جنت کے سبز حُلّے

جنت کے سبز حُلّے

Advertisement

حضرت سیدنا ابراہیم بن عبداللہ بن علاء رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، میں نے ابو عامر واعظ علیہ رحمۃ اللہ الواحد کو یہ فرماتے ہوئے سنا :” ایک مرتبہ میں مسجد نبوی شریف کی نور بار فضاؤں میں بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک ایک کالا غلام آیا جس کے پاس ایک خط تھا، اس نے وہ خط مجھے دیا اور پڑھنے کو کہا۔ میں نے خط کھولا تو اس میں یہ مضمون لکھا تھا۔

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ؕ

( اے ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ!)اللہ عزوجل نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکو اُمور ِآخرت میں غور وخوض کرنے کی سعادت عطا فرمائی۔آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکو(لوگوں سے )عبرت حاصل کرنے کی توفیق بخشی ،اور خلوت نشینی کی عظیم دولت سے سرفراز فرمایا، اے

ابو عامر!بے شک میں بھی آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے ا ن بھائیوں میں سے ہوں جو سفر آخرت کے مسافر ہیں۔ مجھے خبر ملی ہے کہ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مدینہ منورہ میں آئے ہوئے ہیں ،مجھے اس بات سے بہت خوشی ہوئی اورمیں اپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی زیارت کا متمنی ہوں اور مجھے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی صحبت اختیار کرنے اور آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہکی گفتگو سننے کا اتنا شوق ہے کہ میرا رواں رواں آپ کے دیدار کی طلب میں تڑپ رہا ہے۔ آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو اس کریم ذات کا واسطہ جس نے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو محبت کے جام پلائے مجھے اپنی قدم بوسی اور زیارت سے محروم نہ کیجئے گا (برائے کرم میرے غریب خانہ پر تشریف لائیے اور مردہ دلوں کو جلابخشئے) ۔
والسّلام
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :” میں اسی وقت اس خط لانے والے غلام کے ساتھ اس کے آقا کے گھر کی طر ف چل دیا ، ہم چلتے ہوئے ایک ویران جگہ پرپہنچے ،وہاں ایک خستہ حال ٹو ٹا پھوٹا گھرتھا ۔غلام نے مجھے دروازے کے پاس کھڑا کیا اور کہا:”آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)تھوڑی دیر یہاں انتظارفرمائیں،میں اپ کے لئے اجازت طلب کرتا ہو ں۔چنانچہ میں وہاں انتظار کرنے لگا ۔ کچھ دیر کے بعد غلام نے آ کر کہا:”حضور! اند ر تشریف لے آئے ۔”جب میں کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ کمرہ نہایت بو سیدہ اور خالی ہے ، اس کا دروازہ کھجور کے تنے سے بنا ہوا ہے اور ایک نہایت کمزور ونحیف شخص قبلہ رو بیٹھا ہوا ہے، چہرے پر خوف وکرب کے آثار نمایاں ہیں اور اسے دیکھ کر مجھے احساس ہوا کہ یہ شدید غم وپریشانی میں ہے ۔ کثرت بکاء (یعنی بہت زیادہ رونے) کی وجہ سے اس کی آنکھیں بھی ضائع ہوچکی تھیں۔ میں نے اسے سلام کیا ، اس نے سلام کا جواب دیا۔ جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ اندھا اوراپاہج بھی ہے اور نہایت غم و الم میں مبتلا ہے اور اسے جذام کی بیماری بھی لاحق ہے۔ پھر اس نے مجھ سے کہا:”اے ابو عامر(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)!اللہ عزوجل آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے دل کو گناہوں کی بیماری سے حفاظت میں رکھے،میں ہمیشہ اس بات کا خواہش مند رہا ہوں کہ آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کی صحبت اختیار کرو ں اور آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)سے نصیحت آموز گفتگو سنوں،اے ابو عامر(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! مجھے ایک ایسا زخمِ دل لاحق ہے کہ تمام واعظین وناصحین بھی اس کا علاج نہ کرسکے اور اطباء اس کے علاج سے عاجز آچکے ہیں ۔ مجھے یہ خبر ملی ہے کہ آپ (رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ) کی تجویزکردہ دوا اور مرہم زخموں کے لئے بے حد سود مند ہے، برائے کرم! میرے زخمی دل کا علاج فرمائیں اگرچہ دوا کتنی ہی تلخ وناگوار کیوں نہ ہو، میں شفاء کی امید لگائے دوا کی تلخی و ناگواری برداشت کرلوں گا۔”
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :اس بزرگ کی یہ بات سن کر مجھ پر رُعب ودبدبہ طاری ہوگیا ، اس کی باتوں میں مجھے بڑی حقیقت نظر آئی ۔ میں کافی دیر خاموش رہا اور غور وفکر کرتارہا پھر میں نے اس بزرگ سے کہا :”اگر تم اپنی بیماری

کا علاج چاہتے ہو تو اپنی نظر کو عالم ملکوت کی طرف پھیر و ،اپنے کانوں کو اسی عالم کی طر ف مشغول کر لو اور اپنے ایمان کی حقیقت کو جنت ما وٰی کی طرف منتقل کرلو۔ اگر ایسا کرو گے تو ربِّ کائنات عزوجل نے اپنے مقرب بندوں کے لئے جو نعمتیں اور آسائشیں اس میں رکھی ہیں وہ تم پر منکشف ہوجائیں گی۔اسی طر ح پھر اپنی تمام تو جہ جہنم کی طر ف کرو اور اس میں غور وفکر کرو اور حقیقی نظر سے اس کو دیکھو تو تمہیں وہ تمام عذاب ومصائب نظر آجائیں گے جو اللہ جلّ جلالہ کے دشمنوں اور نافرمانوں کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔ اگر اس طرح کر و گے تو تمہیں دونوں چیزوں میں فرق معلوم ہوجائے گا اور یہ بات بالکل واضح ہوجائے گی کہ نیکوں او ر بدوں کی موت برابر نہیں ۔”
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ،میری یہ بات سن کر وہ بزرگ رونے لگے اور سرد آہیں بھرنے لگے اور ایک چیخ مار کرکہنے لگے:” اے ابو عامر(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! اللہ عز وجل کی قسم! تمہاری دوا نے فوراََ میرے زخمی دل پر اثر کیا ہے ،میں اُمید رکھتاہوں کہ تمہارے پاس مجھے ضرور شفا ء نصیب ہوجائے گی، رحیم وکریم پروردگارعزوجل آپ پر رحم فرمائے۔ مجھے مزید نصیحت فرمائیے۔”
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ،پھر میں نے اس بزرگ سے کہا:”اے مرد صالح !اللہ عزوجل تجھے اس وقت بھی دیکھتا ہے جب تو تنہائی میں ہوتا ہے اور جب تو جلوت میں ہوتا ہے توبھی وہ تجھے دیکھتا ہے۔” تواس بزرگ نے پہلے کی طر ح پھر چیخ ماری پھر فرمایا:”وہ کون سی ہستی ہے جو میرے گناہوں کو معاف کرے،جو میرے غم و حزن کو دورکرے اورمیری خطاؤں کومعاف کرے؟اے میرے رحیم وکریم پروردگار عزو جل !تیری ہی ذات ایسی ہے جو میری مدد گار ہے ، اور میں تجھی پر بھروسہ کرتا ہوں اورتیری ہی طر ف رجوع کرتا ہوں۔” اتناکہنے کے بعد وہ بزرگ زمین پر گرے اور ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں:”کچھ دیر بعد ایک لڑکی وہاں آئی جس نے اُون کا کرتہ پہنا ہوا تھا اور اُون ہی کی چادر اوڑھی ہوئی تھی اور اس کے ماتھے پر سجدوں کی کثرت کی وجہ سے نورانی نشانات بن چکے تھے ،روزوں کی کثرت کی وجہ سے اس کارنگ زرد ہوگیا تھااور طویل قیام کی وجہ سے پاؤں سوجھے ہوئے تھے۔ اس نے مجھ سے کہا :”اے عارفین کے دلوں کو تقویت دینے والے اور اے غم زدوں کی مصیبتو ں کو حل کرنے والے! تو نے بہت اچھا کیا، ان شا ء اللہ عزوجلتمہارا یہ عمل رائیگاں نہیں جائے گا ، اے ابو عامر! یہ بزرگ میرے والد تھے او رتقریباً بیس سال سے کوڑھ کی بیماری انہیں لاحق تھی، یہ ہر وقت نماز ہی میں مشغول رہتے یہاں تک کہ یہ اپاہج ہوگئے،رونے کی کثرت کی وجہ سے ان کی آنکھیں ضائع ہو گئیں اور یہ اللہ رب

العزت سے امید رکھتے تھے کہ آپ سے ملاقات ضرور ہوگی ۔”اور یہ فرمایا کرتے تھے:” میں ایک مرتبہ حضرت سیدنا ابو عامر واعظ علیہ رحمۃ اللہ الواحدکی محفل میں حاضر ہوا تھا۔ ان کی پُراثر باتوں نے میرے مردہ دل کو زندہ کردیا ، اور مجھے خوابِ غفلت سے بیدار کر دیا، اگر دو بارہ کبھی میں ان کی محفل میں چلا گیا یا ان کی باتیں سن لیں تو میں ان کی باتیں سن کر ہلاک ہوجاؤں گا ،پھر وہ لڑکی کہنے لگی: ” اے ابو عامر(رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ)! اللہ عزوجل تمہیں جزائے خیر عطا فرمائے کہ تم نے میرے والد کو وعظ ونصیحت کی اور ان کو سکون وآرام مہیا کیا، اللہ عزوجل تمہیں اس کا اچھا صلہ عطا فرمائے ۔”
پھر وہ لڑکی اپنے باپ کے پاس آئی اور اس کی آنکھوں کو بوسہ دینے لگی او ر روتے ہوئے کہنے لگی :”اے وہ عظیم شخص جس نے اللہ عز وجل کے خوف سے رورو کر اپنی آنکھیں گنوا دیں ! اے میرے کریم باپ !تجھے تیرے رب عز وجل کے عذاب کی وعیدوں نے ہلاک کردیا ، تم ہمیشہ اپنے رب عزوجل کے خوف سے گریہ وزاری کرتے رہے اور دعا ء و استغفار میں مشغول رہے۔”
میں نے اس سے پوچھا:”اے نیک بندی !تو اتنا کیوں رو رہی ہے ؟ ”اور اتنی غمزدہ کیوں ہو رہی ہے، تمہارے والدِگرامی تو اب دارالجزاء میں جاچکے ہيں اور وہ اپنے ہر عمل کا بدلہ دیکھ چکے ہوں گے اوران کے اعمال ان کے سامنے پیش کردیئے جائیں گے اگر ان کے اعمال اچھے تھے تو ان کے لئے خوشخبری ہے اور اگر اعمال نامقبول تھے تو یہ افسوسناک بات ہے۔”
یہ سن کر اس لڑکی نے بھی اپنے باپ کی طر ح چیخ ماری اور تڑپنے لگی اوراسی حالت میں ان کی روح بھی عالم بالا کی طرف پر واز کر گئی۔ پھر میں عصر کی نماز کے لئے مسجد نبوی شریف علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں حاضر ہوا اور میں نے نماز کے بعد ان دونوں باپ بیٹی کے لئے خوب رو رو کردعا کی ، پھر وہ غلام آیا اور اس نے اطلاع دی کہ ان دونوں کی تکفین ہوچکی ہے ،آپ نماز جنازہ کے لئے تشریف لے چلیں ۔ پھرہم نے ان کی نماز جنازہ پڑھی اور انہیں دفنا دیا گیا ۔ پھر میں نے لوگوں سے دریافت کیا:” یہ باپ بیٹی کون تھے؟ ”تو مجھے بتایاگیا:”یہ حضرت سیدنا حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ تعالیٰ عنہما کی اولاد سے ہیں ۔
حضرت سیدنا ابو عامر رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں :” مجھے کافی دنوں تک ان کی موت کا افسوس رہا پھر ایک رات میں نے ان دونوں باپ بیٹی کو خواب میں دیکھا، انہوں نے سبز جنّتی حُلّے زیب تن کئے ہوئے تھے۔میں نے ان کو دیکھ کر کہا :” مرحبا! تمہیں مبارک ہو،میں تو تمہاری وجہ سے بہت غمگین تھا، تمہارے ساتھ اللہ عزوجل نے کیا معاملہ فرمایا؟ ”اس بزرگ نے فرمایا: ”ہمیں بخش دیا گیا اور ہمیں نعمتیں ملیں، ان میں تم بھی ہمارے ساتھ شریک ہو۔”
(اللہ عزوجل کی اُن پر رحمت ہو..اور.. اُن کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی صلی اللہ تعالی عليہ وسلم)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!