انبیاء علیہم السلام کے رتبے


انبیاء علیہم السلام کے رتبے

انبیاء علیہم السلام کے مراتب (۱) میں فرق ہے ۔ بعضوں کے رتبے بعضوں سے اعلیٰ ہیں۔ سب سے بڑا رُتبہ ہمارے آقا ومولیٰ سیّد الانبیاء (۲) محمد مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہے۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم خاتِم النبیّین ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبوت کا سلسلہ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم پر ختم فرمادیا۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد کسی کو نبوت نہیں مل سکتی۔ جو شخص حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے بعد کسی کو نبوت ملنا جائز سمجھے وہ کافر ہوجاتا ہے ۔تمام انبیا ء علیہم السلام کو جو کمالات جدا جدا عنایت ہوئے وہ سب ا للہ تعالیٰ نے حضور صلی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات عالی میں جمع فرمادئيے اور حضور صلی ا للہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم کے خاص کمالات بہت زائد ہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم ا للہ تعالیٰ کے محبوب ہیں ۔ خدا کی راہ انبیاء علیہم السلام ہی کے ذریعے ملتی ہے اور انسان کی نجات کا دارو مدار انہیں کی فرمانبرداری پر ہے۔

سوالات

سوال: کیا جِن اور فرشتے بھی نبی ہوتے ہیں؟
جواب: نہیں، نبی صرف انسانوں میں سے ہوتے ہیں۔ اور ان میں سے بھی فقط مرد۔ کوئی عورت نبی نہیں ہوتی۔
سوال: کیا غیر نبی کے پاس بھی وحی آتی ہے؟
جواب: وحی نبوت غیر نبی کے پاس نہیں آتی ۔ جو اس کا قائل ہو وہ کافر ہے۔
سوال: کیا انبیا ء کے سوا اور کوئی بھی معصوم ہوتا ہے؟
جواب : ہاں ،فرشتے بھی معصوم ہوتے ہیں اور کوئی نہیں۔
سوال: معصوم کس کو کہتے ہیں؟
جواب: جو اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہو اور اس وجہ سے اس کا گناہ کرنا ناممکن ہو۔
سوال: کیا امام اور ولی بھی معصوم ہوتے ہیں؟
جواب: انبیا ء اور فرشتوں علیہم السلام کے سوا معصوم کوئی بھی نہیں ہوتا ، اولیاء کو اللہ تعالیٰ اپنے کرم سے گناہوں سے بچاتا ہے مگر معصوم صرف انبیاء اور فرشتے ہی ہیں۔
سوال: علمِ اسماء کس کو کہتے ہیں؟
جواب: اللہ تعالیٰ نے جو حضرت آدم علیہ السلام کو ہر چیز اور اُس کے ناموں کا علم عطا فرمایا تھا اس کو علمِ اسماء کہتے ہیں ۔
سوال: فرشتوں نے حضرت آدم علیہ السلام کو کیسا سجدہ کیا تھا؟
جواب: یہ سجدہ تعظیمی تھا، جو خدا کے حکم سے ملائکہ نے کیا اور سجدہ تعظیمی پہلی شریعتوں میں جائز تھا ہماری شریعت میں جائز نہیں۔ اور سجدہ عبادت پہلی شریعتوں میں بھی خدا کے سوا کسی اور کے لئے جائز نہیں ہوا۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
(۱) مرتبے ، درجے (۲) نبیوں کے سردار

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *