اعجاز القرآن کی دوسری وجہ

اعجاز القرآن کی دوسری وجہ
نظم قرآن کا اُسلوبِ بدیع:

 

اگرچہ قرآن مجید کے الفاظ و حروف کلامِ عرب کی جنس سے ہیں اور ان کی نظم و نثر میں مستعمل ہیں مگر اس کا اُسلوب تمام اَسالیب سے جدا ہے اور اَنواعِ کلام (قصائد، خطب، رسائل، محاورہ) میں سے کسی سے نہیں ملتا۔ بایں ہمہ سب اَنواع کے محاسن کا جامع ہے۔ اہل عرب اَنواع چہار گانہ کے سوا کوئی او ر اُسلوب و طرزنہ جانتے تھے اور نہ کسی نئے طرز میں کلام کرسکتے تھے پس ایک عجیب نرالے اسلوب کا آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم (جواُمی تھے) کی زبان مبارک پر جاری ہونا عین اعجاز ہے۔
اس کتاب میں پہلے مذکور ہوچکا ہے کہ ایک روز وَلید بن مُغِیرَہ نے قریش سے کہا کہ ایامِ حج قریب ہیں عرب کے قبائل تم سے اس مدعی نبوت (حضرت محمد صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کی نسبت دریافت کریں گے تم اس کی نسبت ایک رائے قائم کرلو۔ اس پر قریش نے مختلف رائیں پیش کیں کہ وہ کاہن ہے، دیوانہ ہے، شاعر ہے، جادو گر ہے۔ ولید

نے یکے بعد دیگرے ان تمام کی تردید کرکے کہا:
’’ اللّٰہ کی قسم! اس کے کلام میں بڑی حلاوَت ہے۔ اس کلام کی اصل مضبوط جڑوالا درخت خرما ہے اور اس کی فرع پھل ہے۔ ان باتوں میں سے جو بات تم کہوگے وہ ضرور پہچان لی جائے گی کہ جھوٹ ہے۔ اس کے بارے میں صحت کے قریب تر قول یہ ہے کہ تم کہو وہ جادو گر ہے اور ایسا کلام لایا ہے جو جادو ہے۔ اس کلام سے وہ باپ بیٹے میں ، بھائی بھائی میں ، میاں بیوی میں ، خویش و اقارب میں جدائی ڈال دیتا ہے۔ ‘‘
اسی طرح ایک روز آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مسجد میں اکیلے بیٹھے ہوئے تھے۔ قریش نے اپنے سردار عُتْبَہ بن رَبیعہ کو آپ کی خدمت میں بھیجااور اس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کئی باتیں پیش کرکے کہا کہ ان میں سے ایک پسند کرلیجئے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس کے جواب میں سورۂ حم السجدہ کی شروع کی آیتیں تلاوت فرمائیں ۔ عتبہ نے قریش سے جاکر کہا:
’’ اللّٰہ کی قسم ! میں نے ایسا کلام سنا کہ اس کی مثل کبھی نہیں سنا اللّٰہ کی قسم ! وہ شعر نہیں نہ جادو ہے نہ کہانت۔ اے گروہ قریش! میرا کہا مانو: اس شخص کو کرنے دوجو کرتا ہے، اور اس سے الگ ہوجاؤ۔ اللّٰہ کی قسم! میں نے جو کلام اس سے سنا ہے اس کی بڑی عظمت و شان ہوگی اگر عرب اس کو مغلوب کرلیں تو تم غیر کے ذریعے سے اس سے بچ گئے۔ اگر وہ عرب پر غالب آگیا تو اس کا ملک تمہارا ملک ہے اور اس کی عزت تمہاری عزت ہے اور تم اس کے سبب سے خوش نصیب ہوجاؤگے۔ ‘‘
قریش یہ سن کر کہنے لگے کہ اس نے تو اپنی زبان سے تجھے بھی جادو کردیا۔ عتبہ بولا کہ ’’ اس کی نسبت میری یہی رائے ہے تم کرو جو چاہو۔ ‘‘
صحیح مسلم میں حدیث اسلام ابو ذَر غفاری میں خود ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ میرے بھائی انیس نے مجھ سے کہا کہ مجھ کو مکہ میں ایک کام ہے تو بکریوں کی حفاظت رکھنا۔ یہ کہہ کر انیس چلاگیا اور مکہ پہنچ گیا دیر کے بعد واپس آیا تو میں نے پوچھا: تو نے کیا کیا؟ وہ بولا: میں مکہ میں ایک شخص سے ملاجو کہتا ہے کہ میں اللّٰہ کا رسول ہوں ۔ میں نے پوچھا کہ لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ اس نے جواب دیا کہ لوگ کہتے ہیں : وہ شاعر ہے، کاہن ہے، جادو گر

ہے۔ پھر انیس ہی جو خود بڑا شاعر تھاکہنے لگا:
’’ اللّٰہکی قسم ! میں نے کاہنوں کا کلام سنا ہوا ہے، اس کا کلام کاہنوں کا کلام نہیں ۔ اللّٰہ کی قسم ! میں نے اس کے کلام کو شعر کی تمام قسموں کے ساتھ مقابلہ کیا ہے، میرے بعد کسی سے یہ نہ بن پڑے گا کہ کہے : وہ کلام شعر ہے۔ اللّٰہ کی قسم! وہ سچے نبی ہیں اور کافر بیشک جھوٹے ہیں ۔ ‘‘ ( 1)
اس حدیث میں اس کے بعد یہ مذکور ہے کہ یہ سن کر ابو ذر غفاری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ مکہ میں حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت بابرکت میں حاضر ہوئے اور اسلام لائے۔ جب اپنے بھائی انیس کے پاس واپس آئے تو ان کے اسلام کی خبر سن کر حضرت انیس اور ان کی والدہ بھی ایمان لے آئے۔ پھر تینوں اپنی قوم غفار میں آئے آدھی قوم ایمان لے آئی۔ جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو باقی بھی ایمان لے آئے۔ اس طرح قبیلہ اسلم بھی مسلمان ہوگیا۔ اس پر حضور اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ’’ غفار غفر اﷲ لھا واسلم سالمھا اﷲ ‘‘ یعنی اللّٰہ تعالٰی قبیلہ غفار کو بخش دے اور قبیلہ اسلم کو سلامت رکھے۔ (2 )
ابن سعد نے طبقات میں بروایت یزید بن رومان اور محمد بن کعب اور شعبی اور زہیری وغیرہ روایت کیا ہے کہ بنی سلیم میں سے ایک شخص جس کا نام قیس بن نسیبہ تھا رسول اللّٰہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور آپ کا کلام سنا اور آپ سے کئی باتیں دریافت کیں آپ نے ان کا جواب دیا اس نے وہ سب کچھ یاد کرلیاپھر آپ نے اسے دعوت اسلام دی وہ ایمان لے آیا اور اپنی قوم میں جاکر کہنے لگا:
’’ بے شک میں نے روم کا ترجمہ، فارس کا زَمزمہ، ( 3) عرب کے اشعار، کاہن کی کہانت اور ملوک حِمیَر کا کلام سنا ہے مگر محمد (صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ) کا کلام ان کے کلام میں سے کسی سے نہیں ملتا اس لئے تم میرا کہا مانواور اس سے بہرہ ور ہوجاؤ۔ ‘‘

اس طرح بنو سلیم فتح مکہ کے سال مقام قدید میں خدمت نبوی میں حاضر ہوئے اور اسلام لائے۔ وہ سات (1 ) سوتھے اور کہا گیا ہے کہ ایک ہزار تھے۔ عباس بن مرد اس اور انس بن عباس بن رعل اور راشد بن عبدربہ انہیں میں تھے۔ (2 )
قرآن مجید کے اسلوب بدیع کی نسبت مولیٰنا شاہ ولی اللّٰہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے یوں فرمایا ہے:
’’ قرآن کو متونِ کتب کی طرح بابوں اور فصلوں میں تقسیم نہیں کیا گیا تاکہ تو ہر مطلب اس میں سے معلوم کر لے یا ایک فصل میں مذکور ہو بلکہ قرآن کو مکتوبات کا مجموعہ فرض کر جس طرح کوئی بادشاہ اپنی رعایا کو بحسب اقتضائے حال ایک فرمان لکھے اور کچھ مدت کے بعد دوسرا فرمان لکھے اور اسی طرح لکھتا جائے یہاں تک کہ بہت سے فرمان جمع ہوجائیں پھر ایک شخص ان فرمانوں کو جمع کرکے ایک مجموعہ تیار کردے۔ اسی طرح اس مَلِک علی الاطلاق نے اپنے بندوں کو ہدایت کے لئے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر مقتضائے حال کے موافق یکے بعد دیگرے سورتیں نازل فرمائیں اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے زمانہ مبارک میں ہر سورت الگ الگ محفوظ تھی مگر سورتوں کو ایک جگہ جمع نہ کیا گیا تھا۔
حضرت ابو بکر و عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کے زمانے میں تمام سورتوں کو ایک جلد میں خاص ترتیب سے جمع کیا گیا اور اس مجموعہ کا نام مصحف رکھا گیا۔ اَصحاب کرام کے درمیان سورتوں کو چار قسموں میں تقسیم کیا گیا۔ ایک سبع طوال دوسری مِئِیْن جن میں سے ہر ایک میں سویا کچھ زیادہ آیتیں ہیں ۔ تیسری مثانی جن میں سے ہر ایک میں سو آیتوں سے کم ہیں ۔ چوتھی مفصل اور مصحف کی ترتیب میں دو تین سورتیں جو مثانی میں سے ہیں مِئِیْن میں داخل کردی گئیں کیونکہ ان کے سیاق کو مِئِیْن کے سیاق سے مناسبت ہے۔ اسی طرح بعض دیگر اقسام میں بھی کچھ تصرف ہوا ہے۔ حضرت عثمان رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس مصحف کی کئی نقلیں کرا کے اطراف میں بھیج دیں تاکہ ان سے لوگ فائدہ اٹھائیں اور کسی دوسری ترتیب کی طرف مائل نہ ہوں ۔ چونکہ سورتوں کا اُسلوب بادشاہوں کے فرمانوں سے پوری پوری مناسبت رکھتا تھا اس لئے ابتداء و

انتہا میں مکتوبات کے طریقہ کی رعایت کی گئی۔ جس طرح بعض مکتوبات کو خدا تعالٰی کی حمد سے شروع کرتے ہیں اور بعض کو اس کے املاء کی غرض سے اور بعض کو مرسل اور مرسل الیہ کے نام سے شروع کرتے ہیں اور بعض رقعے اور خطوط بے عنوان ہوتے ہیں اور بعض مکتوبات طویل اور بعضے مختصر ہوتے ہیں ۔ اسی طرح خدا تعالٰی نے بعض سورتوں کو حمد وتسبیح سے شروع کیا اور بعض کو اس کے املاء کی غرض کے بیان سے شروع کیا۔ چنانچہ فرمایا:
ذٰلِكَ الْكِتٰبُ لَا رَیْبَ ﶈ فِیْهِ ۚۛ-هُدًى لِّلْمُتَّقِیْنَۙ (۲) ( بقرہ، شروع) (1 )
سُوْرَةٌ اَنْزَلْنٰهَا وَ فَرَضْنٰهَا ( نور، شروع) (2 )
اور قسم مشابہ ہے اس کے ھذا ما صالح علیہ فلان وفلان۔ ھذا ما اوصی بہ فلان اور آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے واقعہ حدیبیہ میں یوں تحریر فرمایا تھا: ھذا ما قاضی علیہ محمد اور بعض کو مرسل اور مرسل الیہ کے ذکر سے شروع کیا۔ چنانچہ فرمایا:
تَنْزِیْلُ الْكِتٰبِ مِنَ اللّٰهِ الْعَزِیْزِ الْحَكِیْمِ (۱) (زمر، شروع) ( 3)
كِتٰبٌ اُحْكِمَتْ اٰیٰتُهٗ ثُمَّ فُصِّلَتْ مِنْ لَّدُنْ حَكِیْمٍ خَبِیْرٍۙ (۱) ( ہود، شروع) ( 4)
اور یہ قسم مشابہ ہے اس کے کہ لکھیں ’’ حضرت خلافت کا حکم صادر ہوا۔ ‘‘ یا لکھیں : فلاں شہر کے باشندوں کو حضرت خلافت کی طرف سے یہ آگاہی ہو۔ اور آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے تحریر فرمایا: ’’ من محمد رسول اﷲ الی ہرقل عظیم الروم‘‘۔اور بعض سورتوں کو رقعات و خطوط کے طور پر عنوان کے بغیر شروع کیا۔ چنانچہ فرمایا:
اِذَا جَآءَكَ الْمُنٰفِقُوْنَ ( منافقون، شروع) (5 )

قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُكَ فِیْ زَوْجِهَا (مجادلہ، شروع) ( 1)
یٰۤاَیُّهَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَۚ (تحریم، شروع) ( 2)
چونکہ عرب کی سب سے مشہور فصاحت قصیدے تھے اور قصیدوں کے شروع میں تشبیب میں عجیب مواضع اور ہولناک وقائع کا ذکر کرنا ان کی قدیم رسم تھی اس لئے اس اسلوب کو بعض سورتوں میں اختیار کیا۔ چنانچہ فرمایا:
وَ الصّٰٓفّٰتِ صَفًّاۙ(۱) فَالزّٰجِرٰتِ زَجْرًاۙ(۲) (الصّٰفّٰت، شروع) (3 )
وَ الذّٰرِیٰتِ ذَرْوًاۙ(۱) فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًاۙ(۲) (ذاریات، شروع) ( 4)
اِذَاالشَّمْسُ کُوِّرَتْo وَاِذَا النُّجُوْمُ انْکَدَرَتْo (تکویر، شروع) (5 )
جس طرح مکتوبات کے اَواخر کو جوامع کلم اور نوادِر وصایا اور اَحکام سابقہ کی تاکید اور مخالفین اَحکام کی تہدید پر ختم کرتے تھے۔ اسی طرح سورتوں کے اَواخر کو جوامع کلم اور منابع حکم اور تاکید بلیغ اور تہدید عظیم پر ختم فرمایااور کبھی سورت کے درمیان بڑے بڑے فائدے والے بدیع الاسلوب بلیغ کلام کو ایک طرح کی حمد وتسبیح سے یا نعمتوں اور عطایائے نعمت کے ایک طرح کے بیان سے شروع کیا ہے چنانچہ خالق و مخلوق کے مراتب میں تباین کے بیان کو سورۂ نمل کے اثناء میں آیہ
قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِیْنَ اصْطَفٰىؕ- ﰰللّٰهُ خَیْرٌ اَمَّا یُشْرِكُوْنَؕ(۵۹) (6 )
سے شروع کیا اور اس کے بعد پانچ آیتوں میں اس مدعا کو نہایت ہی بلیغ وجہ اور نہایت ہی بدیع اسلوب سے بیان فرمایا اور بنی اسرائیل کے مخاصمہ کو سورۂ بقرہ کے اثناء میں الفاظ:
یٰبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ اذْكُرُوْا نِعْمَتِیَ الَّتِیْۤ (1 )
سے شروع فرمایا اور ان ہی الفاظ پر ختم کیا۔ پس اس مخاصمہ کا اس کلام سے شروع کرنا اور اسی کلام پر ختم کرنا کمال درجہ کی بلاغت ہے۔ اسی طرح یہود و نصاری کے مخاصمہ کو سورۂ آل عمران میں آیہ
اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰهِ الْاِسْلَامُ۫- (2 )
سے شروع فرمایا تاکہ محل نزاع معین ہوجاوے اور قیل و قال کا توارُد اس مدعا پر واقع ہو۔ ( 3) و اللّٰہ اعلم بحقیقۃ الحال ۔ انتہٰی ۔ (

 

________________________________
1 – لقد سمعت قول الکہنۃ فما ھو بقولھم ولقد وضعت قولہ علی اقراء الشعراء فما یلتئم علی لسان احد بعدی انہ شعر و اللّٰہ انہ لصادق وانھم لکا ذبون۔۱۲منہ
2 – صحیح مسلم،کتاب فضائل الصحابۃ،باب من فضائل ابی ذر،الحدیث:۲۴۷۲،ص۱۳۴۲-۱۳۴۳ ملخصاً۔علمیہ
3 – نغمہ، گیت۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *