اعجاز القرآن کی چوتھی وجہ

اعجاز القرآن کی چوتھی وجہ
علوم القرآن:
علوم کے لحاظ سے بھی قرآنِ کریم معجزہ ہے چنانچہ شاہ وَلی اللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ مَعَانیِ منطوقہ قرآن پانچ علموں سے خارج نہیں ( 1) ۔ اَوَّل: علم اَحکام یعنی واجب و مندوب و مباح ومکروہ وحرام خواہ از قسم عبادت ہوں یا معاملات یا تدبیر ِمنزل یا سیاست مُدُن (2 ) ۔ دوسرے: چار گمراہ فرقوں یعنی یہود و نصاریٰ ومشرکین ومنافقین کے ساتھ مُخَاصَمَہ کا علم۔ تیسرے اللّٰہ تعالٰی کی نعمتوں ( آسمان و زمین کی پیدائش کا ذکر اور بندوں کی ضروریات کاالہام اور اللّٰہ کی صفاتِ کاملہ کا بیان) کے ساتھ نصیحت کرنے کا علم۔ چوتھے ایام اللّٰہ یعنی امم ماضیہ میں دشمنانِ خداکے ساتھ خدا کے وقائع بیان کرنے کے ساتھ (3 ) نصیحت کرنے کا علم۔ پانچویں موت اور مابعد موت (حشر ونشرو حساب ومیزان وبہشت ودوزخ) کے ساتھ نصیحت کرنے کا علم۔ ( 4) قرآن میں ان علوم پنجگانہ کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ کتاب اللّٰہ تعالٰی نے بنی آدم کی ہدایت کے لئے نازل فرمائی ہے۔ جس طرح عالم طب جب قانونِ شیخ ( 5) کامطالعہ کرتاہے اور دیکھتا ہے کہ یہ کتاب بیماریوں کے اسباب وعلامات اور اَدْوِیہ کے بیان میں غایت درجہ کو پہنچی ہوئی ہے تو اسے ذرا شک نہیں رہتا کہ اس کا مؤلف علم طب میں کامل ہے اسی طرح شریعتوں کے اَسرار کا عالم جب جان لیتا ہے کہ تَہذِیب نُفُوس (6 ) میں افراد

Advertisement

انسان کے لئے کن کن چیزوں کے بتانے کی ضرورت ہے اور بعدازاں فنون پنجگانہ میں تامل کرتا ہے تو بے شک اسے معلوم ہوجاتا ہے کہ یہ فنون اپنے معانی میں اس طرح واقع ہوئے ہیں کہ اس سے بہتر ممکن نہیں ۔ ( 1)
قرآن کریم چونکہ تزکیہ نفوس میں مُعجِز کتاب ہے۔ (2 ) اسی واسطے اس کتاب کی تلاوت کے وقت دلو ں میں خشیت و ہیبت پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ اللّٰہ تعالٰی فرماتا ہے:
اَللّٰهُ نَزَّلَ اَحْسَنَ الْحَدِیْثِ كِتٰبًا مُّتَشَابِهًا مَّثَانِیَ ﳓ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُوْدُ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْۚ-ثُمَّ تَلِیْنُ جُلُوْدُهُمْ وَ قُلُوْبُهُمْ اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِؕ- (زمر، ع۳)
اللّٰہنے اتاری بہتر کتاب۔ کتاب ہے آپس ( 3) میں دوہرائی ہوئی، بال کھڑے ہوتے ہیں اس سے کھالوں پر ان لوگوں کی جو ڈرتے ہیں اپنے رب سے پھر نرم ہوجاتے ہیں ان کے چمڑے اور دل ان کے اللّٰہ کی یاد کی طرف۔ (4 )
دوسری جگہ ارشا د ہوتاہے:
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِؕ-وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ (۲۱) (حشر، ع۳)
اگر ہم اتارتے اس قرآن کو ایک پہاڑ پر البتہ تودیکھتا اس کو دب جانے والا پھٹ جانے والا اللّٰہ کے ڈرسے اور یہ مثالیں بیان کرتے ہیں ہم لوگوں کے واسطے تاکہ وہ فکر کریں ۔ (5 )
