Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

جرأ ت منداِمام

حکایت نمبر381: جرأ ت منداِمام

حضرتِ سیِّدُنا محمد بن عبداللہ سَائِح رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:میں نے حضرتِ سیِّدُنا طلحہ بصری علیہ رحمۃ اللہ القوی کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مُفْلِح اَسْوَدکا بیان ہے کہ ایک مرتبہ خلیفۂ مامون نے قاضی یحیی بن اَکْثَم سے کہا:” میری خواہش ہے کہ میں حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حَارِث علیہ رحمۃ اللہ الوارث سے ملاقات کروں ۔” قاضی نے کہا:” حضور!جیسا آپ چاہیں ۔ ”کہا:” آج رات ہی ملاقات کا متمنِّی ہوں اور چاہتا ہوں کہ ہماری ملاقات کے دوران ان کے پاس ہمارے علاوہ کوئی نہ ہو ۔” قاضی نے کہا: ”ٹھیک ہے ،ہم آج رات ان کے پاس چلیں گے۔ ”جب رات ہوئی تو دونوں اپنے اپنے گھوڑوں پر سوار ہو کر حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حَارِث علیہ رحمۃ اللہ الوارث کے آستانۂ عالیہ کی جانب روانہ ہوگئے۔ وہاں پہنچ کر قاضی یحیی بن اَکْثَم نے دروازے پر دستک دی ۔ اندر سے حضرتِ سیِّدُنا بِشْر بن حَارِث علیہ رحمۃ اللہ الوارث نے پوچھا : کون ہے ؟قاضی نے کہا:” آپ کے دروازے پر وہ آیا ہے جس کی اطا عت آپ پر واجب ہے ۔” فرمایا: ”وہ کیا چاہتا ہے؟” کہا:” آپ سے ملاقات کا خواہش مند ہے ۔” فرمایا :” اس معاملے میں میری خوشی کا لحاظ رکھا جائے گا یا مجھے مجبور کیا جائے گا؟” خلیفہ نے جب یہ سنا تو سمجھ گیا کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ملاقات نہیں کرنا چاہتے۔ لہٰذا اس نے یحیی کو واپس چلنے کا حکم دیا۔

چنانچہ، دونوں واپس چل دیئے۔ راستے میں ان کا گزر ایک مسجد کے قریب سے ہواتو وہاں ایک شخص عشاء کی نماز پڑھا رہا تھا یہ دونوں بھی نماز پڑھنے مسجد میں داخل ہوئے اور باجماعت نماز ادا کی امام صاحب کی قراءَ ت بہت اچھی تھی ۔ اس نے بڑے احْسَن انداز میں قرآنِ پاک پڑھا۔ نماز پڑھ کر خلیفہ اور قاضی اپنے محل میں آگئے۔ صبح ہوتے ہی خلیفۂ مامون نے اس امام کو اپنے دربار میں بلا کر مسائلِ فقہ میں اس سے مناظرہ شرو ع کردیا ۔ اس باہمت امام نے جہاں محسوس کیا کہ خلیفہ غلطی کر رہاہے فوراً ٹوک دیا اور اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہا :”اصل مسئلہ اس طر ح ہے، آپ نے غلط بیان کیا۔”خلیفہ مسائل بیان کرتا رہا، امام اس کی غلطیاں بتا تا رہا۔ جب معاملہ طول پکڑ گیا تو خلیفہ غضب ناک ہوکر کھڑا ہو گیا اور کہا:
” آج تم نے میری بہت مخالفت کی ہے، اب تم اپنے دوستوں کے پاس جاکر کہوگے کہ میں نے امیر المؤمنین کو لاجواب کردیا اور مسائل میں اس کی بہت ساری غلطیاں نکالی ہیں۔ کیا خیال ہے تم ایسا ہی کرو گے نا؟” اس امام نے کہا : ”اے خلیفہ ! اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !میں اس بات سے حیاکرتا ہو ں کہ میرے دوست یہ بات جانیں کہ میں نے تم سے ملاقات کی ہے۔” یہ سن کر خلیفۂ مامون الرشید نے کہا:” اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ہے جس نے میر ی رعایا میں ایسے لوگ پیدا فرمائے جو میرے پاس آنے سے حیا کرتے ہیں۔” یہ کہہ خلیفہ سجدہ میں گر گیا ۔ امام صاحب دربار سے واپس آگئے۔ وہ امام کوئی عام شخص نہیں بلکہ مشہور ومعروف ولی حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم بن اِسحاق حَرْبِی علیہ رحمۃ اللہ القوی تھے۔
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلي اللہ عليہ وسلم)

error: Content is protected !!