Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

لکڑیاں سوناکیسے بنیں

حکایت نمبر380: لکڑیاں سوناکیسے بنیں۔۔۔۔۔۔؟

حضرتِ سیِّدُنادَاؤد بن رَشِید علیہ رحمۃ اللہ المجید فرماتے ہیں: ملکِ شام میں دو حسین وجمیل عبادت گزار نوجوان رہتے تھے۔ کثرتِ عبادت اور تقویٰ و پر ہیز گاری کی وجہ سے انہیں”صَبِیْحاورمَلِیْح” کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ انہوں نے اپنا ایک واقعہ کچھ یوں بیان کیا :” ایک مرتبہ ہمیں بھوک نے بہت زیادہ تنگ کیا ۔ میں نے اپنے رفیق سے کہا: ”آؤ! فلاں صحرامیں چل کر کسی شخص کو دینِ متین کے کچھ احکام سکھا کر اپنی آخرت کی بہتری کے لئے کچھ اقدام کریں ۔” چنانچہ، ہم دونوں صحراء کی جانب چل پڑے، وہاں ہمیں ایک سیاہ فام شخص ملا جس کے سر پر لکڑیوں کا گٹھا تھا۔ ہم نے اس سے کہا: ”بتاؤ! تمہارا رَبّ کون ہے ؟” یہ سن کر اس نے لکڑیوں کا گٹھّا زمین پرپھینکا اور اس پر بیٹھ کر کہا:” مجھ سے یہ نہ پوچھو کہ تیرا رب کون ہے ؟ بلکہ یہ پوچھو: ایمان تیرے دل کے کس گوشے میں ہے ؟” اس دیہاتی کا عارفانہ کلام سن کر ہم دونوں حیرت سے ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ وہ پھر مخاطب ہوا: ”تم خاموش کیوں ہوگئے، مجھ سے پوچھو، سوال کرو، بے شک طالب ِ علم سوال کرنے سے باز نہیں رہتا۔” ہم اس کی باتوں کا کچھ جواب نہ دے سکے اور خاموش رہے۔ جب اس نے ہماری خاموشی دیکھی تو بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ میں اس طرح عرض گزار ہوا:

”اے میرے پاک پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! تو خوب جانتا ہے کہ تیرے کچھ ایسے بندے بھی ہیں کہ جب وہ تجھ سے سوال کرتے ہیں تو تو انہیں ضرور عطا فرماتا ہے۔ میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! میری ان لکڑیوں کوسونا بنادے۔” ابھی اس نے یہ الفاظ ادا ہی کئے تھے کہ لکڑیاں چمک دار سونا بن گئیں۔ اس نے پھر دعا کی: ”اے میرے پروردگار عَزَّوَجَلَّ! بے شک تو اپنے اُن بندو ں کوزیادہ پسند فرماتا ہے جو شہرت کے طالب نہیں ہوتے۔ میرے مولیٰ عَزَّوَجَلَّ ! اس سونے کو دوبارہ لکڑیاں بنا دے۔”اس کا کلام ختم ہوتے ہی وہ سارا سونا دوبارہ لکڑیوں میں تبدیل ہوگیا ۔ اس نے لکڑیوں کا گٹھا اپنے سر پر رکھا اور ایک جانب روانہ ہوگیا۔
؎ بِکھرے بال آزردہ صورت، ہوتے ہیں کچھ اہلِ محبت
بدرؔ مگر یہ شان ہے اُن کی، بات نہ ٹالے ربُّ العزَّت
ہم اپنی جگہ ساکت کھڑے رہے اور کسی کو اس کے پیچھے جانے کی جرأت نہ ہوئی ۔اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس نیک بندے کا ظاہری رنگ اگرچہ سیاہ تھا لیکن اس کا باطن نورِ معرفت وایمان سے منور وروشن تھا ۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!