قرآن کریم کی اس خارقِ عادت تاثیر سے بچنے کے لئے کفار قریش ایک دوسرے سے کہہ دیا کرتے تھے کہ جب قرآن پڑھاجائے تو تم شور مچا دیا کرو۔ (6 ) (حم سجدہ، ع ۴) اور اسی واسطے مُکَذِّبین (7 ) پر اس کا سننا نہایت دشوار

گزرتا تھااور بوجہ خبث طبع نفرت سے پیٹھ دے کر بھاگ جاتے تھے۔ ( 1) (بنی اسرائیل، ع ۵) ذیل میں تاثیر ِقرآن مجید کی توضیح کے لئے ہم چند مثالیں درج کرتے ہیں ۔
ابن ( 2) اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُکے اسلام لانے کی کیفیت مجھے یہ معلوم ہوئی ہے کہ آپ کی بہن فاطمہ اور فاطمہ کے خاوند سعید بن زید بن عمرو بن نفیل مسلمان ہوگئے تھے مگر اپنے اسلام کو اپنی قوم کے ڈر سے پوشیدہ رکھتے تھے۔ اسی طرح حضرت نعیم بن عبداللّٰہ النحام (3 ) بھی جو مکہ کے رہنے والے اور آپ ہی کی قوم بنی عَد ِی بن َکعْب میں سے تھے اسلام لے آئے تھے او ر اپنے اسلام کو اپنی قوم کے ڈرسے پوشیدہ رکھتے تھے۔ حضرت خباب بن الارت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ حضرت فاطمہ کے پاس قرآن پڑھانے آیا کرتے تھے۔ ایک روز حضرت عمر کوجو خبر لگی کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ کے اصحاب مردوزن قریباً چالیس کوہ صفا کے قریب ایک گھر میں جمع ہو رہے ہیں تو تلوار آڑے لٹکائے ہوئے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور حضور کے اصحاب کے قصد سے نکلے۔ ان اصحاب میں حضرت ابو بکر اور حضرت علی اور حضرت حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُم بھی تھے جو ان مسلمانوں میں سے تھے جنہوں نے ملک حبشہ کی طرف ہجرت نہ فرمائی تھی۔ راستے میں حضرت نعیم ملے جن سے یوں گفتگو ہوئی:
عمر: میں اس صابی (دین سے برگشتہ ) محمد کافیصلہ کرنے چلاہوں جس نے قریش کی جماعت کو پراگندہ (4 ) کردیاہے اور جوا ن کے داناؤں کو نادان اوران کے دین کو معیوب بتاتا ہے اور ان کے معبودوں کو براکہتا ہے۔
نعیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ: عمر ! اللّٰہ کی قسم! تجھے تیرے نفس نے دھوکا دیا ہے۔ کیا تو سمجھتا ہے کہ اگر تو حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو قتل کردے گا تو عبد مناف کی اولاد تجھے زمین پر زندہ چھوڑدے گی؟ تو اپنے اہل بیت میں جا

اور انہیں سیدھا کر۔
عمر: کو ن سے اہل بیت ؟
نعیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ: اللّٰہ کی قسم ! تیرا بہنوئی سعید بن زید اور تیری بہن فاطمہ دونوں مسلمان ہوگئے ہیں اور دین محمد ی کے پیروبن گئے ہیں تو ان سے سُلَجھ لے۔
(یہ سن کر عمر اپنی بہن کے گھر پہنچتے ہیں وہاں حضرت خباب آپ کی بہن اور بہنوئی کو قرآن کی سورۂ طہ پڑھا رہے ہیں جن کی آواز عمر کے کان میں پڑجاتی ہے۔ عمر کی آہٹ سے حضرت خباب تو کوٹھڑی میں جاچھپتے ہیں اور فاطمہ وہ صحیفہ ٔ قرآن لے کر اپنی ران کے نیچے چھپالیتی ہیں )
عمر: (اندر داخل ہوکر) یہ آواز جو میں نے سنی کیسی تھی؟
سعیدوفاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما : تونے کچھ نہیں سنا۔
