نیکوں کے واقعات

نیکوں کے واقعات

حمد ِباری تعالیٰ:

تمام تعریفیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے لئے ہیں جس نے اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کو اپنی با دشاہی میں اعلیٰ بصیرت سے نوازا اور انہیں اپنی انوکھی نشانیاں دکھائیں اور ان کی ارواح کو اپنے محلِ قرب کی سیرکرائی اور ان کو متقی اور پارسا لوگوں میں کیا اور اپنا مخلص بندہ بنا کر بزرگی اور اعلیٰ نسب سے مشرَّف فرمایا اورسخت تاریکی میں انہیں ثابت قدمی عطا فرمائی، اور ان پر تاریکی طویل کر دی گئی، اور قلموں کے لکھے ہوئے پر انہیں مطلع فرمایاجبکہ قلموں نے کوئی بات نہ چھوڑی ،اوران کے دلوں میں انوار داخل فرمائے جن کے ذریعے وہ عالمِ غیب کا مشاہدہ کرتے اور دور ونزدیک کی ہر چیز دیکھ لیتے ہیں،اور ان پر کشف واطلاع کا بھی احسان فرمایاجس کے ذریعے وہ ہر چُھپی چیز کودیکھ لیتے ہیں، اور انہیں حُسن وجمال ، رعب و دبدبہ،قرابت اورتہذیب وشائستگی کا لباس پہنایا، اور ان کے دل اپنی طرف متو جہ کرلیے ۔ اور خوش بخت وسعید ہے وہ شخص جس کا دل اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنی طرف مائل کرلے ۔ اور انہیں اپنے پاکیزہ خطاب سے نوازا جس نے ان کے رنج و غم دور کردیئے، بے چینیوں اور پریشانیوں کو ختم کر دیا،اور جب یہ اس کی عبادت میں تھک گئے توان کو ایسی راحت پہنچائی کہ تھکن کا کوئی احساس ہی نہ رہا، اوراللہ عَزَّوَجَلَّ نے سحر کی خلوتوں میں انہیں اپنا ہم نشین بنایا توانہوں نے اپنا پاکیزہ وقت شب بیداری میں بسر کیا، اور انہیں ”اَھْلًا وَّسَھْلًا مَرْحَباً”کی بشارتوں کے ساتھ اپنی بارگاہ میں بلایا،اور سب سے لذیذ مشروب پلایا، ان پرمحبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ نے تجلِّی فرمائی، اوراپنی محبت میں قید دلوں کواپنا جمال دکھا یا۔
وہ اولیاء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ کا محبوب، ان کا ہم نشین، ان کا ہم نوا اور ان کادوست ہے۔ بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی بارگاہ میں ان کے مرتبوں کوبلند فرمایا،جب وہ لوگوں سے چھپ جاتے ہیں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہِ اقدس میں قرب کی لذتیں پاتے ہیں،اور جب لوگوں کے پاس تشریف فرما ہوتے ہیں توان سے عجیب و غریب باتیں کرتے ہیں، اللہ عَزَّوَجَلَّ ان کے طفیل اہلِ زمین پر بارش برساتا ہے اورایسی زمین سے گھاس اُگاتا ہے جو گھاس اُگانے کے قابل نہیں ہوتی، خشک اور قحط زدہ زمین سے سبزہ اُگاتا ہے،ان کے صدقے دعائیں قبول ہوتی اور بلائیں دور ہوتی ہیں،یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے برگزیدہ بندے ہیں ، انہوں نے اپنے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کی خاطر دنیا کو ترک کیایہاں تک کہ ان کی نظر میں سونااور پتھر یکساں ہو گئے اور انہوں نے ہر چیز کے بدلے رضائے الٰہی عَزَّوَجَلَّ کو اختیار کیا،یہ ارادہ کرتے ہی اپنامقصد پالیتے ہیں، جب رات ہوتی ہے تو اپنے دامن کو پکڑلیتے اوراپنا محاسبہ کرتے ہیں، اور جب رشوت خور غائب ہوجاتے اور پہرہ دار سوجاتے ہیں تو یہ اپنے محبوبِ حقیقی عَزَّوَجَلَّ کے قرب کے لئے بے چین وبے قرار ہوکرتڑپنے لگتے ہیں۔اور جب صبح ہوتی ہے تو مسلسل آنسو بہاتے ہوئے کہتے ہیں :”کاش! رات نہ جاتی، کاش!
وہ ٹھہر جاتی، اے کاش! مشرق مغرب بن جاتا۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *