اسلام

وضو توڑنے والی چیزیں

(۱)پیشاب یا پاخانہ کرنا(۲)پیشاب یا پاخانہ کے راستوں سے کسی بھی چیز یا پاخانہ کے راستہ سے ہوا کا نکلنا (۳)بدن کے کسی
حصہ یا کسی مقام سے خون یا پیپ نکل کر ایسی جگہ بہنا کہ جس کا وضو یا غسل میں دھونا فرض ہے(۴)کھانا پانی یا خون یا پت کی منہ بھر کر قے ہو جانا(۵)اسطرح سو جانا کہ بدن کے جوڑ ڈھیلے پڑ جائیں (۶)بے ہوش ہوجانا(۷)غشی طاری ہو جانا (۸)کسی چیز کا اس حد تک نشہ چڑھ جانا کہ چلنے میں قدم لڑ کھڑائیں (۹)دکھتی ہوئی آنکھ سے پانی کا کیچڑ نکلنا (۱۰)رکوع وسجدہ والی نمار میں قہقہہ لگا کر ہنسنا۔
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطہارۃ،الفصل الخامس فی نواقض الوضوء، ج۱، ص۹۔۱۳/ بہارشریعت،ج۱،ح ۲،ص۲۴)
مسئلہ:۔وضو کے بعد کسی کا ستر دیکھ لیا یا اپنا ستر کھل گیا یا خود بالکل ننگے ہو کر وضو کیا یا نہانے کے وقت ننگے ہی ننگے وضو کیا تو وضو نہیں ٹوٹا۔ یہ جو جاہلوں میں مشہور ہے کہ اپنا ستر کھل جانے یا دوسرے کا ستر دیکھ لینے سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ بالکل غلط ہے ہاں البتہ یہ وضو کے آداب میں سے ہے کہ ناف سے زانو کے نیچے تک سب ستر چھپا ہوا ہو بلکہ استنجا کے بعد فوراً  ہی چھپا لینا چاہے کیونکہ بغیر ضرورت ستر کھلا رہنا منع ہے اور دوسرے کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے۔
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطہارۃ،الباب الاول،الفصل الخامس فی نواقض الوضوء، ج۱، ص۱۳)
مسئلہ:۔اگر ناک صاف کی اس میں سے جما ہوا خون نکلا تو وضو نہیں ٹوٹا اور اگر بہتا ہوا خون نکلا تو وضو ٹوٹ گیا۔
     (ردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب نواقض الوضوء،ج۱،ص۲۹۲)
مسئلہ:۔چھالا نوچ ڈالا اگر اس میں کا پانی بہہ گیا تو وضو ٹوٹ گیا اور اگر پانی نہیں بہا تو وضو نہیں ٹوٹتا۔
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطہارۃ،الفصل الخامس فی نواقض الوضوء، ج۱، ص۱۱)
مسئلہ:۔کان میں تیل ڈالا تھااور ایک دن بعد وہ تیل کان یا ناک سے نکلا تو وضو نہیں ٹوٹا۔
مسئلہ:۔زخم پر گڑھا پڑ گیا اور اس میں سے کچھ تری چمکی مگر بہی نہیں تو وضو نہیں ٹوٹا۔
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطہارۃ،الفصل الخامس فی نواقض الوضوء، ج۱، ص۱۰)
مسئلہ:۔کھٹمل’ مچھر’ مکھی’ پسو نے خون چو ساتو وضو نہیں ٹوٹا۔
(الفتاوی الھندیۃ ، کتاب الطہارۃ،الفصل الخامس فی نواقض الوضوء، ج۱، ص۱۱)
مسئلہ:۔قے میں صرف کیچوا گرا تو وضو نہیں ٹوٹا۔
    (درمختار،کتاب الطہارۃ،باب ارکان الوضواربعۃ،ج۱،ص۲۸۸)
اور اگر اس کے ساتھ کچھ پانی وغیرہ بھی نکلا تو دیکھیں گے منہ بھر ہے یا نہیں اگر منہ بھر ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا اور اگر بھر منہ سے کم ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا۔
    (الفتاوی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الاول،الفصل الثانی،ج۱،ص۱۱)
مسئلہ:۔وضو کرنے کے درمیان اگر وضو ٹوٹ گیا تو پھر شروع سے وضو کرے یہاں تک کہ اگر چلو میں پانی لیا اور ہوا خارج ہو گئی تو یہ چلو کا پانی بیکار ہوگیا۔ اس پانی سے کوئی عضو نہ دھوئے۔ بلکہ دوسرے پانی سے پھر سے وضو کرے۔
                (فتاوی رضویہ،ج۱،ص۲۵۵۔۲۵۶)
مسئلہ:۔دکھتی ہوئی آنکھ’ دکھتی ہوئی چھاتی’ دکھتے ہوئے کان سے جو پانی نکلے وہ نجس ہے اوراس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے۔
(درمختار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف اذا لم یرتکب مکروہ مذھبہ،،ج۱،ص۳۰۵)
مسئلہ:۔ کسی کے تھوک میں خون نظر آیا تو اگر تھوک کا رنگ زردی مائل ہے تو وضو نہیں ٹوٹا۔ اگر تھوک سرخی مائل ہوگیا تو وضو ٹوٹ گیا۔
(درمختار،کتاب الطہارۃ،مطلب نواقض الوضوء،ج۱،ص۲۹۱۔۲۹۲)
مسئلہ:۔وضو کے بعد ناخن یا بال کٹایا تو وضو نہیں ٹوٹا نہ وضو کو دُہرانے کی ضرورت ہے۔ نہ ناخن کو دھونے اور نہ سر کو مسح کرنے کی ضرورت ہے۔
    (الفتاوٰی الھندیۃ،کتاب الطہارۃ،الباب الاول،الفصل الاول،ج۱،ص۴)
مسئلہ:۔اگر وضو کرنے کی حالت میں کسی عضو کے دھونے میں شک ہوا اور یہ زندگی کا پہلا واقعہ ہے تو اس عضو کو دھو لے اور اگر اس قسم کا شک پڑا کرتا ہے تو اس کی طرف کوئی توجہ نہ کرے۔ یوں ہی اگر وضو پورا ہو جانے کے بعد شک پڑ جائے تو اس کا کچھ خیال نہ کرے۔
(الدرالمختار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف…الخ،ج۱،ص۳۰۹۔۳۱۰)
مسئلہ:۔جو باوضو تھا اب اسے شک ہے کہ وضو ہے یا ٹوٹ گیا تو اس کو وضو کرنے کی ضرورت نہیں۔ ہاں وضو کرلینا بہتر ہے جبکہ یہ شبہ بطور وسوسہ نہ ہوا کرتا ہو اور اگر وسوسہ سے ایسا شبہ ہو جایا کرتا ہو تو اس شبہ کو ہر گز نہ مانے۔ اس صورت میں احتیاط سمجھ کر وضو کرنا احتیاط نہیں بلکہ وسوسہ کی اطاعت ہے۔
(الدرالمختار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف…الخ، ج۱، ص۳۰۹۔۳۱۰)
مسئلہ:۔اگر بے وضو تھا۔ اب اسے شک ہے کہ میں نے وضو کیا یا نہیں تو وہ یقیناً بلا وضو ہے۔اس کو وضو کرنا ضروری ہے۔
     ( الدرالمختار،کتاب الطہارۃ،مطلب فی ندب مراعاۃ الخلاف…الخ،،ج۱،ص۳۱۰)
مسئلہ:۔یہ یاد ہے کہ وضو میں کوئی عضو دھونے سے رہ گیا مگر معلوم نہیں کہ وہ کونسا عضو تھا تو بایاں پاؤں دھولے۔
    (ردالمحتار،کتاب الطہارۃ،باب ارکان الوضوء اربعۃ،ج۱،ص۳۱۰)
مسئلہ:۔شیر خوار بچے نے قے کی اور دودھ ڈال دیا اگر وہ منہ بھر قے ہے نجس ہے درہم سے زیادہ جگہ میں جس چیز کو لگ جائے ناپاک کردے گا لیکن اگر یہ دودھ معدہ سے نہیں آیا بلکہ سینہ تک پہنچ کر پلٹ آیا ہے تو پاک ہے۔
(ردالمحتار مع درمختار،کتاب الطہارۃ،مطلب نواقض الوضوء،ج۱،ص۲۹۰)
مسئلہ:۔سوتے میں جو رال منہ سے گرے اگر چہ پیٹ سے آئے’ اگر چہ وہ بدبودار ہو پاک ہے۔
(درمختار،کتاب الطہارۃ،مطلب نواقض الوضوء،ج۱،ص۲۹۰)
مسئلہ:۔مُردے کے منہ سے جو پانی بہے ناپاک ہے۔
     (درمختار،کتاب الطہارۃ،مطلب نواقض الوضوء،ج۱،ص۲۹۰))
مسئلہ:۔منہ سے اتنا خون نکلا کہ تھوک سرخ ہوگیا۔ اگر لوٹے یا کٹورے کو منہ لگا کر کلی کو پانی لیا۔ تو لوٹا’ کٹورا اور کل پانی نجس ہو جائے گا چلو سے پانی لے کر کلی کرے اور پھر ہاتھ دھو کر کلی کے لئے پانی لے۔
(درمختاروردالمحتار،کتاب الطہارۃ،مطلب نواقض الوضوء،ج۱،ص۲۹۱)

Related Articles

Back to top button
error: Content is protected !!