عمر: کیوں نہیں اللّٰہ کی قسم! مجھے خبر لگی ہے کہ تم دونوں دین محمد ی کے پیر وبن گئے ہو۔ (یہ کہہ کر عمر سعید کو پکڑلیتے ہیں بہن جو چھڑانے اٹھتی ہے اسے بھی لہو لہان کردیتے ہیں )
سعید وفاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما: ہاں ہم مسلمان ہوگئے ہیں اور اللّٰہ و رسول پر ایمان لے آئے ہیں تو کر جو کر سکتاہے۔
عمر: (بہن کو لہو لہان دیکھ کر ندامت سے ) بہن! وہ کتاب تو د کھاؤ جو ابھی تم پڑھ رہے تھے۔
فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا : مجھے ڈرہے کہ تو واپس نہ دے گا۔
عمر: تو نہ ڈر (اپنے معبودوں کی قسم کھا کر) میں پڑھ کر واپس کردوں گا۔
فاطمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا : (بھائی کے اسلام کے لالچ میں آکر ) بھائی! تو مشرک ہونے کے سبب سے ناپاک ہے اسے تو وہی چھوتے ہیں جو پاک ہوں ۔
عمر: ( غسل کے بعد سورۂ طہ کی شروع کی آیتیں تلاوت کرکے) یہ کلام کیسا اچھا اور پیاراہے۔
خباب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ: (کوٹھڑی سے نکل کر ) عمر! مجھے امید ہے کہ آپ نبی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی دعا کے مصداق ہوں گے کیونکہ میں نے کل سنا کہ آپ یوں دعا فرما رہے تھے: ’’ یااللّٰہ! تو ابو الحکم بن ہشام یا عمر بن الخطَّاب کے ساتھ

اسلام کو تقویت دے۔ ‘‘ اے عمر ! تو اللّٰہ سے ڈر۔
عمر: مجھے حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے پاس لے چلو تاکہ میں مسلمان ہوجاؤں ۔
خباب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ: آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مع اصحاب کے کوہِ صفا کے قریب تشریف رکھتے ہیں ۔ (عمر تلوار آڑے لٹکائے دردولت پر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں ۔ اہل خانہ میں سے ایک صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ آپ کو اس ہیئت میں دیکھ کر ڈرجاتے ہیں )
صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ: یارسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! یہ عمر بن الخطاب ہے جو تلوار حَمَائل کیے ہوئے ( 1) ہے ۔
حمزہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ: اسے آنے کی اجازت دو۔ اگر وہ کارِ خیر کے لئے آیا ہے تو ہمیں دَریغ نہیں اور اگر وہ شرارت کا ارادہ رکھتا ہے تو ہم اسے اسی کی تلوار سے قتل کردیں گے۔
رسو ل اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم: اسے اند ر آنے دو۔
صحابی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ: اندر آئیے۔ (عمرداخل ہوتے ہیں )
رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : (عمر کی کمر یا چادر کادامن کھینچ کر) خطاب کے بیٹے! کیونکر آنا ہوا، اللّٰہ کی قسم ! میں نہیں دیکھتا کہ تو باز آئے یہاں تک کہ اللّٰہعَزَّوَجَلَّ تجھ پر کھڑکا نازل کرے۔
