غزوۂ تبوک

غزوۂ تبوک

یہ غز وہ ماہِ رجب میں پیش آیا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ مدینہ میں یہ خبر پہنچی کہ رومیوں اور عیسا ئی عربوں نے مدینہ پر حملہ کر نے کے لئے بڑی فوج تیار کر لی ہے۔ اس لئے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اہل مکہ اور قبائل عرب سے جانی ومالی امداد طلب کی۔اس وقت سخت قحط اور شدت کی گرمی تھی۔ اسی وجہ سے اس غز وہ کو غز وۃ العُسْرَۃ بھی کہتے ہیں ۔ سورۂ تو بہ میں ہے: ’’ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ فِیْ سَاعَةِ الْعُسْرَةِ ‘‘ (1 ) جو لشکر اس غز وہ کے لئے تیار کیا گیا اسے جیش العُسْرَۃ کہتے ہیں ۔ اس جیش کی تیاری میں حضرت عثمان غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے خصوصیت سے حصہ لیا۔ حضرت ابو بکر صدیق وعمر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے بھی بڑے ایثار کا ثبوت دیا۔ غرض رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تیس ہزار کی جمعیت کے ساتھ مدینہ سے روانہ ہوئے۔ راستہ میں جب سر زمین ثمود میں اتر ے تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے اصحاب سے فرمایا (2 ) کہ یہاں کے کوؤں کا پانی نہ لینا اور نہ وہ پانی پینا۔ انہوں نے عرض کیاکہ ہم نے پانی لیا ہے اور اس سے آٹا گوندھا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ پانی گرادواور آٹا اونٹوں کو کھلا دو۔ جب آپ حجر یعنی ثمود کے مکانات میں سے گزرے جو پہاڑوں کو تراش کر بنا ئے ہوئے تھے تو فرمایا (3 ) کہ ان معذبین کے مکانات سے روتے ہوئے گز رنا چاہیے کہ مبادا ہم پر بھی وہی عذاب آئے۔ پھر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی چادر سے منہ چھپا لیا اور اس وادی سے جلدی گز رگئے۔
جب آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم حجر سے روانہ ہوئے تو راستے میں ایک جگہ آپ کا ناقہ گم ہوگیا۔ زید بن لُصَیْت (4 ) قینقاعی منافق کہنے لگا: ’’ محمد نبوت کا دعویٰ کر تا ہے اور تم کو آسمان کی خبر دیتا ہے حالانکہ وہ اتنا بھی نہیں جانتا کہ اس کا ناقہ کہاں ہے۔ ‘‘ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو باطلاعِ الٰہی یہ معلوم ہوگیا۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ

وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ فرمایا: ’’ ایک منافق ایسا ایسا کہتا ہے خدا کی قسم! میں وہی جانتاہوں جو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے بتادیا۔ چنانچہ خدا عَزَّوَجَلَّ نے مجھے ناقہ کا حال بتا دیا ہے۔ وہ فلاں دَرَّہ میں ہے اس کی نکیل ایک درخت میں پھنسی ہوئی ہے اس سبب سے وہ رکاہوا ہے، تم جاکر لے آؤ۔ ‘‘ بتعمیل ارشاد مبارک ناقہ اس دَرَّہ میں سے لا یا گیا۔ حضور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ارشاد مبارک کے وقت حضرت عَمَّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ موجود تھے۔ منا فق مذکور حضرت عَمَّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہی کے ڈیر ے میں تھا۔ حضرت عَمَّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ اپنے ڈیرے میں واپس آکر کہنے لگے کہ رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ابھی ہم سے باطلاع الٰہی عجیب ماجرا بیان فرمایاکہ ایک شخص ایسا ایسا کہتا ہے۔ عَمَّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے بھائی عمرو بن حزم نے کہاکہ تمہارے آنے سے پہلے زید بن لُصَیْت نے ایسا ہی کہا ہے۔ یہ سن کر حضرت عَمَّارہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے زید کی گردن لکڑی سے ٹُھکادی اور کہا: ’’ اودشمن خدا! میرے ڈیر ے سے نکل جا، میرے ساتھ نہ رہ۔ ‘‘ کہا گیا ہے کہ زید مذکور بعد میں تائب ہو گیا تھا۔ (1 )
حجر سے تبوک چار منزل ہے۔ وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ وہ خبر غلط تھی۔ تبوک میں بیس روز آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا قیام رہا۔ اہل تبوک نے جزیہ پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے صلح کر لی۔ اَیلہ (2 ) کا نصرانی سر دار یُوحَنَّہ بن رُؤ ْبہ حاضر خدمت اقدس ہوا۔ اس نے تین سودینار سالا نہ جزیہ پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے صلح کرلی اور ایک سفید خچر پیش کیا۔ آپ نے ایک چادر اسے عنا یت فرمائی۔جَرْبا واَذْرُح (3 ) کے یہود یوں نے بھی جزیہ پر صلح کر لی۔
تبوک ہی سے آنحضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو چار سو سو اروں کا دستہ دے کر اُکَیْد ِر بن عبد المالک کِنْدِی نصر انی سر دار دُومَۃُ الجُندَل کے زیر کر نے کے لئے بھیجااور فرمادیا کہ تم اُکَیْد ِر کو نیل گا ئے (4 ) کا شکار کر تے پاؤگے۔ اُکَیْد ِر دُومَۃُ الجُندَ ل کے قلعہ میں رہا کر تا تھا جب حضرت خالد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ قلعہ کے پاس پہنچے تو ایک عجیب واقعہ پیش آیا، چاند نی رات تھی کہ ایک نیل گائے جنگل سے آکر قلعہ کے دروازے
پر سینگ مارنے لگی اُکَیْد ِر اس کے شکار کے لئے قلعہ سے اتر آیا۔ اَثنائے شکار میں حضرت خالدکے دستہ نے اس پر حملہ کیا اور گر فتار کر کے مدینہ میں لے آئے۔ اس نے بھی جزیہ پر صلح کرلی۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!