شام کا دوسرا سفر

شام کا دوسرا سفر

Advertisement

جب حضرت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عمر مبارک پچیس سال کی ہوئی تو آپ کے صدق وامانت کا شہرہ
دور دور تک پہنچ چکا تھا کہ زبانِ خَلْق نے آپ کو امین کا لقب دے دیا تھا یہ دیکھ کر حضرت خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جو ایک معزز مالدار خاتون تھیں آپ کے پاس پیغام بھیجاکہ آپ میرا مال تجارت لے کر شام کو جائیں جو معاوضہ میں اوروں کو دیتی ہوں آپ کو اس کا مُضاعَف (دُگنا) دوں گی۔حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے قبول فرمایا اور مال تجارت لے کر شام کو روانہ ہوئے۔ حضرت خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا کا غلام مَیْسَرَہ آپ کے ساتھ تھا جو آپ کی خدمت کرتا تھا اور آپ کی ضروریات کا مُتکَفِّل (1) تھا۔جب آپ شام میں پہنچے تو بازار بصریٰ میں ایک راہب نَسْطُورا نام کی خانقاہ کے نزدیک اترے۔ وہ راہب مَیْسَرَہ کی طرف آیا اور اسے جانتا تھا، کہا: ’’ اے مَیْسَرَہ ! یہ کون ہے جو اس درخت کے نیچے اتر اہے۔ ‘‘ مَیْسَرَہ نے کہا: اہل حرم میں سے قریش سے ہے۔ راہب نے کہا: سوائے نبی کے اس درخت کے نیچے کبھی کوئی نہیں اترا، پھر اس نے پوچھا: کیا اس کی دونوں آنکھوں میں سرخی ہے؟ مَیْسَرَہ نے جواب دیا: ہاں اور کبھی دور نہیں ہوتی۔ یہ سن کر راہب بولا: ’’ یہ وہی ہیں اور یہی آخر الانبیاء عَلَیْہِمُ السَّلَام ہیں ، کاش! میں ان کو پاؤں جس وقت یہ مبعوث ہوں گے۔ ‘‘ اور مَیْسَرَہ سے کہا کہ ’’ ان سے جدانہ ہو نا اور نیک نیتی سے ان کے ساتھ رہناکیونکہ اللّٰہ تعالٰی نے ان کو نبوت کا شرف عطا کیا ہے۔ ‘‘ حضرت بازارِ بصریٰ میں خرید وفروخت کر کے مکہ واپس آئے جب حضرت خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جو عورتوں کے درمیان ایک بالا خانے میں بیٹھی تھی آپ کو آتے ہوئے دیکھا تو دوفرشتے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سرمبارک پر دھوپ سے سایہ کیے ہوئے تھے۔ مَیْسَرَہ نے حضرت خدیجہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے بیان کیاکہ میں نے تمام سفر میں آپ کا یہی حال دیکھا ہے اور اس راہب کے قول ووصیت کی خبردی۔اللّٰہ تعالٰی نے اس تجارت میں مُضَاعَف (2) نفع دیا۔ حضرت خدیجہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے جو د یکھا اور سنا اس سے ظاہر ہو گیا کہ آپ بیشک ساری مخلوق کی طرف اللّٰہ کے بھیجے ہوئے ہیں ۔ (3)

________________________________
1 – ذمہ دار۔
2 – دُگنا۔
3 – السیرۃ الحلبیۃ،باب سفرہ الی الشام ثانیاً،ج۱،ص۱۹۳۔۱۹۶ملتقطاً علمیہ۔

Advertisement

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!