قیامت کا ڈر

قیامت کا ڈر
سلف صالحین کی عادات مبارکہ میں سے تھا کہ وہ جب قیامت کے ہولناک حالات سنتے تھے تو بہت ڈرتے تھے اور جب قرآن شریف سنتے تھے تو انہیں غشی ہوجاتی تھی ۔ رسول کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ایک روز یہ آیت پڑھی:
اِنَّ لَدَیْنَاۤ اَنْكَالًا وَّ جَحِیْمًاۙ(۱۲) وَّ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ وَّ عَذَابًا اَلِیْمًاۗ(۱۳) (پ۲۹، المزمل:۱۲تا۱۳)
اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے کہ ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور آگ ہے اور کھانا ہے گلے میں اٹکنے والااورعذاب ہے دکھ دینے والا، توحمران بن اعین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سن رہے تھے یہ آیت سنتے ہی غش کھا کرگرے اور وفات پاگئے ۔
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مما خوفہم من اھوال القیا مۃ، ص۶۰)
ایک دفعہ حضرت یزید رقاشی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ حضرت عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ

تَعَالٰی عَلَیْہِ کے پاس گئے تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے فرمایا کہ اے یزید! مجھے کوئی نصیحت کر ۔ حضرت یزید نے فرمایا: ’’اے امیر المؤمنین! تو وہ پہلا خلیفہ نہیں جو مرے گا یعنی تجھ سے پہلے خلفاء بھی فوت ہوگئے اور تو بھی فوت ہوجائے گا خلیفہ عمرنے رونا شروع کیا اور فرمایاکہ کچھ اور فرمائیے ۔ حضرت یزید رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے کہا کہ تیرے اور حضرت آدم علیہ السلام کے درمیان تیرے آباء میں سے کوئی زندہ نہیں ہے ۔ پھر خلیفہ روئے اوربہت روئے اور فرمایا کہ اور فرمائیے ۔ انہوں نے فرمایاکہ جنت اور دوزخ کے درمیان کوئی تیسرا مقام نہیں اس پرحضرت عمربن عبدالعزیزرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ روئے اور غش کھا کر گر پڑے۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، مماخوفہم من اھوال القیامۃ، ص۶۱)
حضرت حسن بن صالح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک بار اذان دیتے ہوئے جب اشہد ان لا الہ الا اللّٰہکہا تو غش کھا کر گر پڑے ۔ لوگوں نے ان کو منارہ سے اُتارا ۔ ان کے بھائی نے اذان دی اور نماز پڑھائی اور حسن بے ہوش تھے ۔ حضرت ابو سلیمان دارانی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ میں نے حسن بن صالح سے بڑھ کر خشوع و خضوع والا کوئی آدمی نہیں دیکھا ۔ ایک رات صبح تک سورہعم یتسآء لون کاہی تکرار کرتے رہے ۔ سورۂ مذکور پڑھتے تو غش ہوجاتا جب افاقہ ہوتا تو پھر وضو کرتے پھر پڑھتے پھر غش ہوجاتا اسی طرح کرتے کرتے آپ نے صبح کردی ۔(رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ )
(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم من اہوال القیامۃ، ص۶۱)
حضرت داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک عورت کو دیکھا کہ وہ اپنے کسی عزیز کی قبر پر رورہی تھی اور کہتی تھی: لیت شعری بای خدیک بدء الدودکاش !مجھے