عمر: یارسول اللّٰہ ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں آپ کی خدمت میں آیا ہوں تاکہ اللّٰہ پر او ر اللّٰہ کے رسول پر اور اس پر جووہ اللّٰہ کے ہاں سے لائے ایمان لاؤں ۔ (اس طرح عمر اسلام لاتے ہیں اور حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تکبیر پڑھتے ہیں جس سے تمام حاضرین خانہ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ حضرت عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مسلمان ہوگئے۔) ( 2)
ایک (3 ) روز حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ایک اونٹ پر سوار ایک کوچے میں سے گزر رہے تھے ایک قاری نے یہ آیت پڑھی :
اِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ لَوَاقِعٌۙ (۷) مَّا لَهٗ مِنْ دَافِعٍۙ (۸)
بے شک عذاب تیرے رب کا ہونے والاہے اس کوکوئی نہیں

(طور، ع ۱) ہٹانے والا۔ ( 1)
اسے سن کر آپ بیہوش ہوگئے اور بیہوشی کی حالت میں زمین پر گر پڑے وہاں سے اٹھا کر آپ کو گھر لائے مدت تک اس درد سے بیمار رہے یہاں تک کہ لوگ آپ کی بیمار پر سی کے لئے آتے تھے۔ ( 2)
دشمنانِ اسلام بھی قرآنِ کریم کی فوق العادت (3 ) تاثیر کے قائل تھے چنانچہ جب ۶ نبوت میں حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہجرت کے ارادے سے حبشہ کی طرف نکلے تو ابن الدغنہ ان کو برک الغِمَاد سے اپنی جوار میں مکہ واپس لے آیا۔ (4 ) قریش نے ابن الدغنہ کی جوار کو ردنہ کیا مگر اس سے کہاکہ ابو بکر سے کہہ دو کہ اپنے گھر میں اپنے رب کی عبادت کرے اور نماز میں چپکے جو چاہے پڑھے مگر ہمیں اذیت نہ دے اور آواز سے قرآن نہ پڑھے کیونکہ ہمیں ڈر ہے کہ مَبَادا ( 5) ہماری عور توں اور بچوں پر قرآن کااثر پڑجائے۔ ابن الدغنہ نے یہی آپ سے ذکرکر دیا۔ کچھ مدت آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اسی پر عمل کیا۔ بعد ازاں اپنے گھر کے پاس ایک مسجد بنالی جس میں آپ نماز پڑھتے اور قرآن بآوا ز پڑھتے۔ رَقیق القلب (6 ) تھے، قرآن پڑھتے تو بے اختیار رو پڑتے۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی قرأت و رِقت سے سردارانِ قریش ڈرگئے۔ انہوں نے ابن الدغنہ کو بلا کر کہا کہ ابو بکر نے خلافِ شرط اپنے گھر کے پاس ایک مسجد بنالی ہے جس میں وہ بآواز نماز و قرآن پڑھتا ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ مَبَادا ( 7) ہماری عورتوں اور بچوں پر اس کا اثرپڑے۔ تم اس کو روک دو۔ ہاں اگر وہ اپنے گھر کے اند ر چپکے عبادت کرنا چاہے تو کیاکرے اور اگر با ٓواز قرآن پڑھنے پر اِصرار کرے تو تم اس کی حفاظت کی ذمہ داری واپس لے لو کیونکہ ہمیں یہ پسند نہیں کہ ہم تمہارے عہد کی حفاظت کو توڑ دیں ۔ ہم ابو بکر کو قرأ ت کی اجازت نہیں دے سکتے۔ یہ سن کر ابن الدغنہ آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ آپ کو میری جوار کی شرط معلوم ہے آپ اس کی پابندی کریں ورنہ میری ذمہ داری واپس کردیں کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ عرب یہ سنیں کہ ایک شخص کی حفاظت

کا عہد جو میں نے کیا تھا وہ توڑ ڈالا گیا۔ آپ نے جواب دیا کہ میں تمہاری جوار کو واپس کرتا ہوں اورخدا کی جوار پر راضی ہوں ۔ ( 1)
حضرت جُبَیر بن مُطْعِم (2 ) جو اسلام لانے سے پہلے اسیرانِ بدر کے بارے میں گفتگو کرنے کے لئے حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نماز مغرب میں سورۂ طور پڑھتے پایا۔ جب آپ اس آیت پر پہنچے :
اَمْ خُلِقُوْا مِنْ غَیْرِ شَیْءٍ اَمْ هُمُ الْخٰلِقُوْنَؕ (۳۵) اَمْ خَلَقُوا السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَۚ-بَلْ لَّا یُوْقِنُوْنَؕ (۳۶) اَمْ عِنْدَهُمْ خَزَآىٕنُ رَبِّكَ اَمْ هُمُ الْمُصَۜیْطِرُوْنَؕ (۳۷) (طور، ع۲)
کیا وہ پیدا ہوئے ہیں آپ ہی آپ یا وہی ہیں پیدا کرنے والے یاانہوں نے پیدا کیا ہے آسمانوں اور زمین کو بلکہ یقین نہیں کرتے کیا ان کے پاس خزانے ہیں تیرے رب کے یا وہی داروغے ہیں ۔ ( 3)
تو قریب تھا کہ (خوف سے ) میرا دل پھٹ جائے ۔اور ایک روایت میں ہے کہ یہ پہلی دفعہ تھی کہ ایمان نے میرے دل میں قرار پکڑا۔ (4 )
حضرت طُفَیْل بن عمر و الدوسی (5 ) جو ایک شریف ودانا شاعر تھے اپنے اسلام لانے کا قصہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ میں مکہ میں آیا، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وہیں تھے قبیلہ قریش کے لوگوں نے مجھ سے کہا: اے طفیل! تو ہمارے شہروں میں آیا ہے۔ یہ شخص (حضرت محمد ) جو ہمارے درمیان ہے اس نے ہمیں تنگ کردیا ہے اور ہماری جماعت کو پراگندہ (6 ) کردیا۔ اس کا قول جادو گروں کا ساہے جس سے وہ باپ بیٹے میں ، بھائی بھائی میں اور میاں بیوی

میں جدائی ڈال دیتاہے۔ ہم ڈرتے ہیں کہ کہیں ہماری طرح تجھ پر اور تیری قوم پر بھی جادو کردے۔ اس لئے تو اس سے کلام نہ کرنااور نہ اس سے کچھ سننا۔ وہ مجھے یہی کہتے رہے یہا ں تک کہ میں نے مصمم ار ادہ ( 1) کرلیا کہ میں اس سے کچھ نہ سنوں گا اور نہ کلام کروں گا۔ نو بت یہاں تک پہنچی کہ جب میں مسجد کی طرف جاتا تو اس ڈر سے کہ کہیں بے ارادہ آپ کی آواز میرے کان میں پڑجائے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لیتا۔ ایک روز جو صبح کو میں مسجد کی طرف گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کعبہ کے پاس کھڑے نماز پڑھ رہے ہیں ۔ میں آپ کے قریب کھڑا ہوگیا۔ پس اللّٰہ نے مجھے آپ کا بعض قول سنا ہی دیا۔ مگر میں نے ایک عمدہ کلام سنا اور اپنے جی میں کہا: وائے بے فرزَندیٔ مَادرِ مَن ( 2) میں دانا شاعر ہوں ، بُرے بھلے میں تمیز کرسکتا ہوں پھراس کا قول سننے سے مجھے کیا چیز مانع ہوسکتی ہے جو کچھ وہ بیان کرے گا اگر اچھا ہوا تو میں قبول کرلوں گااور اگر بُرا ہوا تو رد کردوں گا۔ اس لئے میں ٹھہر ارہا یہاں تک کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے دولت خانے کی طرف وا پس ہوئے۔ میں آپ کے پیچھے پیچھے ہولیا۔ جب آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے دولت خانے میں داخل ہونے لگے تو میں نے عرض کیا: اے محمد ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کی قوم نے مجھے ایسا ایسا کہا ہے۔ اللّٰہ کی قسم ! وہ مجھے آپ کے قول سے ڈراتے رہے یہاں تک کہ میں نے اپنے کانوں میں روئی ٹھونس لی تاکہ آپ کا قول نہ سنوں مگر اللّٰہ نے سنا ہی دیا۔ میں نے ایک اچھا قول سنا۔ پھر میں نے التجا کی: اپنا دین آپ مجھ پر پیش کریں ۔ اس لئے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھ پر اسلام پیش کیااور مجھے قرآن پڑھ کر سنایا۔ اللّٰہ کی قسم ! میں نے کبھی اس کی بہ نسبت نہ کوئی اچھا قول اور نہ کوئی راست امر سنا، پس میں مسلمان ہوگیا اور میں نے کلمہ شہادت پڑھا اور عرض کیا: یارسول اللّٰہ ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میری قوم میرے کہنے میں ہے، میں ان کی طرف جاتا ہوں اور انہیں اسلام کی دعوت دیتا ہوں آپ میرے لئے دعا کیجئے کہ خدا مجھے ایک نشانی دے جو دعوتِ اسلام میں ان کے مقابلہ میں میری مدد گار ہو۔ یہ سن کر آپ نے یوں دعا فرمائی: ’’ اے اللّٰہ! اسے ایک نشانی عطا کر۔ ‘‘ پھر میں اپنی قوم کی طرف روانہ ہوا چلتے چلتے جب میں گھاٹی میں پہنچا جہاں سے میرا قبیلہ مجھے دیکھ سکتا تھا تو میری آنکھوں کے درمیان چراغ کی مانند ایک نور پیدا ہوا۔ میں نے کہا: یااللّٰہ! میری پیشانی کے سوا کسی اور جگہ نور پیدا کردے کیونکہ

میں ڈرتا ہوں وہ یوں گمان کریں گے کہ یہ عبرتناک سزاہے جوان کا دین چھوڑنے کے سبب میری پیشانی میں ظاہر ہوئی ہے۔ پس وہ نور بجائے پیشانی کے میرے کوڑے کے سرے پر نمودار ہوا۔ جب میں گھاٹی سے اپنے قبیلے کی طرف اتر رہا تھا تو وہ نور ان کو میرے کوڑے میں معلّق قندیل کی طرح نظرآتاتھایہاں تک کہ میں ان کے پاس پہنچ گیا پھر صبح ہوگئی جب میں مکان میں اترا تو میرا باپ جو بہت بوڑھا تھا میرے پاس آیا۔ میں نے کہا: ابا! مجھ سے دور رہو میں تیرا نہیں اور نہ تو میرا ہے۔ وہ بولا: بیٹا! کیوں ؟ میں نے کہا: میں مسلمان ہوگیا ہوں اور حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دین کا پیروبن گیا ہوں ۔ یہ سن کر میرے باپ نے کہا: میرا دین تیرا دین ہے۔ پس اس نے غسل کیا اور اپنے کپڑ ے پاک کیے پھر میرے پاس آیا۔ میں نے اس پر اسلام پیش کیا وہ مسلمان ہوگیا پھر میری بیوی میرے پاس آئی۔ میں نے اس سے کہا: مجھ سے دور رہو۔ میں تیرا نہیں اور تو میری نہیں ۔ وہ بولی: میرے ماں باپ تجھ پر قربان! کیوں ؟ میں نے کہا: اسلام میرے اور تیرے درمیان فارق ہے۔ میں مسلمان ہوگیا ہوں اور حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دین کا پیرو بن گیا ہوں ۔ وہ کہنے لگی: میرا دین تیرا دین ہے اوروہ مسلمان ہوگئی۔ پھر میں نے قبیلہ دوس کو اسلام کی دعوت دی مگر انہوں نے اس میں تاخیر کی۔ پھر میں مکہ میں رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کیا: یا نبی اللّٰہ! دوس مجھ پر غالب آگئے۔ آپ ان پر بددعا کیجئے۔ اس پر آپ نے یو ں دعا کی : ’’ یااللّٰہ! دوس کو ہدایت دے۔ ‘‘ اور مجھ سے فرمایا کہ تو اپنی قوم میں لوٹ جا اور انہیں نرمی سے دعوت اسلام دے۔ اس لئے میں لوٹ آیا اور دوس کو نرمی سے اسلام کی طرف بلاتا رہا یہاں تک کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مدینے کی طرف ہجرت فرمائی اور غزوۂ بدر واُحد و خندق ہوچکے۔ پھر میں اپنی قوم کے مسلمانوں کو ساتھ لے کر رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں آیا اور آپ خیبر میں تھے یہاں تک کہ مدینہ منورہ میں دوس کے ستریا اسی گھرانے اترے۔ ( 1)
