Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

لباس کے کچھ ضروری و اہم باتیں

لباس کے کچھ ضروری و اہم باتیں

(۱)’’عَنْ سَمُرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَسُوا الثِّیَابَ الْبِیضَ فَإِنَّہَا أَطْہَرُ وَأَطْیَبُ‘‘۔ (1)
حضرت سمرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ سفید کپڑے پہنا کرو اس لیے کہ وہ بہت پاکیزہ اور پسندیدہ ہے ۔ (احمد، مشکوۃ)
(۲)’’ عن عُبَادَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَعَلَیْکُمْ بِالْعَمَائِمِ فَإِنَّھَا سِیْمَائُ الْمَلَائِکَۃِ وَارْخُوْھَا خَلْفَ ظُھُوْرِکُمْ‘‘۔ (2)
حضرت عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ حضور عَلَیْہِ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَام نے فرمایا کہ عمامہ ضرور باندھا کرو کہ یہ فرشتوں کا نشان ہے ۔ اور اس (کے شملہ) کو پیٹھ کے پیچھے لٹکالو۔ (بیہقی، مشکوۃ)
(۳)’’ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَال َکَانَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِذَا لَبِسَ قَمِیصًا بَدَأَ بِمَیَامِنِہ‘‘۔ (3)
حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام جب کرتا پہنتے تو دا ہنی جانب سے شروع فرماتے ۔ (ترمذی)
(۴)’’عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ إِزْرَۃُ الْمُؤْمِنِ إِلَی أَنْصَافِ سَاقَیْہِ لَا جُنَاحَ عَلَیْہِ فِیْمَا بَیْنَہُ وَبَیْنَ الْکَعْبَیْنِ۔ مَا أَسْفَلَ مِنْ
حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے کہا کہ میں نے حضور علیہ الصلوۃو السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ مومن کا تہبند آدھی پنڈلیوں تک ہے اور آدھی پنڈلی اور ٹخنوں کے درمیان ہو جب بھی کوئی حرج نہیں ۔
ذَلِکَ فَفِی النَّارِ قَالَ ذَلِکَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ وَلَا یَنْظُرُ اﷲُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ إِلَی مَنْ جَرَّ إِزَارَہُ بَطَرًا‘‘۔ (1)
جو(کپڑا)ٹخنے سے نیچے ہو وہ آگ میںہے ۔ حضور نے اس جملہ کو تین بار فرمایا اور اللہ تعالی قیامت کے دن اس کی طرف نظر نہیںفرمائے گاجو تہبند (یا پاجامہ) کو تکبر سے گھسیٹتا چلے ۔ (ابوداود)
(۵)’’ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّہَ یُحِبُّ أَنْ یرَی أَثَر نِعْمَتِہِ عَلَی عَبْدِہِ‘‘۔ (2)
حضرت عمرو بن شعیب اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نے کہا کہ حضور علیہ الصلاۃ والسلام نے فرمایا کہ اللہ تعالی کو یہ بات پسند ہے کہ اس کی نعمت کا اثر بندہ ( کے لباس اور وضع سے )ظاہر ہو۔ (ترمذی)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس حدیث کے تحت فرماتے ہیں کہ:
’’ازیں جا معلوم می شود کہ پوشیدن نعمت وکتمانِ آں روا نیست وگویا موجب کفرانِ نعمت ست‘‘۔ (3)
یعنی یہاں سے معلوم ہوا کہ نعمت کو پوشیدہ کرنا اور چھپانا جائز نہیں اور گویا نعمت کی ناشکری کا سبب ہے ۔ (اشعۃ اللمعات، جلد سوم ص ۵۴۸)
(۶)’’عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ أَسْمَاء بِنْتَ أَبِی بَکْرٍ دَخَلَتْ عَلَی رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَعَلَیْہَا ثِیَابٌ رِقَاقٌ فَأَعْرَضَ عَنْہَا وَقَالَ یَا أَسْمَاء إِنَّ الْمَرْأَۃَ إِذَا بَلَغَتْ الْمَحِیضَ لَنْ یَصْلحَ أَنْ یُرَی مِنْہَا إِلَّا ہَذَا وَہَذَا وَأَشَارَ إِلَی وَجْہِہِ وَکَفَّیْہِ‘‘۔ (4)
حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا سے روایت ہے کہ اسماء بنت ابوبکر( رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ما )باریک کپڑے پہن کر حضور کے سامنے آئیں ۔ حضور نے ان کی جانب سے منہ پھیر لیا اور فرمایا اے اسماء! عورت جب بالغ ہوجائے تو اس کے بدن کا کوئی حصہ ہر گز نہ دکھائی دینا چاہیے سوائے اس کے اور اس کے ۔ اور اشارہ

فرمایا اپنے منہ اور ہتھیلیوں کی جانب۔ (ابوداود، مشکوۃ)
(۷)’’ عَنْ عَلْقَمَۃَ بْنِ أَبِی عَلْقَمَۃَ عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ دَخَلَتْ حَفْصَۃُ بِنْت عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَلَی عَائِشَۃَ وَعَلَیْھَا خِمَارٌ رَقِیقٌ فَشَقَّتْہُ عَائِشَۃُ وَکَسَتْہَا خِمَارًا کَثِیفًا‘‘۔ (1)
حضرت علقمہ بن ابوعلقمہ اپنی ماں سے روایت کرتے ہیں کہ حفصہ بنت عبدالرحمن حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ا کے پاس باریک دوپٹہ اوڑھ کر آئیں تو حضرت عائشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہا نے ان کا دوپٹہ پھاڑ دیا اور موٹا دوپٹہ اڑھا دیا۔ (مالک ، مشکوۃ)

انتباہ :

آج کل عورتیں بہت باریک اور چست کپڑا پہننے لگی ہیں جس سے بدن کے اکثر اعضاء ظاہر ہوتے ہیں عورتوں کو ایسا کپڑا پہننا حرام ہے ۔ آج کل مرد بھی اسٹبل وغیرہ کا ہلکا تہبند پہننے لگے ہیں جس سے بدن کی رنگت جھلکتی ہیں اور ستر نہیں ہوتا مردوں کو بھی ایسا تہبند حرام ہے ۔ بعض لوگ اسی کو پہن کر نماز بھی پڑھتے ہیں ان کی نماز نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ ستر عورت نماز میں فرض ہے اور بعض لوگ دھوتی باندھتے ہیں۔ دھوتی باندھنا ہندئووں کا طریقہ ہے اور اس سے ستر بھی نہیں ہوتا کہ چلنے میں ران کا پچھلا حصہ کھل جاتا ہے مسلمانوں کوا س سے بچنا ضروری ہے اور نیکر جانگھیا پہننا کہ جس سے گھٹنا کھلا رہتا ہے حرام ہے ۔
٭…٭…٭…٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!