تین خصلتیں جس میں نہ ہوں وہ ہم سے نہیں

تین خصلتیں جس میں نہ ہوں وہ ہم سے نہیں

سرکارِ ابد قرار، شافعِ روزِ شمارصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: ثَلاَثٌ مَّنْ لَّمْ یَکُنْ فِیْہِ فَلَیْسَ مِنِّیْ وَلَا مِنَ اللّٰہِ قِیْلَ وَمَا ہُنَّ قَالَ حِلْمٌ یُرَدُّ بِہٖ جَہْلُ الْجَاہِلِ أَوْحُسْنُ خُلُقٍ یَعِیْشُ بِہٖ فِی النَّاسِ أَوْوَرَعٌ یَحْجِزُہٗ عَنْ مَعَاصِی اللّٰہِ یعنی جس آدمی میں تین خصلتیں نہ ہوں وہ مجھ سے نہیں اوراللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کاایسے آدمی سے کوئی تعلق نہیں،عرض کی گئی :وہ کیا خصلتیں ہیں؟ارشاد فرمایا:(۱) ایسا حِلْم جس کے ذریعے جاہل کی جہالت کو دور کیاجائے(۲) حسنِ اخلاق جس کے ذریعے لوگوں میں اچھے طریقے سے زندگی بسر کی جائے(۳) ایسا تقویٰ جو آدمی کو گناہوں سے بچائے ۔ (المعجم الأوسط،۳/ ۳۶۲،حدیث:۴۸۴۸)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! معلوم ہوا حِلم (بُردباری)،تقو یٰ اورحسنِ اخلاق اللّٰہ تبارک وتعالیٰ اور اس کے رسول صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی پسندیدہ عادتیں ہیں، ہمیں ان کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے ، ہمارے مَدَنی آقاصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ہمیں اس کی دعا مانگنا بھی سکھائی ہے چنانچہ

دعاسکھائے، دعائے رسول صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم

رسولِ مقبول، بی بی آمنہ کے مہکتے پھول صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بارگاہ الٰہی عَزَّوَجَلَّمیں دعاکرتے ہوئے عرض کی:اَللّٰھُمَّ اَغْنِنِیْ بِالْعِلْمِ وَزَیِّنِّیْ بِالْحِلْمِ وَاَکْرِمْنِیْ بِالتَّقْوٰی وَجَمِّلْنِیْ بِالْعَافِیَۃِ ترجمہ:اے اللّٰہ عَزَّوَجَلّ!مجھے علم کے ساتھ

غنا،بُردبادی کے ساتھ زینت ،تقوی کے ساتھ عزت اور عافیت کے ساتھ زینت عطا فرما۔(کنز العمال،کتاب الاذکار، قسم الاقوال،۱/۸۱،جزء:۲،حدیث:۳۶۶۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

عمامہ باندھو تمہارا حلم بڑھے گا

خاتَمُ الْمُرْسَلین،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلمین صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمان دلنشین ہے: عمامہ باندھو تمہارا حلم بڑھے گا۔
(المستدرک،کتاب اللباس،باب اعتموا تزدادوا حلماً،۵/۲۷۲،حدیث:۷۴۸۸)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

میزان میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں

حضرتِ سیِّدُنا ابودَرْدَاء رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ سیِّدُ المبلغین، رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِیْن صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایاکہ قیامت کے دن مؤمن کے میزان میں حسنِ اخلاق سے زیادہ وزنی کوئی شے نہیں ہوگی۔
(تر مذی، کتاب البروالصلۃ،باب ماجاء فی حسن الخلق،۳ /۴۰۳، حدیث:۲۰۰۹ )
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

اچھے اخلاق گناہ کو پگھلا دیتے ہے

نور کے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَرصلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا :
اچھے اخلاق گناہ کو اس طرح پگھلا دیتے ہے جس طرح پانی برف کو پگھلادیتا ہے اور بُرے اخلاق عمل کو ایسے خراب کرتے ہیں جیسے سرکہ شہد کو خراب کردیتا ہے ۔(المعجم الکبیر،۱۰/۳۱۹،حدیث: ۱۰۷۷۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

تمہارابہترین دین تقویٰ ہے

نبیء کریم،رء ُ وف رحیم صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا فرمانِ عظیم ہے:علم کی فضیلت عبادت کی فضیلت سے بڑھ کر ہے اور تمہارابہترین دین تقویٰ ہے۔(المستدرک،کتاب العلم،باب فضل العلم۔۔۔الخ،۱/۲۸۲،حدیث:۳۲۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

(31) پانی کا اِسراف گناہ ہے

سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم کا ارشاد ہے :مَنْ تَوَضَّأَ بَعْدَ الْغُسْلِ فَلَیْسَ مِنَّا یعنی جو غسل کرنے کے بعد وضو کرے وہ ہم سے نہیں۔ (المعجم الکبیر، ۱۱/۲۱۳،حدیث:۱۱۶۹۱)

غسل کرنے کے بعد وضو کی ضرورت نہیں

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا غسل کرنے کے بعد وضو کی ضرورت نہیں رہتی کیونکہ غسل میں وضو کے اعضاء بھی دُھل جاتے ہیں۔ اُمُّ المُومِنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی اﷲتعالٰی عنہا بیان فرماتی ہیں کہ نبی کریم
صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم غُسل کے بعد وُضو نہیں فرماتے۔(ترمذی،ابواب الطہارۃ،باب ماجاء فی الوضوء بعد الغسل،۱/ ۱۶۱،حدیث: ۱۰۷)
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں :کیونکہ غسل سے پہلے وضو فرمالیتے تھے وہ وضو نماز کے لیے کافی ہوتا تھا‘ بلکہ اگر کوئی شخص بغیر وضو کیے بھی غسل کرے اور پھر نماز پڑھ لے تو جائز ہے کیونکہ طہارتِ کبریٰ ( یعنی غسل)کے ضمن میں طہارتِ صغریٰ ( یعنی وضو)بھی ہوجاتی ہے اور بڑے حدث کے ساتھ چھوٹا حدث بھی جاتا رہتا ہے۔(مراٰۃ المناجیح،۱/۳۰۵)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

وضو میں پانی کا اِسراف مکروہ ہے

اعلیٰ حضرت ،مجدِّدِ دین وملت شاہ امام احمد رضاخان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ شریف میں فرماتے ہیں:وضو میں پانی کا اِسراف مکروہ ہے خواہ نہر کا پانی ہو یا اپنا مملوک پانی ہو، اور جو پانی پاکی حاصل کرنے والوں کیلئے وقف ہوتا ہے، جس میں مَدارِس کا پانی بھی شامل ہے، اس کا اِسراف حرام ہے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ پانی انہی لوگوں کیلئے وقف ہے جو شرعی وضو کرنا چاہتے ہیں، اور دوسروں کیلئے مباح نہیں ہے۔(فتاوی رضویہ،۲ /۴۸۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللّٰہُ تعالٰی علٰی محمَّد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *