حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ

Advertisement

ان کی کنیت کے بارے میں اختلاف ہے بعض کا قول ہے کہ ان کی کنیت ”ابو عبد الرحمن ”ہے اور بعض کے نزدیک ”ابو حماد”اورکچھ لوگوں نے کہا کہ ”ابوعمرو” ہے۔

اسلام لانے کے بعد سب سے پہلا جہاد جس میں انہوں نے شرکت کی وہ جنگ خیبر ہے۔ یہ بہت ہی جاں بازاورمجاہد صحابی تھے ۔ فتح مکہ کے دن قبیلہ اشجع کا جھنڈا انہیں کے ہاتھ میں تھا۔ ملک شام کی سکونت اختیار کرلی تھی اور حدیث میں کچھ صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم اوربہت سے تابعین ان کے شاگر دہیں ۔ شہر دمشق میں ۷۳ھ؁ کے سال میں ان کا وصال شریف ہوا۔ (1) (اسدالغابہ،ج۴،ص۱۵۶)

کرامت
پکار پر مویشی دوڑ پڑے

حضر ت محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو کفار نے گرفتار کر کے انہیں تانتوں سے باندھ رکھا تھا۔ ان کے والد مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضور اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت اقد س میں حاضر ہوئے اورماجرا عرض کیا آپ نے ارشادفرمایا: تم اپنے بیٹے عوف کے پاس کسی قاصد کے ذریعے یہ کہلا دو کہ وہ بکثرت لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّابِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ پڑھتے رہیں۔
چنانچہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ یہ وظیفہ پڑھنے لگے ۔ ایک دن ناگہاں ان کی تمام تانتیں ٹوٹ گئیں اوروہ رہا ہوکرکفار کی قید سے نکل پڑے او رایک اونٹنی پر سوار ہوکر چل پڑے ۔ راستہ میں ایک چراگاہ کے اندر کفار کے سینکڑوں اونٹ چر رہے تھے ۔ آپ نے ان اونٹوں کو پکارا تو وہ سب کے سب دوڑتے بھاگتے ہوئے آپ کی اونٹنی کے پیچھے پیچھے چل پڑے ۔ انہوں نے مکان پر پہنچ کر اپنے والدین کو پکار اتووہ سب ان کی آواز سن کر ماں باپ اورخادم دوڑپڑے اوریہ دیکھ کر حیران رہ

گئے کہ حضرت عوف بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ اونٹوں کے زبردست ریوڑکے ساتھ موجود ہیں سب خوش ہوگئے ۔
ان کے والد حضرت مالک اشجعی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بارگاہ نبوت میں پہنچ کر سارا قصہ سنایا اور اونٹوں کے بارے میں بھی عرض کیا تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان اونٹوں کو تم جو چاہو کرو،تمہارا بیٹا ان اونٹوں کا مالک ہوچکا میں ان اونٹوں میں کوئی مداخلت نہیں کروں گا۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک رزق ہے جو تمہیں عطا کیا گیا۔روایت ہے کہ اسی موقع پر یہ آیت نازل ہوئی :

وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿۲﴾وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ وَ مَنۡ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ فَہُوَ حَسْبُہٗ ؕ

اورجو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرتاہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے مضرتوں سے نجات کی شکل نکال دیتاہے اوراس کو ایسی جگہ سے رزق پہنچاتا ہے جہاں اس کو گمان بھی نہیں ہوتااور جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل کریگا تو اللہ تعالیٰ اسکے لیے کافی ہے ۔ (1)(سورہ طلاق،پ28)
(الترغیب والترہیب ،ج۳،ص۱۰۵ وتفسیر ابن کثیر،ج۴،ص۳۸۰)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!