پادری راڈویل صاحب لکھتے ہیں کہ عرب کے سیدھے سادھے بھیڑ بکریاں چرانے والے خانہ بدوش بدو لوگ ایسے بدل گئے جیسے کسی نے جادو کردیاہو۔ وہ لوگ مملکتوں کے بانی مَبَانی (2 ) اور شہروں کے بنانے والے اور جتنے کتب خانے انہوں نے خراب کیے تھے ان سے زیادہ کتب خانوں کے جمع کرنے والے ہوگئے اور فِسْطاط، بغداد، قرطبہ اور دِلی
کے شہروں کووہ قوت ہوئی کہ عیسائی یورپ کو کپکپادیا اور قرآن کی قدر ہمیشہ ان تبدیلیوں کے اندازہ سے ہونی چاہیے جو اس نے اپنے بطیبخاطر (1 ) ماننے والوں کی عادات اور اعتقادات میں داخل کیں ۔ بت پر ستی کے مٹانے، جنات اور مادیات کے شرک کے عوض اللّٰہ کی عبادت قائم کرنے، اَطفال کُشی کی رسم ( ) کو نیست و نابود کرنے ، بہت سے تو ہمات ( 2) کو دور کرنے اور اِزدِواج (3 ) کی تعداد کو گھٹا کر اس کی ایک حد معین کرنے میں قرآن بے شک عربوں کے لئے برکت اور قدرتِ حق ( 4) تھا، گوعیسائی مَذَاق پر وحی نہ ہو، (5 ) انتہیٰ۔ ( ازدیباچۂ قرآن مطبوعہ ۱۸۶۱ء ، صفحہ ۲۴) …یحییٰ بن الحَکَم الغَزَال اور عتبہ بن رَبیعہ وغیرہ کا حال بیان ہوچکاہے۔ زیادہ کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔
مذکورہ بالا وجوہِ اَربعہ کے علاوہ علمائے کرام نے قرآن کریم کے معجزہ ہونے کی اور وجہیں بھی بیان کی ہیں مگر میرے خیا ل میں یہ چاروں و جہیں بالکل کافی ہیں ۔

________________________________
1 – فوزالکبیر فی اصول التفسیر، ص ۳۹۹۲۔(ہم نے کئی نسخے دیکھے سب میں صفحہ نمبر یہی لکھا ہے یقینا کتابت میں غلطی ہوئی ہے۔ علمیہ)
2 – یعنی نفسوں کو پاک کرنے والی ایسی کتاب جس کی مثل پیش کرنا ممکن نہیں ۔
3 – کتاب آپس میں ملتی یعنی خوبی میں کوئی آیت کم نہیں ۔ دوہرائی ہوئی یعنی ایک مدعا کئی طرح تقریر کیا ہوا۔(موضح قرآن)۱۲منہ
4 – ترجمۂ کنزالایمان:اللّٰہ نے اتاری سب سے اچھی کتاب کہ اول سے آخر تک ایک سی ہے دوہرے بیان والی اس سے بال کھڑے ہوتے ہیں ان کے بدن پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں پھر ان کی کھالیں اور دل نرم پڑتے ہیں یادِ خدا کی طرف رغبت میں ۔(پ۲۳، الزمر:۲۳)۔علمیہ
5 – ترجمۂ کنزالایمان:اگر ہم یہ قرآن کسی پہاڑ پر اتارتے تو ضرور تو اسے دیکھتا جھکا ہوا پاش پاش ہوتا اللّٰہ کے خوف سے اور یہ مثالیں لوگوں کے لئے ہم بیان فرماتے ہیں کہ وہ سوچیں ۔ (پ۲۸، الحشر:۲۱)۔علمیہ
6 – وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَا تَسْمَعُوْا لِهٰذَا الْقُرْاٰنِ وَ الْغَوْا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَغْلِبُوْنَ(۲۶)ترجمۂ کنزالایمان:اور کافر بولے یہ قرآن نہ سنو اور اس میں بیہودہ غل کروشاید یونہی تم غالب آؤ۔ (پ۲۴، حم السجدۃ:۲۶)۔علمیہ
7 – جھٹلانے والوں ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!