Our website is made possible by displaying online advertisements to our visitors. Please consider supporting us by whitelisting our website.

حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ

حضرت ابوطلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ

یہ قبیلۂ انصار کے خاندان بنو نجارمیں سے تھے ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ حضرت بی بی ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہانے بیوہ ہوجانے کے بعد ان سے نکاح کرلیا تھا۔ یہ بہت ہی مشہور تیرانداز اورنشانہ باز تھے ۔ ان کے بارے میں حضوراکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم نے ارشادفرمایا تھا کہ لشکر میں ابو طلحہ کی ایک للکار ایک ہزارسواروں سے بڑھ کر رعب دار ہے ۔ یہ حضور اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے ہجرت فرمانے سے قبل ہی حج کے موقع پر منیٰ کی گھاٹی میں اپنے سترساتھیوں کے ساتھ حضور

اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم سے بیعت اسلام کر کے مسلمان ہوگئے تھے ۔ پھر جنگ بدر وجنگ احد اوراس کے بعد کی تمام اسلامی لڑائیوں میں انتہائی جذبہ ایمانی اورجوش اسلامی کے ساتھ جہاد کرتے رہے اوربڑے بڑے مجاہدانہ کارناموں کا مظاہر ہ کر کے اور اسلامی خدمات کے شاہکار پیش کر کے ۳۱ھ؁ میں ستتر برس کی عمر میں راہی ملک بقا ہوئے ۔ (1)(اکمال ،ص۶۰۱وکنزالعمال،ج۱۲،ص۲۷۷)

کرامت
لاش خراب نہیں ہوئی

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ راوی ہیں کہ ایک دن بڑھاپے میں حضرت ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سورۂ براء ت کی تلاوت کر رہے تھے جب اس آیت پر پہنچے اِنْفِرُوْا خِفَافًا وَّثِقَالًا(2) تو آپ نے فرمایا کہ اے میرے بچو!مجھے تم لوگ جہاد کا سامان دو کیونکہ میرا رب جوانی اور بڑھاپے دونوں حالتوں میں مجھے جہاد کا حکم فرماتا ہے ۔ ان کے بیٹوں نے کہا کہ آپ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام اورحضرت ابوبکرصدیق وحضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے دو ر میں تمام جہادوں میں شرکت کی سعادت حاصل کرلی ہے اب آ پ بوڑھے ہوچکے ہیں اس لئے اب جہاد میں نہ جائیے ہم لوگ آپ کی طرف سے جہاد کر رہے ہیں اورکرتے رہیں گے۔ مگر یہ کسی طرح بھی گھر بیٹھنے پر راضی نہیں ہوئے اورجہاد کا سامان جمع کر کے جہاد میں جانیوالی ایک کشتی پر

سوار ہوکر جہاد کے لیے روانہ ہوگئے ۔ خدا کی شان کہ اس کشتی ہی پر ان کی وفات ہوگئی۔ اتفاق سے ان کی قبر کے لیے سمندر میں کوئی جزیرہ بھی نہیں ملا، سات دنوں تک کشتی میں آپ کی لاش مبارک رکھی رہی، ساتویں دن سمندر میں ایک جزیرہ ملاتو آپ اس جزیرہ میں مدفون ہوئے۔ سات دن گزرنے کے باوجود آپ کے جسم اطہر پر کسی قسم کا کوئی تغیر رونما نہیں ہوا تھا۔ (1)(استیعاب لابن عبدالبر،ج۱،ص۵۵۰)

تبصرہ

اللہ اکبر!یہ جذبہ ایمانی اورجوش جہاد، اے آسمان! بتا!اے سورج ! بول! کیا تم نے زمین کے بے شمار چکر کاٹنے کے باوجود زمین پر اس کی کوئی مثال دیکھی ہے؟ یہ ہیں میرے پیارے رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ وسلم کے پیارے صحابی کے لاثانی شاہکار۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

error: Content is protected !!