معلوم ہوتا کہ قبر کے کیڑے نے تیرے کس رخسارہ کے کاٹنے میں ابتداکی ۔ حضرت داود طائی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ یہ الفاظ سن کر بے ہوش ہوکر گر پڑے ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم من اہوال القیامۃ، ص۶۱)
امیر المؤمنین حضرت عمربن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک دفعہ سورہ اِذَا الشَّمْسُ کُوِّرَتْکو پڑھنا شروع کیا جب
وَ اِذَا الصُّحُفُ نُشِرَتْﭪ (پ۳۰، التکویر:۱۰)
ترجمہ کنز الایمان : اور جب نا مۂ اعمال کھولے جائیں ۔
پر پہنچے تو غش کھا کر گرپڑے اور زمین پر بہت دیر تک لیٹے رہے ۔(تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم من اہوال القیامۃ، ص۶۱)
ف: ۔ جو لوگ حضرات صوفیہ رحمہم اللہ تَعَالٰی کے وجد وحال پر استہزاء کرتے ہیں وہ ان روایات پر غور کریں اور شیطانی وسوسوں سے بازآئیں ۔
حضرت ربیع بن خیثم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک قاری کو سنا وہ پڑھ رہا تھا:
اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا(۱۲) (پ۱۸، الفرقان:۱۲)
ترجمہ کنز الایمان : جب وہ انہیں دور جگہ سے دیکھے گی تو سنیں گے اسکا جوش مارنا اور چنگھاڑنا
آپ سنتے ہی بے ہوش ہو کر گرے ۔ لوگ ان کو اٹھا کر ان کے گھر لے گئے ۔ آپ کی نماز ظہر ، عصر ، مغرب، عشا فوت ہوگئیں کیونکہ آپ بے ہوش تھے ۔اور آپ ہی اپنے محلہ کے امام تھے ۔ ایک روایت میں ہے کہ پڑھنے والے حضرت عبداللہ بن مسعود تھے۔رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم من اہوال القیامۃ، ص۶۲)
حضرت وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام

جب اپنی لغزش یاد کرتے تو آپ کو غشی ہوجاتی اور آپ کے دل کی آواز ایک میل تک سنائی دیتی ۔ ایک دن حضرت جبرئیل علیہ السلام نازل ہوئے اور عرض کی کہ اللہ تَعَالٰی فرماتا ہے :ھل رأیت خلیلا یخاف خلیلہ کیا تونے کوئی دوست دیکھا ہے جو اپنے دوست سے ڈرتا ہو ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا:اذا ذکرت خطیئتی نسیت خلتی جب مجھے اپنی لغزش یاد آتی ہے تو خلت بھول جاتی ہے ۔ (احیاء علوم الدین، کتاب الخوف، بیان احوال الانبیاء…الخ، ج۴، ص۲۲۶)
حضرت فضیل بن عیاض رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک دن فجرکی نماز پڑھائی توآپ نے سورۂ یٰسٓ تلاوت کی جب آپ اس آیت پر پہنچے
اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ(۵۳) (پ۲۳، یٰسٓ:۵۳)
ترجمہ کنزالایمان : وہ تو نہ ہوگی مگر ایک چنگھاڑ جبھی وہ سب کے سب ہمارے حضور حاضر ہو جائیں گے۔
تو ان کا لڑکاعلی بے ہوش ہوکر گرا اور سورج طلوع ہونے تک اس کو افاقہ نہ ہوا ۔
حضرت علی بن فضیل رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جب کوئی سورت پڑھنے لگتے تو اسے ختم نہ کرسکتے اور سورۂ اذا زلزلتاور سورۃ القارعۃ تو سن ہی نہیں سکتے تھے ۔جب وہ فوت ہوئے تو ان کا باپ فضیل ہنسا لوگوں نے پوچھا تو فرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس کی موت کو پسند کیا تواللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پسند کرنے کے لئے میں نے پسند کیا۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم من اہوال القیامۃ، ص۶۲)
حضرت میمون بن مہران رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ حضرت سلمان فارسی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک شخص کو سنا کہ وہ پڑھ رہا تھا:

وَ اِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوْعِدُهُمْ اَجْمَعِیْنَ۫ۙ(۴۳) (پ۱۴، الحجر:۴۳)
ترجمہ کنزالایمان : اور بے شک جہنم ان سب کا وعدہ ہے ۔
یہ سن کر آپ نے چیخ ماری اور سر پر ہاتھ رکھ کر جنگل کی طرف نکل گئے ۔ (تنبیہ المغترین، الباب الاوّل، خوفہم من اہوال القیامۃ، ص۶۳)
حضرت امام حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ہنس رہا ہے فرمایا:اے جوان!کیا تو پل صراط سے گزر چکا ہے ؟ اس نے کہا نہیں ! فرمایا:کیا تجھے معلوم ہے کہ تیرا ٹھکانا جنت ہے یا دوزخ ؟ اس نے کہا :نہیں !فرمایا: پھر یہ ہنسنا کیسا ہے ؟ پھر وہ شخص کبھی ہنستا ہوا نہیں دیکھا گیا ۔(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجاء، بیان احوال الصحابۃ…الخ، ج۴، ص۲۲۷)
حضر ت سری سقطی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں کہ میں ہر روز اپنی ناک کو کئی بار دیکھتا ہوں اس خوف سے کہ میرا منہ سیاہ نہ ہوگیا ہو ۔(الرسالۃ القشیریۃ، باب فی ذکر مشایخ ہذہ الطریقۃ، ابوالحسن سری بن مغلس السقطی، ص۲۹)
اللہُ اَکْبَرْ ! یہ ہیں پیشوائے دین ۔ اللّٰھم اجعلنا منہم
حضرت زرارہ بن ابی اوفی نے فجر کی نماز پڑھی اور جب یہ آیت پڑھی:
فَاِذَا نُقِرَ فِی النَّاقُوْرِۙ(۸) (پ۲۹، المدثر:۸)
ترجمہ کنزالایمان : پھر جب صور پھونکا جائے گا۔
توبے ہوش ہوکر گرے جب آپ کو اُٹھایا گیاتو میّت پائے گئے۔
(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان احوال الصحابۃ…الخ، ج۴، ص۲۲۹)
بعض سلف جب آگ دیکھتے یا چراغ جلاتے تو جہنم کو یاد کرکے صبح تک روتے رہتے ۔

حضرت ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کو پوچھا گیا کہ خائفین کون ہیں ؟ فرمایا: جن کے دل بسبب خوف ایک پھوڑا سابن گئے ہیں اور ان کی آنکھیں روتی ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ جب موت ہمارے پیچھے ہے اور قبر ہمارے آگے اور قیامت ہمارے لئے وعدہ کی جگہ اور جہنم ہمارے لئے راستہ اور اللہ تَعَالٰی کے سامنے کھڑا ہونا ہے پھر ہم کیسے خوش ہوسکتے ہیں ۔
(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان احوال الصحابۃ…الخ، ج۴، ص۲۲۷)
حضرت ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایک جانور کو دیکھ کر فرمایا:’’یالیتنی مثلک یا طائر ولم اخلق بشراً ‘‘ کاش میں پرندہ ہوتا (تو عذاب سے مامون ہوتا) اور بشر نہ ہوتا۔
(احیاء علوم الدین، کتاب الخوف والرجائ، بیان احوال الصحابۃ…الخ، ج۴، ص۲۲۶)
حضرت ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے تھے کہ میں دوست رکھتا ہوں کہ میں درخت ہوتا جو کاٹا جاتا۔
(کتاب الزھد للامام احمد بن حنبل، زھد ابی ذ ر رضی اللہ عنہ، الحدیث:۷۸۸، ص۱۶۹)
دوستو !سلف صالحین کی طرف خیال کروو ہ کس قدر خوف الٰہی رکھتے تھے ۔ اب تم اپنے حالات پر غور کرو کیا تمہیں کبھی آیاتِ عذاب سن کر رونا آیا ہے؟ کبھی خوفِ الٰہی سے غش ہوا ہے ؟کبھی کلامِ الٰہی سن کر تمہارے بدن کے رونگٹے کھڑے ہوئے ہیں ؟ اگر نہیں تو قساوتِ قلبی کا علاج کرواور کسی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مقبول کی غلامی اختیار کرکے اس سے اپنے امراضِ باطنیہ کا علاج کراؤ ۔ اللہ تَعَالٰی اپنے شفا خانۂ حقیقی سے تجھے شفا عنایت کرے گا اور ضرور کرے گا کہ اس کا وعدہ سچاہے ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *