘‘ میں :ثبت، یا ثابت فی الدار سمجھا جا تا ہے۔ جب تک جار مجرور کا تعلق فعل یا صیغہ ء صفت سے نہ ہو عبارت درست نہیںہوسکتی ۔
یہ بات قابل توجہ ہے کہ عبارت کا ایک عالَم ہی جدا اور مستقل ہے جس میں بے انتہاء افراد موجود ہوئے اور ہوتے جاتے ہیں ، اس عالم کا تعلق فہم وادراک اور سامعہ سے ہے اور بواسطہ ،نقوش باصرہ سے بھی ہوسکتا ہے ،باقی دوسرے حواس کو اس عالم میں رسائی نہیں ۔ یہ عالم عبارت دراصل جلوہ گاہ عالَمِ معنیٰ ہے یعنی معنیٰ تنزل کرکے عالَمِ عبارت میں آجاتاہے ۔ پھر اس عالم میں اس کی مختلف اَشکال ہوتی ہیں،ایک شکل کو دوسری شکل سے کوئی منا سبت نہیں ہوتی
مثلاً جب آدمی چاہتا ہے کہ کوئی اسے پانی پلائے تو کسی کو مخاطب کر کے ہندی ہو تو یہ کہے گا کہ ’’مجھے پانی پلائو ‘‘ اور عرب ہوتو ’’اسقنی الماء ‘‘ اور

فارسی ہوتو ’’مراآب بنوشاں ‘‘ کہے گا ،علیٰ ہذا القیاس ہر ملک کا آدمی اپنی زبان میں اسی مقصود کو ظاہر کرے گا اگر چہ بحسبِ اختلافِ اَلسنہ صدہا قسم کی عبارتیں اس مضمون کی بنائی جائیں گی ، جس کواس زبان کے جاننے والوں کے سوا کوئی دوسرا نہ جانے گا ۔ مگر دل میں سب کے ایک ہی قسم کی بات ہوگی یہاں شاید یہ خیال پیداہوگا کہ ہندی کے دل میں بھی ہندی الفاظ ہوںگے ! مگر یہ صحیح نہیں ، اس لئے کہ جانور کے کے دل میں بھی یہ بات موجود ہوتی ہے جیساکہ آثار اور قرائن سے ثابت ہے حالانکہ اس کے دل میں کسی نہ اس میں حروف ہیں جن کے بنا نے میں زبان و حلق ودہان ولب کے استعمال کی ضرورت ہو اور ان کی تقدیم و تاخیر ہوسکے ، نہ صوت ہے جس میں ہوا کی طرف احتیاج ہو ۔ اس حالات تزیہی سے وہ کلام نفسی تنزل کر کے فضائے دہن میں جلوہ گر ہوتا ہے،حلق سے لے کر ہونٹوں تک اس کی دارالسلطنت ہے ، اس کے تولد کی یہ کیفیت ہے کہ زبان ایک ایک جگہ لگتی جا تی ہے اور ایک ایک حصہ اس کا وجود میں آتا جاتا ہے اور بعض حصوں کو حلق اور لب وغیرہ بنا تے ہیں ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!