نہر میں غسل کرنے والے کی توبہ

نہر میں غسل کرنے والے کی توبہ

Advertisement

حضرت سیدنا کعب الاحباررضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ بنی اسرائيل کا شخص ايک فاحشہ عورت کے پاس آيا اور جب وہ غسل کرنے کے لئے نہر ميں اترا تو پانی سے آواز آئی:”اے فلاں !کيا تو حيا نہيں کرتا ،کيا تو نے اس گناہ سے توبہ نہ کی تھی اور کہا تھا کہ اب دوبارہ نہيں کریگا ۔”تو وہ شخص يہ آواز سن کر یہ کہتے ہوئے نہر سے نکل گيا ”ميں اللہ عزوجل کی نافرمانی نہيں کروں گا۔ ”پھر يہ ايک پہاڑ پر آيا جہاں بارہ آدمی اللہ عزوجل کی عبادت کر رہے تھے۔ يہ کچھ عرصہ ان کے ساتھ رہا ۔جب وہاں قحط نازل ہو گيا تو يہ لوگ وہاں سے اترے اور جڑی بوٹياں تلاش کرنے لگے ۔ اس دوران يہ اسی نہر کے پاس سے گزرے تو اس شخص نے کہا :”ميں تمہارے ساتھ نہيں جاؤں گا ۔”انہوں نے پوچھا : ”کيوں ؟” اس نے کہا :”وہاں کوئی ہے جو ميری ايک خطا کو جانتا ہے اور مجھے اس کے سامنے جاتے ہوئے شرم آتی ہے۔”تو يہ لوگ اسے چھوڑ کر چلے گئے ۔
نہر سے صدا آئی :”واہ!سبحان اللہ ،اگر تم ميں سے کوئی اپنے بيٹے يا کسی قريبی عزيز پر غصہ ہواور وہ توبہ کر کے تمہاری پسنديدہ بات کی طرف لوٹ آئے تو تم اس سے محبت کرنے لگو اور تمہارے اس ساتھی نے توبہ کر کے اپنی پسند سے رجو ع کر ليا ہے لہذا ميں بھی اس سے محبت کرتا ہو ں، جاؤ اس کو يہ بتا دو اور نہر کے کنارے پر اللہ عزوجل کی عبادت کرو۔”تو ان لوگوں نے آکر اسے بتايا اور يہ ان کے ساتھ وہاں آگيا اور ان سب
نے وہاں کافی عرصے تک عبادت کی۔

ahlesunnatsdotcom
ahlesunnatsdotcom

 

پھر اس شخص کا جب انتقال ہواتو اس کے ساتھيوں کو نہر نے آواز دی کہ ”اے عبادت گزارو اور زاہدو!اسے ميرے پانی سے غسل دے کر نہر کے کنارے دفن کر دو، تاکہ قيامت کے دن ميرے قريب سے اٹھے۔ ” انہوں ے ايسا ہی کيا اور کہنے لگے کہ آج کی رات ہم اس قبر کے پاس گزاريں گے اور جب صبح ہو گی تو چلے جائيں گے۔ چنانچہ يہ لوگ رات بھر اس قبر پر روتے رہے ۔جب صبح ہوئی تو ان پر اونگھ طاری ہو گئی ۔ جب انہيں ہوش آيا تو اللہ عزوجل نے اس کی قبر کے قریب بارہ ”سرو”کے پودے اگا دئيے تھے اور يہ پہلی مرتبہ تھی کہ زمين پر ”سرو”کا درخت لگا ۔يہ لوگ يہ ديکھ کر کہنے لگے کہ اللہ عزوجل نے اس جگہ ”سرو”کے پودے صرف اس ليے اگائے ہيں کہ اللہ عزوجل نے ہماری عبادت کو پسند کيا ہے ۔پھر يہ لوگ اسی قبر کے پاس اللہ عزوجل کی عبادت ميں مصروف ہو گئے اور جب ان ميں سے کوئی مر جاتا يہ اسے اس شخص کے پہلو ميں دفن کر ديتے حتی کہ ان سب کا انتقال ہو گيا ۔(کتاب التوابين ، تو بۃ صاحب فا حشۃ ،ص ۹۰)

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!