اسلام

نماز قضا پڑھناچاہیے یا نہیں اور کس ترکیب سے؟

سوال:(الف )زیدہروقت نماز مغرب کے پچیس منٹ بعد نماز عشاء پڑھتا ہے نمازہوئی یا نہیں؟۔
(ب)ایک آدمی جسے غسل اتارنا(کرنا) آتا نہیں مسجد پاک کر سکتا ہے یا نہیں۔
(ج)نماز قضا پڑھناچاہیے یا نہیں اور کس ترکیب سے؟

(معین الدین شرہٹی قول پیٹ ، ہبلی)

جواب: غروب آفتاب سے مغرب کاوقت کم درجہ ایک گھنٹہ اٹھارہ منٹ رہتا ہے زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ پینتیس منٹ۔ بلکہ علامہ شامی کی تحقیقات کے مطابق ایک ۳۷ منٹ اس کے اندر نماز عشا پڑھنا جائز ہی نہیں کیوں کہ وقت داخل ہوا ہی نہیں۔
(ب)جاہلوں نے یہ جو یاد رکھا ، غسل اتارنا غلط ہے۔ غسل میں صرف اتنا ہے کہ ناک اور منہ میں اچھی طرح پانی ڈالے یعنی منہ میں حلق تک اور ناک کی بانس تک پانی چڑھائے اور پورے بدن پرپانی بہائے کوئی جگہ خالی اور سوکھی نہ رہے اس کا غسل اترکیا۔ البتہ غسل اور وضو کے لیے نیت کرنا سنت ہے اگر نیت نہ کرے پھر بھی غسل اترگیا ۔ غسل کی نیت یہ ہے ۔غسل کرتا ہوں پاک ہونے اور نماز پڑھنے کے لیے، اگرکوئی ناپاک آدمی کوئی ناپاک جگہ پاک کرے تو وہ جگہ پاک ہوجاتی ہے۔ 
اس کے بدن کی ناپاکی اس کے ساتھ ہے ۔
(ج)تمام قضا نمازوں کی قضا پڑھنا فرض ہے،اپنی عمر سے بارہ سال نکال کرباقی تمام عمر کی نمازیں قضاکرے ،ہر سال ۳۶۰ فجر ۳۶۰ ظہر ۳۶۰عصر ۳۶۰ مغرب ۳۶۰ عشا ۳۶۰ وتر ہوتے ہیں۔ اس طریقے سے ادا کریں۔

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!