قرءۃ خلف الامام

قرءۃ خلف الامام

Advertisement

(۱)’’عَنْ عَطَاء بْنِ یَسَارٍ أَنَّہُ سَأَلَ زَیْدَ بْنَ ثَابِتٍ عَنْ الْقِرَاء ۃِ مَعَ الْإِمَامِ فَقَالَ لَا قِرَاء ۃَ مَعَ الْإِمَامِ فِی شَیْئٍ‘‘ . (1)
حضرت عطاء بن یسار رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ انہوںنے حضرت زید بن ثابت رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے امام کے ساتھ قراء ت کرنے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ امام کے ساتھ کسی بھی نماز میں قراء ت جائز نہیں خواہ سری ہو یا جہری ۔ (مسلم جلد اول ص۲۱۵)
(۲)’’عَنْ أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّیْتُمْ فَأَقِیْمُوْا صُفُوْفَکُمْ ثُمَّ لْیَؤُمَّکُمْ أَحَدُکُمْ فَإِذَا کَبَّرَ فَکَبِّرُوْا وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا‘‘۔ (2)
حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم نے فرمایا کہ جب تم نماز پڑھو تو اپنی صفیں سیدھی کرو پھر تم میں کوئی امامت کرے تو جب وہ تکبیر کہے تم بھی تکبیر کہو اور جب وہ قراء ت کرے تم چپ رہو۔ (مسلم)
(۳) ’’عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ صَلَّی خَلْفَ الإِمَامِ فَإِنَّ قِرَائَ ۃَ الْإِمَامِ لَہُ قِرَاء ۃٌ ‘‘۔ (3)
حضرت جابر بن عبداللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا کہ جو شخص امام کے پیچھے نمازپڑھے تو امام کی تلاوت مقتدی ہی کی تلاوت ہے ۔ (موطا امام محمد، ص ۹۹)
’’ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ مَنِیعٍ وَابْنُ الْھُمامِ ھَذَا الْإِسْنَادُ صَحِیْحٌ عَلَی شَرْطِ الشَّیْخَینِ‘‘
حضرت محمد بن منیع اور امام بن الہمام نے فرمایا کہ یہ اسناد مسلم اور بخاری کی شرط پر صحیح ہے ۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ مَنْ صَلَّی خَلْفَ الإِمَامِ
حضرت ابن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم ا نے فرمایا کہ جو شخص

______________کَفَتْہُ قِرَاء تُہ۔ (1)
امام کے پیچھے نماز پڑھے تو امام کی تلاوت اس کے لیے کافی ہے ۔ (موطاامام محمد، ص۹۷)
(۴)’’عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا جُعِلَ الْإِمَامُ لِیُؤْتَمَّ بِہِ فَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا ‘‘۔ (2)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ رسولِ کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ امام صرف اس لیے مقرر کیا گیا ہے کہ اس کی پیروی کی جائے تو جب وہ تلاوت کرے تو تم خاموش رہو۔ (طحاوی ص ۱۰۶)
مسلم شریف جلد اول ص۱۷۵ میں ہے :
’’فَقَالَ لَہُ أَبُو بَکْرٍ فَحَدِیثُ أَبِی ہُرَیْرَۃَ فَقَالَ ہُوَ صَحِیحٌ یَعْنِی وَإِذَا قَرَأَ فَأَنْصِتُوا‘‘۔ (3)
یعنی ابوبکر نے سلیمان سے پوچھا کہ ابوہریرہ کی حدیث کیسی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ صحیح ہے یعنی یہ حدیث کہ جب امام تلاوت کرے تو تم خاموش رہو۔

اِنتباہ :

صاحبِ ہدایہ نے امام کے پیچھے قرات نہ کرنے پر صحابہ کا اجماع نقل کیا ہے جیسا کہ ہدایہ جلد اول ص۸۲ میں ہے :
’ ’ لَا یَقْرَأُ الْمُؤْتَمُّ خَلْفَ الْإِمَام وَعَلَیْہِ إجْمَاعُ الصَّحَابَۃِ‘‘۔ (4)
یعنی مقتدی امام کے پیچھے قراء ت نہ کرے اور اسی پر صحابہ کا اجماع ہے ۔
اور عنایہ میں اسی کے تحت ہے :
’’اَلْمُرَادَ بِہِ إجْمَاعُ أَکْثَرِ الصَّحَابَۃِ، فَإِنَّہُ رُوِیَ عَنْ ثَمَانِینَ نَفَرًا مِنْ کِبَارِ الصَّحَابَۃِ مَنْعَ الْمُقْتَدِی عَنْ الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الْإِمَامِ. وَقَالَ الشَّعْبِیُّ أَدْرَکْتُ سَبْعِیْنَ بَدْرِیًّا کُلُّہُمْ یَمْنَعُونَ الْمُقْتَدِی عَنْ الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الْإِمَامِ، وَقِیلَ الْمُرَادُ بِہِ إجْمَاعُ مُجْتَہِدِی
یعنی ہدایہ کے قول إِجْمَاعُ الصَّحَابَۃِ کا مطلب یہ ہے کہ اکثر صحابہ کا اجماع ہے اس لیے کہ امام کے پیچھے قراء ت کر نے سے مقتدی کا منع کیا جانا بڑے بڑے اسی صحابہ کرام سے مروی ہے ۔ اور امام شعبی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ میں نے جنگ بدر میں شریک ہونے والے ستر صحابہ کرام سے ملاقات کی

الصَّحَابَۃِ وَکِبَارِہِمْ، وَقَدْ رُوِیَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ کَانَ عَشَرَۃٌمِنْ أَصْحَابِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَوْنَ عَنْ الْقِرَائَ ۃِ خَلْفَ الْإِمَامِ أَشَدَّ النَّہْیِ أَبُو بَکْرٍن الصِّدِّیق وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَعَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَسَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ مَسْعُودٍ وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَعَبْدُ اللَّہُ بْنُ عُمَرَ وَعَبْدُ اللَّہِ بْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللہُ عَنْہُم ‘‘۔ (1)
وہ سب کے سب امام کے پیچھے قراء ت کرنے سے مقتدی کو منع فرماتے تھے اور بعض لوگوں نے کہا کہ اجماع صحابہ کا مطلب مجتہدین صحابہ و کبار صحابہ کا اجماع ہے ۔ اوربے شک حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد حضر ت زید بن اسلم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ نبی کریم عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَ التَّسْلِیْم کے صحابہ کرام میں سے دس حضرات یعنی حضرت ابوبکر صدیق ، حضرت عمر بن خطاب، حضرت عثمان بن عفان، حضرت علی بن ابو طالب ، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت سعد بن وقاص، حضرت عبداللہ بن مسعود، حضرت زید بن ثابت ، حضر ت عبداللہ بن عمر اور حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم اجمعین یہ سب کے سب امام کے پیچھے قراء ت کرنے سے سختی کے ساتھ منع فرماتے تھے ۔ اورکفایہ میں ہے :
’’ مَنع الْمُقْتَدِی عَنِ القرائَ ۃِ مَاثورٌ عَنْ ثَمَانینَ نفراً مِن کِباَر الصَّحَابَۃِ مِنْھُمْ المُرْتَضی وَالْعَبَادِلَۃ رَضِیَ اللہُ عَنْہُم ‘‘۔ (2)
یعنی بڑے بڑے اسی صحابہ کے بارے میں روایت آئی ہے کہ وہ مقتدی کو قر اء ت سے روکتے تھے ۔ ان میں حضرت علی مرتضٰی، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت عبداللہبن عمر اورحضرت عبداللہ بن مسعودبھی ہیں۔
اور درمختارمیں ہے :
’’الْمُؤْتَمُّ لَا یَقْرَأُ مُطْلَقًا فَإِنْ قَرَأَ کُرِہَ تَحْرِیمًا‘‘ ۔ (3)
یعنی مقتدی سورئہ فاتحہ یا کسی دوسری سورت کی قراء ت نہیں کرے گا۔ اگر اس نے قراء ت کی تو مکروہ تحریمی کا مرتکب ہوگا۔
٭…٭…٭…٭

________________________________

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!