مشایخ اشرفیہ کا اعلان

*::: مشایخ اشرفیہ کا اعلان

Advertisement
– ہم حکومت کی شریعت میں مداخلت کی پر زور مذمت کرتے ہیں! :::**مظہر غوث العالم، شیخ الاسلام والمسلمين، رئيس المحققين، اشرف الاشراف، صاحب تفسیر اشرفی، جانشین محدث اعظم ہند حضرت علامہ مولانا سید محمد مدنی اشرفی جیلانی کچهوچهوی مدظله العالی کی موجودگی اور سرپرستی میں 16 اکٹوبر بروز اتوار احمدآباد، گجرات میں “جشن سید” سے لاکهوں سنی مسلمانان ہند سے خطاب کرتے ہوئے سجادہ نشین آستانہ محدث اعظم ہند کچهوچهوی – فاضل بغداد حضرت علامہ مولانا سید حسن عسکری میاں اشرفی جیلانی کچھوچھوی مدظله العالی نے بھارت حکومت کی طلاق ثلاثہ و دیگر قوانین اسلام میں مداخلت کی جم کر مذمت کی۔**خطاب کرتے ہوئے حضرت فاضل بغداد نے کہا:**تجھ سے ڈرتے نہیں اے قوت لشکر والے!*
*ہم غلامان محمد ہیں بہتر والے!**ظلم کر ظلم میرے صبر کی کیا حد ہے نہ پوچھ!*
*شکوہ دریا کا نہیں کرتے سمندر والے!**کیوں تڑپتا ہے ہمیں دیکھ کر دریائے فرات!*
*آب سے پیاس بجھاتے نہیں کوثر والے!**دیکھ نیزہ پر میرے سر کو تجھے یاد رہے!*
*سر کٹاکر بھی نہیں جھکتے پیمبر والے!**اگر بھارت اور ساری دنیا میں امن و شانتی چاہئے، آتنکواد سے چھٹکارا چاہئے، نیاے چاہئے، اپراد مکت دھرتی چاہئے، تو دنیا کی کوئی فوج، کوئی عدالت اتنا کام نہیں کر سکتی جتنا کام مصطفی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شریعت کر سکتی ہے!**جو لوگ کہتے ہیں کہ شریعت کے قانون میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں ہے! مرد و عورت سب کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا ہے، ان کو وہ سانحہ یاد کرنا چاہئے کہ دلی کی سڑکوں پر جو جرم ہوا پورے بھارت کی نگاہیں جھک گئیں!**بھارت سرکار کو اس وقت یاد آیا کہ سخت سے سخت قانون بنانا پڑےگا کہ جو سانحہ دلی کی چلتی ہوی بس میں ایک عورت کے ساتھ ہوا ویسا سانحہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو، مگر دہلی سے لے کر یوپی تک اور گجرات تک اس واقعہ کے بعد ہزاروں واقعات ہوے!!!**مسئلہ کا حل نہیں ہوا، اپراد پر انکش نہیں لگا، جرم ختم نہیں ہوا، جب کہ اس وقت بھارت سرکار نے ریٹائرڈ جج ورما کی ادھیکشا میں ایک سمیتی بنائی تھی کہ وہ سمیتی طے کرے گی کہ ایسے اپراد پر کیا قانون بنایا جائے۔ اسے ہزار مشورے پہونچے، حل نہیں نکل رہا تھا، اسی سمے مسلمانوں نے نہیں کچھ غیر مسلموں نے یہ سجھائو دیا کہ ورما صاحب اگر آپ کو اپراد سے نجات دلانا ہے تو وہی قانون لائیے جو 1400سال پہلے محمد رسول اللہ نے قانون لا یا تھا!**جس نکاح کے طریقے کو رسول نے جائز کہہ دیا، جس طلاق کا طریقہ رسول نے بتادیا ………… ہم مرتے دم تک اس راستے سے ہٹیں گے نہیں!**ہم جانتے ہیں کہ ہمارا سمیدھان عوام کے فائدے کے لیے ہے، مگر دوستو ایک وہ قانون ہے جو اللّہ کے رسول لیکے آئے، کبھی کوئی کمی اس میں ہو ہی نہیں سکتی، ضرورت ہے اس کو سمجھنے کی!!!**آج اگر یہ کہا جائے کہ اسلام میں عورتوں کے حقوق کی بات نہیں ہوتی، عورتوں کے حقوق کو دبایا جاتا ہے، یہ ہماری اپیل ہے کہ ہماری اسلامی خواتین وہ اسلامی حدود کا لحاظ کرتے ہوے اپنی آواز پارلیمینٹ تک پہونچائیں، اور یہ بتادیں کہ ہمارے لیے ہمارے اسلام نے جو قانون دیا ہے ہم اسی کو تسلیم کرینگے!!! یہ مہم پورے بھارت میں چل رہی ہے!!!**یہ اسلام ہی کا قانون ہے کہ جو باپ اپنی بیٹی کو زندہ در گور کردیتا تھا، جس قوم میں ظلم و بربریت کی انتہا نہ تھی، ایسے جرائم پر روک لگانے والا قانون اسلام ہی کا قانون ہے!**جنگ کربلا کا مقصد بھی یہی تھا کہ قانون شریعت کی حفاظت ہو!!!* *ہم سب کو چاہئے کہ ہم قانون شریعت کی حفاظت کریں اور اس پر عمل کریں!**خطاب کے اختتام پر سجادہ نشین آستانہ محدث اعظم ہند نے جلسہ میں موجود تمام مرد وخواتین سے ہاتھ اٹھوا کر یہ پوچھا کہ:**ہمیں بھارت میں شریعت کا تحفظ کرنا چاہیے کہ نہیں؟؟؟ ہمیں اپنے نکاح و طلاق کے مسائل شریعت کی روشنی میں حل کرنا چاہئے کہ نہیں؟؟؟**تو سبھوں نے اپنا ہاتھ اٹھا کر ایک آواز میں جواب دیا کہ ہم اپنے شرعی قانون کو ہی اپنائیں گے۔**فاضل بغداد نے مزید ارشاد فرمایا کہ:**ہر ہندوستانی مسلمانوں کی ایک ہی آواز ہے کہ ہمیں اسلامی قانون پیارا ہے، شریعت میں کسی حکومت کی مداخلت ہمیں منظور نہیں!**بھارت سرکار دوارا دائر کیے گئے طلاق ثلاثہ کے خلاف حلف نامے کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں!!!**اجلاس کی سرپرستی حضور شیخ الاسلام سید محمد مدنی اشرفی جیلانی کچهوچهوی مدظله العالی بنفس نفیس فرما رہے تھے، خطیب اعظم ہند غازی ملت حضرت علامہ مولانا سید ہاشمی میاں اشرفی جیلانی مدظله العالی، غازی دوراں خطیب اہل سنت حضرت علامہ مولانا سید قاسم اشرف اشرفی جیلانی قبلہ، جانشین شیخ الاسلام حضرت علامہ مولانا سید حمزہ اشرف اشرفی جیلانی قبلہ، حضرت علامہ مولانا سید شبلی اشرف اشرفی جیلانی قبلہ، شہزادہ غازی ملت حضرت سید سبحانی اشرف اشرفی جیلانی قبلہ، حضرت علامہ مولانا سید طلحہ اشرف اشرفی جیلانی قبلہ، شہزادہ غازی ملت حضرت سید صمدانی اشرف

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!